ضمیر عالم۔۔ کشمیر بابت پاکستانی موقف سے ہم آہنگ پوری دنیا عمران خان کے وژن کی گرویدہ ہو رہی ہے

  • پچھلے ستر سال سے پاکستان میں برسر اقتدار رہنے والے روائتی بالادست طبقوں نے اپنے گروہی اور طبقاتی مفادات کو اہمیت دیتے ہوئے قومی مسائل بشمول مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈالے رکھا۔ اس مجرمانہ غفلت سے بھارت نے خوب فائدہ اٹھایا۔ آئین کی آڑ میں اس کی 5اگست کی غیر آئینی دہشت گردی بھی اسی شیطانی سلسلے کی ایک کڑی تھی

یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔
ستر سال سے سرد خانے میں پڑے مسئلہ کشمیر کو پھر سے زندہ کر دیا گیا۔
پاکستانی موقف کی قبولیت اور پذیرائی سارے عالم میں جاری،
عمران خان لاریب پاکستانی قوم کے ایک بطلِ جلیل اور رجلِ رشید ہیں۔ جنہوں نے بظاہر ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ ملک پر پچھلے سات عشروں سے اقتدار پر قابض چند محترم استثناو¿ں کے ساتھ جرائم پیشہ مافیاز نے قومی مفادات کو جس بری طرح روند کر ہمیشہ ذاتی، جماعتی اور طبقاتی مفادات کو اولیت و اہمیت دی اس کے سبب سے ملک کو درپیش بیشتر قومی اور بین الاقوامی نوعیت کے مسائل ع معاملات سرد خانوں کی بھینٹ چڑھتے رہے۔ مسئلہ کشمیر بھی انہی میں سے ایک تھا۔
ان مقتدر مافیاز کی عیاریوں، مکاریوں اور چالاکیوں کی مظہر صرف ایک مثال کو سامنے رکھ لیجئے۔ زرداری لیگ اور نواز لیگ اور اس میں بے نظیر عرصہ اقتدار بھی چامل کر لیجئے تو ان ادوار کے تیرہ سال تک پارلیمانی امور خارجہ کمیٹی اور پارلیمانی غنڈے اور موساد کے کارندے کرتے ہیں۔ پیلٹ بلٹ جیسے مہلک ہتھکنڈے اسرائیلیوں اوربھارتی فوجیوں کی دریافت ہیں اس سفاکیت کے نتیجے میں اس وقت تک لگ بھگ تین ہزار سے زیادہ کشمیری حریت پسندی نوجوان بصارت کی نعمت سے محروم ہو چکے ہیں مگر اس ظلم کے باوجود نوجوان کشمیری خون میں رچے بسے آزادی کے جوش و جذبے کو ماند نہیں کیا جاسکا۔
13فروری کو پلوامہ کے ڈرامے کے نتیجے میں بر صغیر میں بھارت نے عسکری جارحیت کا جو بازار گرم کیا اس کا خیال تھا وہ اس سے پاکستان کو زچ کر کے رکھ دے گا مگر بھارت کو الٹا لینے کے دینے پڑ گئے۔27فوری کا دن بھارت کبھی بھول نہ سکے گا۔جب اس کی جارحانہ دہشتگردی کے جواب میں پاکستان ایئرفورس کے دو تھنڈر لڑاکا طیاروں نے اس کی دو فضائی چمگادڑوں کو فضا ہی میں بھسم کر دیا تھا۔ ان میں سے ایک کا پائلٹ زندہ گرفتار کر لیا گیا تھا جسے پاکستاننے خطے میں فروغ امن کے جذبے کے تحت رہا کر دیا تھا۔
پاکستان کے اس جذبہ خیر سگالی کو پوری دنیا میںسراہا گیا اور افواج عالم کے ایک بڑے حصے نے بھارتی جارحیت کو خوب برابھلا کہا۔
پلوامہ کی خفت مٹانے کے لئے ہندو بنیا مسلسل کسی ایسے دارو¿ پیچ کی تلاش میں تھا جس کے ذریعے وہ ایک طرف کشمیر میں جاری جہد آزادی کو کچل دے اور دوسرے وہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سفارتی تنہائی میں مبتلا کر دے۔ مگر اسے انہیں پتہ تھا کہ اس نے کس قوم سے پنگا لے لیا ہے۔
5اگست کو بھارتی پارلیمنٹ میں جونہی وزیر داخلہ امیت شانے مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کرنے کے لئے بھارتی آئین کی شق370اور 35اے کی تنسیخ کا بل منظور کرایا عین اس لمحے حکومت پاکستان، وزارت خارجہ اور وزیر اعظم ہاو¿س میں موجود ہر ذمہ دار محترک ہو چکا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان خود صبح شام آفس میں موجود رہتے ہوئے اپنے وژن کے مطابق تمام متعلقہ اداروں اور اعلیٰ ذمہ داران کو ہدایات دیتے رہے ۔ اس دوران انہوں نے ابتدا میں دوست ممالک بشمول ترکی، سعودی عرب، ملائیشیا، چین ، یو اے ای، برطانیہ ، فرانس اور امریکہ سے اپنے رابطوں کومزید موثر بنانا شروع کر دیا۔ جیسا کہ صاحبان علام آگاہ ہیں کہ سفارتی آداب کے مطابق معاملات ایک خاص طریقے سلیقے سے ہی آگے بڑھائے جاتے ہیں۔ مقام اطمینان ہے کہ ہمارے وزیر اعظم کی متانت، دیانت اور اصابت نے دنیا کے ہر اہم رہنما کو متاثر کیا اور اب عالم یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے لے کر امریکی صدر ٹرمپ اور ملائشیا، چین ، سعودی عرب اور مشرق وسطی کی تمام ریاستوں کے شیوخ نے اپنے بیانات میں پاکستانی موقف کی صداقت اور اصابت کی تائید وحمایت کی ہے ، اور ہر طرف سے مودی سرکار پر اس امر کے لئے دباو¿ بڑھتا جارہا ہے کہ اس نے یک طرفہ طور پر آئین آڑ میں جس غیر ٓائینی اقدام کا ارتکاب کیا ہے اسے فوراً واپس لے۔ مقبوضہ کشمیر کی مسلمہ طور پر متنازعہ حیثیت کو حسب سابق برقرار رکھا جائے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جائے۔
ایک معین مفہوم میں ضمیر علام کی یہ آواز حق و سچ کی بڑی فتح ہے اور اس کا تمام تر کریڈٹ عمران خان کے وژن اور عوامی امنگوں کی ترجمان ان کی حکومت کو جاتا ہے۔۔۔۔

Scroll To Top