قدیم ترین کہکشاؤں کی دریافت: کائناتی نظریات کےلیے نیا چیلنج

ہبل ڈِیپ فیلڈ، ویری لارج ایرے اور ’’ایلما‘‘ سے حاصل شدہ ڈیٹا کی مدد سے یہ حیرت انگیز دریافت ممکن ہوئی ہے۔ (فوٹو: یونیورسٹی آف ٹوکیو)

ہفت روزہ تحقیقی جریدے ’’نیچر‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ تفصیلات کے مطابق، یہ کہکشائیں لگ بھگ 11 ارب 80 کروڑ سال قدیم ہیں اور ہم سے تقریباً اتنے ہی نوری سال فاصلے پر موجود تھیں۔ (جی ہاں! یہاں ’’تھیں‘‘ جان بوجھ کر استعمال کیا گیا ہے کیونکہ آج ان کی جو روشنی ہم تک پہنچ رہی ہے وہ تقریباً بارہ ارب سال پہلے چلی تھی؛ اور شاید آج ان کہکشاؤں کا کوئی وجود بھی نہ ہو۔)

ان کہکشاؤں کو دیکھنا بے حد مشکل ہے کیونکہ ایک طرف تو ان سے ہم تک پہنچنے والی روشنی بے حد مدھم ہے جبکہ دوسری جانب کائناتی پھیلاؤ کی وجہ سے اس روشنی کا طول موج (wavelength) بھی بڑھتے بڑھتے اتنا زیادہ ہوچکا ہے کہ سب ملی میٹر سے مِڈ انفراریڈ کی حدود میں آچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک یہ کہکشائیں ہماری نظروں سے اوجھل رہی تھیں جبکہ ان کی دریافت بھی تفصیلی اور باریک بینی سے کیے گئے تجزیئے کے بعد ہی ممکن ہوسکی ہے۔

یہ اہم دریافت یونیورسٹی آف ٹوکیو کے فلکیات دان پروفیسر ڈاکٹر ٹاؤ وانگ کی سربراہی میں ماہرین کی ایک عالمی ٹیم نے کی ہے جس میں جاپان کے علاوہ چین، تائیوان، فرانس اور برطانیہ کے ماہرینِ فلکیات شامل تھے۔

ان کہکشاؤں میں ستاروں کی تعداد نہ صرف بہت زیادہ ہے بلکہ یہ ستارے بہت کم جگہ میں سمائے ہوئے بھی ہیں۔ علاوہ ازیں، ان کہکشاؤں میں نئے ستارے بننے کی شرح بھی ہماری ملکی وے کہکشاں کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ ہے۔ تازہ ترین اندازوں کے مطابق ہماری کہکشاں میں ہر سال اوسطاً 7 سے 8 نئے ستارے وجود میں آتے ہیں؛ یعنی ان نئی اور دور افتادہ کہکشاؤں میں یہ شرح 700 سے 800 کے درمیان ہوسکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کہکشاؤں میں ستاروں کی تعداد نہ صرف بہت زیادہ ہے بلکہ ان ستاروں کا ایک دوسرے سے فاصلہ بھی بہت کم ہے۔

یہ تمام کہکشائیں گرد و غبار کے بڑے بڑے بادلوں میں لپٹی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے بہت معمولی روشنی ہی وہاں سے فرار ہوسکتی ہے۔ ایسا صرف بڑی کہکشاؤں ہی میں دیکھا گیا ہے جن کے بیچوں بیچ بہت ہی بڑے (سپر میسیو) بلیک ہولز موجود ہوں، جبکہ ان میں تاریک مادّے (ڈارک میٹر) کی مقدار بھی بہت زیادہ ہو۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو کہکشاں جتنی زیادہ بڑی ہوگی، اس کے قلب میں اتنی ہی زیادہ کمیت رکھنے والا ’’سپر میسیو‘‘ بلیک ہول موجود ہوگا۔

اب تک کائناتی ارتقاء کے بارے میں جتنے بھی جدید ترین نظریات ہیں، ان سے یہ تو پتا چلتا ہے کہ کہکشائیں بننے کا عمل، بگ بینگ کے فوراً بعد شروع ہوگیا تھا، لیکن ایسے کسی بھی نظریئے میں اتنی بڑی اور گرد و غبار میں لپٹی ہوئی کہکشاؤں کی کوئی پیش گوئی موجود نہیں۔ حالیہ دریافت سے ہم آہنگ کرنے کےلیے ہمیں ان نظریات میں بھی خاصی ترمیم کرنا ہوگی۔

ایک اور دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ مذکورہ دور افتادہ کہکشائیں اگرچہ تعداد میں بہت زیادہ (39) ہیں لیکن یہ آسمان کے بہت ہی چھوٹے سے حصے میں دریافت ہوئی ہیں جسے ہم آسمان پر ایک بڑے نقطے کی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ اسی بات کو بنیاد بناتے ہوئے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ آسمان کے ہر مربع ڈگری رقبے میں ایسی 530 قدیم ترین اور دور افتادہ کہکشائیں موجود ہوسکتی ہیں۔

اب اگر اسی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے حساب لگایا جائے تو معلوم ہوگا کہ ایک کرے (sphere) میں مجموعی طور پر 41,253 مربع ڈگری ہوتے ہیں۔ لہذا پورے آسمانی کرے پر انتہائی قدیم اور عین ابتدائے کائنات کے زمانے سے تعلق رکھنے والی کہکشاؤں کی مجموعی تعداد 21,864,090 (دو کروڑ 18 لاکھ 64 ہزار اور 90) ہوسکتی ہے۔

اپنے آپ میں حیرتوں کا ایک سمندر سموئے ہونے کے باوجود، ماہرین اس دریافت کو مزید بہتر بنانے کی کوششوں میں ہیں جس کےلیے وہ ’’جیمس ویب ٹیلی اسکوپ‘‘ سے استفادہ کرنے کا سوچ رہے ہیں، جسے 2021 تک خلا میں بھیجا جائے گا اور جو ہبل خلائی دوربین کی جگہ لے گی۔

کچھ بھی کہیے، لیکن ہر نئی دریافت کے ساتھ اسرارِ کائنات کا سلسلہ دراز تر ہوتا جارہا ہے اور ہماری حیرت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

Scroll To Top