کراچی مشرقی پاکستان نہیں 15-07-2015

اگر الطاف حسین کے حالیہ بیانات بغاوت اور غداری کے زمرے میں نہیں آتے تو پھر یہ جاننا ضروری ہوگا کہ ” بغاوت اور غداری اور ہوتی کیا ہے ۔؟“
وقت آگیا ہے کہ مملکتِ خداداد پاکستان اپنی عملداری کا تحفظ پوری قوت کے ساتھ کرے اور جو عناصر اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لئے اپنے زور بازو سے کام لینے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں انہیں فیصلہ کن انداز میں سبق سکھا دیا جائے۔
بیانات کا جواب محض بیانات سے دینے سے بات نہیں بنے گی۔ اگر میاں نوازشریف کی حکومت سمجھتی ہے کہ چوہدری نثار علی خان کا بیان یا خواجہ آصف کا انتباہ الطاف حسین کے ارادوں کو کچلنے کے لئے کافی ہوگا تو یہ افواج پاکستان کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ کون نہیں جانتا کہ الطاف حسین کافی دنوں سے فوج کے خلاف زہرا گل رہے ہیں۔ اور بعض بیانات میں تو انہوں نے اپنے کارکنوں کو عسکری تربیت تک حاصل کرنے کی ترغیب بھی دے ڈالی ہے۔
یہ درست ہے کہ الطاف حسین ہمارے قانون کی پہنچ سے دور بیٹھے ہیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ حکومتِ پاکستان نے سرکاری طور پر آج تک برطانوی حکومت سے اس بات پر احتجاج نہیں کیا کہ اس کا ایک شہری لندن میں بیٹھ کر کراچی کے عوام کو بغاوت پر اکسارہا ہے۔
اب چوہدری نثار علی خان نے اس ضمن میں مناسب قدم اٹھانے کے ارادے کا اظہار کردیا ہے۔ لیکن صرف ارادے کے اظہار سے قدم نہیں اٹھ جایا کرتا۔ اب قدم سچ مچ اٹھانا ہوگا۔ اور جو عناصر سقوطِ مشرقی پاکستان کی مثال دے کر ہمیں ڈرانے کی کوشش کررہے ہیں ان پر یہ واضح کردینا ضروری ہوگیا ہے کہ کراچی اور باقی پاکستان کے درمیان ایک دشمن ملک کا پھیلا ہوا ہزار میل کا رقبہ نہیں۔
موجودہ پاکستان ایک جغرافیائی وحدت ہے اور اس کے کسی بھی حصے میں اٹھنے والی شورش کو چند گھنٹوں میں آ ہنی قوت کے ساتھ کچلا جاسکتاہے۔

Scroll To Top