قومی اسمبلی : اپوزیشن اراکین کا شدید شورشرابہ ،ایوان مچھلی منڈی میں تبدیل

  • شہباز شریف اور خواجہ آصف مریم نواز کی گرفتاری پر حکومت پر برس پڑے ،وزراء شفقت محمود اور علی محمد خان کا بھرپور جواب
  • جعلی اکاو¿نٹس، منی لانڈرنگ سابق حکمرانوں نے کی ان سے حساب کیوں نہ لیا جائے،حکومتی اراکین کا حزب اختلاف کو جواب

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے شدید شورشرابہ کے باعث ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کر نے لگا ،مسلم لیگ (ن)کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور خواجہ محمد آصف مریم نواز کی گرفتاری پر حکومت پر برس پڑے جس پر وفاقی وزیر شفقت محمود اور وزیر مملکت علی محمد خان نے اپوزیشن کو بھرپور جواب دیا ، حکومتی اور اپوزیشن اراکین ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے ،ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری اراکین کو اپنی نشستوں پر بیٹھنے اور خاموش رہنے کی ہدایت کرتے رہے تاہم اراکین نے نعرے بازی کا سلسلہ جاری رکھا۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کااجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی زیر صدارت ہوا ۔ اجلاس کے دور ان اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے مریم نواز کی گرفتاری پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ ایک مرتبہ پھر لیگی رہنماو¿ں کی گرفتاری ثابت کرتی ہے کہ نیب اور نیازی کا گٹھ جوڑ ہے۔ شہباز شریف کی تقریر کے دور ان چند حکومتی ارکان کی جانب سے نعرے بازی بھی کی جارتی رہی تاہم ڈپٹی اسپیکر نے اراکین کو خاموش رہنے کی ہدایت کی ۔ شہباز شریف کی تقریرکے جواب میں جب شفقت محمود نے اپنی تقریر شروع کی تو مسلم لیگ (ن)کے اراکین نے ”مک گیا تیرا شو نیازی ‘گو نیازی گو نیازی “ کے نعرے لگائے ۔ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی ہدایت کو نظر انداز کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی کا سلسلہ جاری رکھا ۔ شفقت محمود کی تقریر کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے مسلم لیگ (ن)کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف کو مائیک دیا تو حکومتی ارکان نے شدید ہنگامہ آرائی شروع کر دی ،ڈپٹی اسپیکر کی ہدایت کے باوجود حکومتی ارکان مسلسل نعرے بازی کرتے رہے جواب میں اپوزیشن ارکان نے بھی نعرے بازی شروع کر دی ۔حکومت ارکان ”گلی گلی میں شور ہے، مریم کا بابا چور ہے “ کے نعرے لگائے اس پر اپوزیشن ارکان نے جوابی نعرے لگائے کہ گلی گلی میں شور ہے، عمران نیازی چور ہے ۔ اس موقع پر لیگی رکن اسمبلی خواجہ آصف نے کہاکہ ہم بھی بول سکتے ہیں، اگر یہ نہیں سنیں گے تو ہم بھی بولنے نہیں دیں گے۔انہوںنے کہاکہ ہم حکومت کی کارروائیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے انہوںنے کہاکہ نوازشریف نے قرضوں اور دہشت گردی کا رونا نہیں رویا۔ انہوںنے کہاکہ ملک کو مہنگائی اور دہشت گردی سے پاک کیا۔خواجہ آصف نے کہاکہ اس وقت قوم کا اتحاد پارہ پارہ ہے، ایسے حالات میں آپ بھارت کا مقابلہ کیسے کرینگے ،اس وقت مریم نواز، شاہد خاقان، رانا ثناء اللہ کو گرفتار کیا جاچکا ہے ،میاں نواز شریف اور انکے تینوں بھائیوں کے بچے بھی گرفتار کرلئے گئے ہیں ،بتایا جائے مریم نواز کا کیا قصور ہے؟ ۔ حکومتی بینچوں سے آوازیں لگائی گئیں کہ مریم نواز چور ہے۔انہوںنے کہاکہ یہاں تقریر کرنے والا شہباز شریف کا نوکر رہا ہے ،وہ لاکھوں پاو¿نڈ میاں شہباز شریف سے تنخواہ لیتا رہا، آج وہ اپوزیشن لیڈر کے خلاف تقریر کررہے تھے ۔ انہوںنے کہاکہ اس وطن عزیز میں فارن فنڈنگ کا کیس کیوں نہیں چلتا، الیکشن کمیشن میں کیوں زیر التوا ہے ؟جعلی اکاو¿نٹس، منی لانڈرنگ حکمرانوں نے کی ہوئی ہے، ان سے حساب کیوں نہیں لیا جارہا، کیا احتساب صرف ہمارے لئے ہے؟۔ بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے وزیر مملکت علی محمد خان کو مائیک دیا گیا تو وزیرمملکت علی محمد کی تقریر کے دوران بھی حکومتی ارکان نے ن لیگ کے خلاف نعرے بازی جاری رکھی اس دور ان اپوزیشن ارکان بھی اپنی نشستوں سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور نعرے بازی کا سلسلہ تیز کر دیا ۔ علی محمد خان نے کہاکہ افسوس مقبوضہ کشمیر میں صورتحال تشویشناک ہے اور ہم یہاں ذاتیات پر اتر آئے ہیں ،یہ ایوان قوم کا نمائندہ ہے، یہاں عوام کی نمائندگی کی بجائے اپنے گرفتار افراد کا رونا نہ روئیں ۔ انہوںنے کہاکہ چند سال پہلے دہشتگرد نریندر مودی کو کس نے پاکستان بلایا تھا، کیا عمران خان نے بلایا تھا؟ قوم کو پہچان لے کہ کون پاکستان کے پرچم کے ساتھ کھڑا ہے اور کون اپنی ذاتی سیاست کررہا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بتائیں آپ پر جو کیسز ہیں کیا وہ کرپشن کے نہیں، کیا عدالتیں آزاد نہیں ہیں؟ اس ایوان کو پاکستان کی امانت سمجھتے ہوئے اسی خاطر استعمال کیا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ مشترکہ اجلاس میں ایک سابق صدر نے فیڈریشن کو جوڑنے کی بجائے ہجرت کرنے والوں پر اعتراض کیا ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان جب بنا تو اس کی قربانی انہی نے دی جنہوں نے ہجرت کی، سنت نبوی ادا کی ۔ انہوںنے کہاکہ مہاجر بزدل نہیں بلکہ جرات مندی کا مظاہرہ کیا، قائد اعظم کے ساتھ کھڑے رہے ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان جب بنا تو اس کی قربانی انہی نے دی جنہوں نے ہجرت کی، سنت نبوی ادا کی ،پاکستان کو تباہی کا نشانہ آپ نے بنایا، آج تباہی کے دہانے پر آپ کی وجہ سے پہنچا ۔ انہوںنے کہاکہ اگر ہم ایوان کی عزت چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اپنا بھی بند قبا دیکھنا ہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ یہ سیاست دان بتائیں بڑی بڑی کوٹھیاں، بنگلے، گھر، دولت کس طرح بنائی؟ ہمارا سب کچھ لوٹ کر یہ دولت جمع کی۔بعد ازاں مسلم لیگ (ن)کے ارکان ایوان سے چلے گئے اور ن لیگی اراکین نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کیا ۔ پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ مشترکہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر پر بھارتی مظالم کے خلاف مشترکہ اجلاس بلایا گیا ،دو دن بعد جو کچھ ہم اس ایوان میں کررہے ہیں اس سے دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ گر حکومت سمجھتی ہے کہ اپوزیشن کو کچل کر وہ ملک کی خدمت کررہی ہے تو کر گذرے،آصف زرداری کے بیان کو جس طرح توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اس سے ملک کی کیا خدمت ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان ہندو کونسل کی جانب سے ایوان میں جو پرچم لگایا گیا اس پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔وفاقی وزیر شفقت محمود نے بھی خواجہ آصف کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ ایک اقامہ ہولڈر جو وزیر دفاع ہونے کے باوجود 15 لاکھ روپے تنخواہ بھی لے رہے تھے ،حساس ذمہ داری پر ہوتے ہوئے وہ کیوں یہ پیسہ کما رہے تھے، ان سے جواب ملنا چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ میں سیاست سے پہلے کنسلٹنٹ کے طور پر کام کررہا تھا اور ٹیکس ادا کررہا تھا ،ایک روپیہ ان کی قیادت یا پنجاب حکومت سے ثابت کردیں سیاست چھوڑ دونگا۔اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی میں غباروں کا دنیا کا سب سے بڑا قومی پرچم لگانے پر سیاسی جماعتوں نے پاکستان ہندوکونسل کو خراج تحسین پیش کیا ۔ ڈاکٹر رمیش کمار نے کہاکہ کشمیر کے مسئلے پر بھارت سے بات کرنے کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے ۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکن اسمبلی مولانا اسعد محمود نے کہاکہ ایک طرف پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر واپس بھیجا اور یہ بھی کہہ دیا کرتار پورہ کا منصوبہ جاری رہنے کا اعلان بھی کر دیا۔ انہوکںنے کہاکہ حکومت کو کرتارپورہ منصوبہ فوری بند کرنے کا اعلان کرنا چاہیے،حکومت کی قادیانیت نوازی اس منصوبے سے ظاہر ہو رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کشمیر شہ رگ قرار دیتا ہے، بھارت ستر سالوں ان پر قابض ہے حکومت مگر مچھ کے آنسو نہ روئے، حقیقت بتائے۔ انہوںنے کہاکہ بین الاقوامی دنیا کشمیر کو۔متنازعہ قرار دیتی ہے،مطالبہ کرتا ہوں کہ اگر کشمیر کے حوالے سے اگر اقوام متحدہ کی قرادادون پر عمل نہیں ہوتا تو حکومت بھی عالمی قرار دادوں کی طرف نہ دیکھے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت ایک سکرپٹڈ ایجنڈے کے تحت کام کر رہی ہے۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا

Scroll To Top