تیسری عالمی جنگ۔۔۔ دستک کون دے رہا ہے

  • اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ نسلی بالا دستی کی بنیاد پر دوسروں پر غلبے کی خواہش تاریخ کی قوتوں کے سامنے ہمیشہ دم توڑ جاتی رہی ہے۔ گجرات کے قصائیوں کے جتھے تاریخی حقائق سے نابلد رہتے ہوئے ایسے اقدامات کیے
    جا رہے ہیں جو آخری تجزیے میں انہیں ملکی تباہی کی گہری کھائی میں دھکیل دیں گے

اکھنڈ بھارت
یہ ہے ہندو بنیے کا خواب
جواب سراب کے سوا جانیے کچھ بھی نہیں۔ بھارتی نیتا نہیں جانتے کہ انہون نے کس قوم کو للکار دیا ہے ۔ اس میں لاکھ کمیاں کجیاں اور خامیاں ہو سکتی ہیں مگر جب بات آتی ہے اس ملک کی سلامتی اور بقا کی کہ جو اللہ اور رسول کے نام پر حاصل کیا گیا تھا تو پھر اس کی حفاظت کی خاطر مسلمان بچہ بچہ کٹ مرنے کو تیار ہوتاہے۔
65کی جنگ کیا س بنیئے کو یاد نہیں۔ اگر بھول چکا ہے تو پاک فوج کا ایک ایک جوان اور آفیسر اسے ماضی کی یہ شرمناک شکست یاد کر ادینے کے لئے تیار کھڑا ہے۔ بس قیادت کے اک اشارے کی دی رہے پھر دنیا دیکھ لے گی کہ پاکستانی قوم ہے کیا بلا۔
بھارتی نتیاو¿! اب بچپنے سے نکل آو¿، دنیا بہت آگے نکل گئی ہے تم بھی اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھنے چھوڑ دو۔ اور جو بچا کچھا بھارت تمہارے پاس رہ گیا ہے ۔ اس کی فکر کرو۔ وگرنہ تمہارے شرق و غرب اور شمال و جنوب میں علیحدگی کی جو دو درجن سے زائد تحریکیں برسر عمل ہیں وہ تمہاری لٹیا ڈبو دینے کے لئے کافی ہون گی۔ ان میں تحریک آزادی کشمیر بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوگی۔
پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔ اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ بقائے باہمی کے اعلیٰ اصولوں اور زندہ رہواور زندہ رہنے دو کی سنہری اقدار کے مطابق قوموں کی ترقی اسلامتی اور خوشحالی کا علمبردار ہے۔ پاکستان کو اس حقیقت کا بھی بھرپور احساس ہے کہ ہمسائیگی ایک اٹل اور لازوال رشتہ و تعلق ہے ۔ انسان چاند پر ضرور پہنچ گیا پر اس کائنات میں ابھی ایسی کوئی سائنسی ایجاد سامنے نہیں آئی جو ہمسائیگی کو ایک جگہ سے اکھاڑ کر پسند کے کسی دوسرے مقام پر منتقل کر دے۔ دوسرے لفظوں میں کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ پاکستان کو اپنے ہمسایوں کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول کے تحت زندہ رہنے کا پورا ادراک ہے۔ مگر بقائے باہمی کا یہ اصول دو طرفہ ہوتا ہے۔ یک طرفہ نہین۔ یک طرفہ ہوگا تو پھرنتائج وہی ہوں گے جو اس وقت سامنے آرہے ہیں۔ یعنی بھارت کی جانب سے ایک بار پھر جار حانہ اقدام، اس بار مگر قدرے مختلف انداز سے یعنی آئین کی آڑ میں غیر آئینی اقدام، ریاست جموں و کشمیر کے متنازعہ سٹیٹس کو تبدیل کرنے کی گھناو¿نی سازش، جس کے نتیجے میں محض دو ممالک کے مابین کشیدگی بلکہ جنگ کی کیفیت پیدا نہیں ہوگئی بلکہ جنوبی ایشیا کے تین ممالک یعنی پاکستان، بھارت اور چین کو جنگ کے شعلوں کے سامنے لا کھڑا کیا گی اہے۔ اور یہ حقیقت اک دنیا پر واضح ہے کہ ان تین ممالک کے حوالے سے اگر جنگ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو اس کی تپش محض جنوبی ایشیا کے اس خطے تک محدود نہ رہے گی۔ بلکہ حاکم بدین اس کے خونخوار شعلے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ یہاں دنیا کو اس حقیقت کا بھی ادراک رکھ لینا ہوگا کہ پاکستان بھارت اور چین تینوں جوہری اثاثوں کے بھی مالک ہیں۔ بس اس ایک حقیقت سے جان لیجئے کہ دنیا کا مستقبل ہوگا کیا۔ اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھتے دیکھتے بھارتی بنیا نہ صرف جو بچا کھچا بھارت ہے اسے بچانہ پائے گا بلکہ سارے کرہ ارض کو بھی خدانخواستہ تیسری جنگ عظیم کے جہنم میں دھکیل سکتا ہے۔
میں نے اس سلسلہ مضامین کے اپنے ایک جزو میں پہلے بھی ضمیر عالم سے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی تھی۔ آج پھر نہایت درد دل سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ آگے آگے اور بھارتی نیتاو¿ں کو ہوش کے ناخن لینے پر مجبور کرے۔ کہ ان کے احمقانہ فیصلون سے پوری انسانیت ایک بڑی تباہی کے دہانے پر آن کھڑی ہوتی ہے۔
میرے لئے نہایت اطمینان کی بات ہے کہ خود بھارتی پارلیمنٹ کے اندر سے بعض محترم آوازیں بلند ہوئی ہیں۔ جنہوں نے اکھنڈ بھارت کے متوالوںاور کشمیر جیسے متنازعہ علاقے کے آئینی سٹیٹس کو تباہ کرنے والے عناصر سے متصادم پوزیشن اختیار کی ہے۔
اسی طرح دنیا بھر کے دوسرے مقامات اور ممالک سے بھی بھارتی آئینی دہشتگردی کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی ہیں ۔ اس ضمن میں پاکستان کی آواز سب سے بلند اور موثر ثابت ہوگی ان شاءاللہ۔ اور اس ضمن میں عمران خان کی حکومت روز اول سے لے کر آج تک جس رفتار سے سرگرم عمل ہے اک دنیا اس کی معترف ہے ۔
5اگست کو نئی دلی نے کشمیر کے سٹیٹس کو برباد کرنے کی جو گھناو¿نی حرکت کی ہے اس کے رد عمل میں پاکستان کی طرف سے جو فوری فیصلے سامنے آئے ہیں۔ ان کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
1۔ بھارت کے ساتھ فوری طور پر سفارتی تعلقات ختم کر دیئے گئے ہیں۔
2۔ پاک بھارت تجارتی سرگرمیاں بھی معطل کر دی گئی ہیں۔
3۔ پاکستان دنیا بھر سے بالعموم اور اقدام متحدہ سے بالخصوص رجوع کرنے کے اقدامات کر رہا ہے۔
4۔ وزیر اعظم عنقریب عالمی رہنماو¿ں سے ملاقاتوں کے سلسلے میں کئی ممالک کا دورہ کریں گے۔
5۔ 14اگست کو یوم یک جہتی کشمیر منایا جائے گا۔
6۔15گست کو بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر یوم سیاہ منایا جائے گا۔
آخری مگر بہت اہم ترین اقدام،
وزیر اعظم نے اپنی بہادر افواج کو ہمہ وقت چوکس رہنے کا حکم دے دیا ہے۔
اور یہ دنیا جانتی ہے اس طرح کی کشیدہ صورت حال میں جب پاک افواج کو تیار رہنے کا حکم دیا جات اہے تو اس کا مطلب کیا ہوتا ہے۔
اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والو۔ اب تم اپنی تباہی کے نظارے دیکھنے کے لئے تیار ہو جاو¿۔۔۔۔۔

Scroll To Top