داستان ایک ڈوبتے جہاز کی ! 14-07-2015

حالیہ دور کی المناک داستانوں میں غالباً سب سے المناک داستان ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلزپارٹی کی” داستانِ شکست و ریخت وزوال“ ہے۔
یہ ایک ایسا جہاز ہے جسے اب ڈوبنے کی بھی ضرورت نہیں۔ جو لوگ بدترین طوفانوں میں اس پر سوار رہے وہ اب اسے چھوڑ چھوڑ کر جارہے ہیں۔
1980ءکی دہائی کے آخری برسوں میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے جلاوطنی سے واپس آکر پارٹی کی قیادت سنبھالی تو فوراً ہی بعد اس پارٹی کے مقابلے پر ایک بھٹو مخالف جماعت اور قیادت کا جنم ہوا۔ وہ جماعت اور قیادت آج اسلام آباد میں حکمران ہے۔ محترمہ نے دس برس تک اس جماعت اور قیادت کا ” مردانہ وار “ مقابلہ کیا اور پاکستان پیپلزپارٹی کو ایک ایسی سیاسی قوت کے طور پر منظم کردکھایا جس کے بغیر پاکستان کا کوئی سیاسی نقشہ بن ہی نہیں سکتا تھا۔
اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ پی پی پی کو ایک طاقتور ووٹ بنک بنا نے میں اُس سیاسی جنگ کا بڑا تعلق تھا جو میاں نوازشریف کی نون لیگ کے ساتھ اس کی ہوتی رہی۔
جب محترمہ کو نادیدہ قوتوں نے راستے سے ہٹا دیا تو وہ سیاسی جنگ بھی ختم ہوگئی اور مفاہمت کے نام پر ایک ایسا سیاسی عمل شروع ہوا جس نے پی پی پی کو بھی اس سٹے ٹس کا حصہ بنا دیا جس کی علامت پاکستان مسلم لیگ (ن)تھی اور ہے۔
اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ جس پی پی پی کو مسلم لیگ (ن)کی قیادت اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ختم نہ کرسکی اسے خود پی پی پی کی قیادت نے اب مسلم لیگ (ن)کی بی ٹیم بنادیا ہے۔
ظاہر ہے کہ جن افکار کی بنیاد پر پی پی پی اب تک سیاسی قوت بنی رہی انہیں ماننے والے مسلم لیگ (ن)کی بی ٹیم بننا کیسے قبول کرسکتے ہیں ؟
زرداری صاحب خود تو اپنا ” مشن “ مکمل کرکے فی الحال ملک سے باہر چلے گئے ہیںاورپی پی پی کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کا کام اپنے ناتجربہ کار نوجوان فرزند کے حوالے کرگئے ہیں۔
بلاول ہاﺅس کراچی سے آج کل جس قسم کے بیانات جاری ہورہے ہیں ان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بلاول بھٹو کو ایسے عناصر نے اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے جو انہیں یہ سمجھا رہے ہیں کہ تحریک انصاف اور عمران خان پرتابڑ توڑ حملے کرنے سے پی پی پی اپنی شکست و ریخت کو روک سکتی ہے ۔
اس ضمن میں ترجمان بلاول ہاﺅس کا تازہ ترین بیان پی پی پی کی زبوں حالی کی صحیح عکاسی کرتا ہے۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف لوٹوں اور لٹیروں کا جمعہ بازار ہے۔
اس بیان میں بلاول بھٹو نے اپنی ہی پارٹی کے اُن لوگوں کو لوٹوں اور لٹیروں کا نام دیا ہے جو مسلم لیگ (ن)کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں تھے۔

Scroll To Top