بھارت سے جنگ نہیں ہوگی جیت کے لئے صرف ایک الٹی میٹم کافی ہے

بارہویں صدی میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بیت المقدس دوبارہ آزاد ہوگا۔۔۔ خلافت عباسیہ کا شیرازہ بکھر چکا تھا۔۔۔ اندلس طوائف الملوکا شکار ہوچکا تھا۔۔۔ بیت المقدس پر صلیب حکمران تھی۔۔۔ ہلال اپنی عظمتیں پیچھے چھوڑ آیا تھا۔۔۔ اس سے بدتر حالات دنیائے اسلام کے لئے تیرہویں صدی میں منتظر تھے۔۔۔ صحرائے گوبی سے اٹھنے والا چنگیزی طوفان پورے وسطی مسلم ایشیا میں تباہی و بربادی پھیلاتا اور فرزندان و دخترانِ اسلام کی کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کرتا بغداد کو بھی خون کا غسل دے چکا تھا۔۔۔ 1258ءمیں ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی نے اسلامی دنیا کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔۔۔ صلاح الدین ایوبی ؒ کے ہاتھوں بیت المقدس کے آزاد ہونے کی خوشی ایک یاد بن گئی تھی۔۔۔

تب ایک گمنام مملوک بیبرس نے ناقابل شکست ہلاکو خان کا راستہ روکنے کی ٹھان لی۔۔۔
دریائے نیل کے کنارے این جالوت نام کا ایک مقام ہے جہاں یہ خونی جنگ ہوئی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ابن جالوت منگول عظمت کا قبرستان بن جائے گا۔۔۔سلطان بیبرس نے ناممکن کو ممکن کردکھایا۔۔۔
جب قومیں عزمِ صمیم سے لیس ہو جاتی ہیں تو ان کا راستہ پہاڑ بھی نہیں روک سکتے۔۔۔یہ بات میں اہل کشمیر کے حوالے سے ہی نہیں خود پاکستان کے حوالے سے بھی کررہاہوں۔۔۔ بھارت سے امن کی بات کرنے والے تاریخ کے حقائق سے نابلد ہیں۔۔۔ بھارت کے ساتھ امن قائم صرف کوئی غزنوی یا کوئی غوری کرسکتا ہے۔۔۔
ہماری قیادت نے شیوہ ءبت فروشی اپنا ئے رکھا ہے۔۔۔ اور یہ قوم بت شکنی کی روایات کا پرچم لے کر اٹھی تھی۔۔۔
بھارت سے جنگ نہیں ہوگی۔۔۔ جیت کے لئے صرف ایک الٹی میٹم کافی ہے۔۔۔

Scroll To Top