جسم کی تھرتھراہٹ سے ذیابیطس سمیت کئی امراض کا علاج

جسم میں تھرتھراہٹ پیدا کرنے والے پلیٹ فارم ذیابیطس سمیت کئی امراض کا علاج کرسکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

جارجیا: اگر جسم میں خاص وقفے تک خاص انداز میں ارتعاشات (وائبریشن) پہنچائے جائیں تو اس سے نہ صرف ذیابیطس کی شدت کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے بلکہ دیگر جسمانی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں جن میں جسم میں مفید بیکٹیریا کی افزائش، جلن میں کمی اور دیگر طبی فوائد شامل ہیں۔

پورے جسم کی میں ارتعاشات یا تھرتھراہٹ کو ’بالراست ورزش‘ بھی کہا جاتا ہے جس کا اولین تصور 1990ء کی دہائی میں پیش کیا گیا تھا۔ اسے پورے بدن کی تھرتھراہٹ یا ہول باڈی وائبریشن (ڈبلیو بی وی) کہا جاتا ہے۔

اس عمل کے لیے ایک مشین نما پلیٹ فارم بنایا گیا ہے جس پر کھڑے ہونے والے شخص کے جسم میں 15 سے 70 ہرٹز کے ارتعاشات کا حیطہ (ایمپلی ٹیوڈ) ایک سے 10 ملی میٹر رکھا جاتا ہے۔ اس میں چھوٹے وقفے کے لیے شدید نوعیت کے ارتعاشی جھماکے بدن پر ڈالے جاتے ہیں۔ اسے طبی زبان میں ’لائٹ نیورو مسکیولر ریزسٹنس ٹریننگ میتھڈ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

بعض مطالعات سے اس کے کچھ فوائد سامنے آئے ہیں، تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس سے ہڈیوں کی کثافت، پٹھوں کی قوت، متوازن رہنے کی صلاحیت میں اضافہ اور جسمانی چکنائی میں کمی واقع ہوتی ہے۔

کچھ سروے تو حیرت انگیز نتائج بتاتے ہیں جن میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کی کئی علامت مثلاً پیاس اور بار بار پیشاب کی حاجت میں کمی اور اندرونی جسمانی سوزش میں کمی بھی شامل ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں اس سے انسولین کی افزائش ہوتی ہے اور خون میں شکر قابو رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

اب ایک نئی تحقیق میں میڈیکل کالج آف جارجیا نے بھی جسم میں لرزش پیدا کرنے والی مشینوں کو آزمایا ہے۔ یہاں ڈاکٹر جیک یو اور ڈاکٹر بابک بابن نے انسانوں کی بجائے چوہوں پر کچھ تجربات کیے ہیں جنہیں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا مریض بنایا گیا تھا۔

بعض چوہوں میں جینیاتی انجینیئرنگ کے ذریعے لیپٹن کی کمی پیدا کی گئی، یہ ایسی کیفیت ہے جس کا شکار موٹاپے کی جانب راغب ہوتا ہے اور ذیابیطس کا مریض بن سکتا ہے۔

ان چوہوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا جن میں سے ایک گروپ کے چوہوں کے پورے بدن کو تھرتھراہٹ پہنچائی گئی اور دوسرے گروہ کو ایسے ہی رہنے دیا گیا۔ چار ہفتوں تک چوہوں کو روزانہ 20 منٹ تک تھرتھراہٹ دی گئی۔ چار ہفتے بعد ماہرین نے چوہوں کا بغور جائزہ لیا گیا۔ ان چوہوں کو 30 ہرٹز کے ارتعاشات دیئے گئے جن کا حیطہ 3 ملی میٹر تھا۔

ماہرین نے دیکھا کہ چوہے کے جسم میں صحت مند خرد نامیوں یعنی بیکٹیریا وغیرہ کی تعداد بڑھی اور مضر بیکٹیریا کم ہوئے۔ علاوہ ازیں بیماریاں لانے والی چکنائی بھی کم ہوئی۔ جسم میں جلن اور سوزش پیدا کرنے والے سائٹوکائنس بھی کم ہوئے۔

اگرچہ یہ نتائج حوصلہ افزا ہیں لیکن ماہرین کو اس کی سائنسی وجہ جاننی ہے کہ آخر وائبریشن تھراپی میں ایسا کیوں ہوتا ہے؟

Scroll To Top