شریف خاندان نے کاروبار نہیں منی لانڈرنگ کی ، شہزاداکبر

  • چوہدری شوگر ملز منی لانڈرنگ کے لئے استعمال کی گئی، غیر ملکی کمپنیوں سے پندرہ ملین ڈالر کا قرض لیا گیا ،ملتان میٹرو کی چین میں بھی تحقیقات ہو رہی ہیں
  • ملزمان سے ریکوری کا آغاز ہو چکا ہے،عید کے بعد 9 سے 10 ارب کی ریکوری ہو گی،کچھ ملزمان اتنے سخت جان ہیں کہ ان سے ریکوری مشکل ہے

اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ چوہدری شوگرملز کےلئے غیر ملکی کمپنیوں سے پندرہ ملین ڈالر کا قرض لیا گیا ، چوہدری شوگر ملز منی لانڈرنگ کے لئے استعمال کی گئی،2008 میں مریم نواز کو چوہدری شوگر ملز کے شئیر ٹرانسفر کر دئیے جاتے ہیں، مریم نواز 2010 میں یوسف عباس کو شئیر ٹرانسفر کر دیتی ہیں، یہ شیئر ناصر لوطا اور پھر حسین نواز کو ٹرانسفر کر دیے جاتے ہیں، حسین نواز نے یوسف عباس کو ٹرانسفر کئے،یوسف عباس سے پھر نواز شریف کو ٹرانسفر ہوئے، قاضی فیملی کے نام پر منی لانڈرنگ ہوئی ، ان کا کھل کر کردار سامنے نہیں لایا گیا، قاضی فیملی کے نام ہونے والی ٹرانزیکشن کا ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بدھ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہاکہ ہمارے معاشی حالات کی وجہ سے دشمن آج ہمارے خلاف آج ایسی حر کتیں کر رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ 1991 میں شریف خاندان نے چوہدری شوگر ملز کے نام سے کمپنی بنائی ،چوہدری شوگر ملز کے لئے غیر ملکی کمپنیوں سے 15 ملین ڈالر کا قرض لیا گیا۔انہوںنے کہاکہ بحرین میں قرض لیا گیا اور آف شور کمپنی کے ذریعے سبسڈی لی گئی۔انہوںنے کہاکہ غیر ملکی قرض مل کی مشینری خریدنے کےلئے لیا گیا۔انہوںنے کہاکہ کمپنی کا قرض ابھی موصول نہیں ہوا توشوگر مل بن گئی،کہا گیا کہ جلدی تھی اس لئے مشینری پہلے ہی خرید لی۔انہوںنے کہاکہ سٹیٹ بنک پر دباﺅڈال کر غیر ملکی قرض چوہدری شوگر مل کے اکاوئنٹ میں ڈلوا لیا۔شہزاد اکبر نے کہاکہ چوہدری شوگر ملز منی لانڈرنگ کے لئے استعمال کی گئی۔ انہوںنے کہاکہ 2008 میں مریم نواز کو چوہدری شوگر ملز کے شئیر ٹرانسفر کر دیے جاتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ مریم نواز 2010 میں یوسف عباس کو شئیر ٹرانسفر کر دیتی ہیں۔انہوںنے کہاکہ پھر یہ شیئر ناصر لوطا اور پھر حسین نواز کو ٹرانسفر کر دیے جاتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ حسین نواز نے یوسف عباس کو ٹرانسفر کئے۔یوسف عباس سے پھر نواز شریف کو ٹرانسفر ہوئے،ناصر لوطا یو اے ای میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کر تا ہے۔انہوںنے کہاکہ ناصر لوطا نے پاکستان آ کر تحقیقات میں شمولیت اختیار کی ہے،ناصر لوطا پراسیکیوشن کا گواہ بن گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ ناصر لوطا نے بیان حلفی دیا ہے کہ اس کا چوہدری شوگر ملز میں کبھی کوئی شئیر نہیں رہا۔انہوںنے کہاکہ ناصر لوطا نے مجسٹریٹ کو بیان دیا ہے کہ 2010 میں شریف فیملی کے لوگ میرے پاس آئے اور انویسٹمنٹ کے لئے 5 لاکھ ڈالر دیے۔انہوںنے کہاکہ کچھ عرصہ بعد شریف خاندان کے لوگوں نے اپنی انویسٹمنٹ لے لی۔انہوںنے کہاکہ ناصر لوطا سے یوسف عباس کے اکائنٹ میں رقم ٹرانسفر کروائی گئی۔انہوںنے کہاکہ شریف خاندان نے کاروبار نہیں منی لانڈرنگ کی ہے۔انہوںنے کہاکہ چوہدری شوگر ملز میں ان لوگوں کے شئیرز رکھے گئے جنھیں علم ہی نہیں۔انہوںنے کہاکہ قاضی فیملی کے نام پر منی لانڈرنگ ہوئی لیکن ان کا کھل کر کردار سامنے نہیں لایا گیا۔انہوںنے کہاکہ قاضی فیملی کے نام ہونے والی ٹرانزیکشن کا ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ملزمان سے ریکوری کیس بنا کر کی جاتی ہے،ملزمان سے ریکوری کا آغاز ہو چکا ہے،عید کے بعد 9 سے 10 ارب کی ریکوری ہو گی۔انہوںنے کہاکہ کچھ ملزمان اتنے سخت جان ہیں کہ ان سے ریکوری مشکل ہے۔انہوںنے کہاکہ ملتان میٹرو منصوبے کی چین میں بھی تحقیقات ہو رہی ہیں،ملتان میٹرو کی ریکوری چین کی طرف سے کر کے ہمیں دی جائے گی۔انہوںنے کہاکہ چوہدری شوگر ملز کیس میں کبھی ریفرنس فائل نہیں ہوا۔

Scroll To Top