بھارت۔ آئین کے نام پر آئینی دہشت گردی( قسط 2)

  • ایک فیصلے نے تین جوہری طاقتوں کو مخمصے میں مبتلا کر دیا
  • ہندو بنیا نہیں جانتا اس نے کس قوم کو للکارا ہے
    کشمیر اسمبلی کی قرارداد کے بغیر اس کی آئینی پوزیشن تبدیل ہو ہی نہیں سکتی
    دنیا بھر میں بھارت سفارتی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے
    کرہ ارض پر موجودہرفورم کشمیر کو ایک متنازعہ خطہ سمجھتا ہے
    بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی ملک کسی دوسرے کےساتھ اپنی سرحد میں یک طرفہ رد وبدل نہیں کر سکتا

بھارت کا ہندو بنیا نہیں جانتا کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے۔ وہ قوم جس میں لاکھ کمیاں، کجیاں، خامیاں ہوں گی مگر جو اپنے دین اور ایمان کے تحفظ کے لئے آن واحد میں اپنی جون بدل لینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اتحاد، اتفاق و یکجہتی کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اک عالم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کرتی ہے۔
1965ءکو بھلا کون بھول سکتا ہے۔ ادھر بزدل بھارت نے رات کی تاریکی میں لاہور کی سرحدوں کو اپنی جارحیت سے داغدار کرنے کا جتن کیا ادھر اسی وقت کے سربراہ مملکت جناب ایوب خان کی قوم کے نام مختصر تقریر سنائی دی بس پھر کیا تھا اہل لاہور ہجوم در ہجوم گھروں بازاروں، کھیتوں کھلیانوں سے نکل کر اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ بارڈر پر موجود تھے۔
اب بھی عالم کچھ ایسا ہی ہے مگر قدرے مختلف انداز میں، اس بار بھارت نے پاکستان پر براہ راست حملہ نہیں کیاں البتہ بالواسطہ اسلوب اختایر کیا ہے۔ یعنی مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کا طریقہ۔
اس نے کیا یہ ہے کہ اپنی پارلیمنٹ سے آئین کی شق 370اور 35اے کو خارج کروالی ہے۔ یہ دونوں شقیں کشمیر کے ایک جداگانہ تشخص کی ضامن تھیں۔ ان شقوق کے اخراج سے اس نے اپنے زاویہ نظر سے کشمیر کو بھارتی ریاست کا ایک جزولاینفک بنالیا ہے۔ اس ایک اقدام کے نتیجے میں خطے میں بگاڑ اور فساد کی جو نئی بنیاد رکھ دی گئی ہے وہ انتہائی خوفناک ہے۔ میں یہا ں اختصار کے ساتھ مستقبل کی اسی نئی صورت کے کچھ خدوخال پیش کرتا ہوں۔
بھارتی آئین کی شق 370 اور 35اے کے اخراج کے نتیجے میں یہ تبدیلیاں رونما ہوںگی۔
-1 ریاست جموں و کشمیر کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو بھارت نے اپنے کا تئیں ختم کر دیا ہے۔
-2 چونکہ اس آئینی معاملے کا اطلاق لداخ پر بھی ہوا ہے لہذا مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے مابین خط متارکہ جنگ کی حیثیت بھی ختم کر دی گئی ہے۔
-3 خط متارکہجنگ جسے LOC بھی کہا جاتا ہے کے خاتمے کا مطلب ہے اب یہ لکیر بین الاقوامی سرحد ہوگی۔ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان۔
-4 مقبوضہ کشمیر اور لداخ کی سرحدیں چین اور پاکستان سے متصل ہیں تو دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے اس فیصلے سے بھارت چین اور پاکستان تصادم کے مقام پر آکھڑے ہوئے ہیں۔ اور یاد رہے یہ تینوں ملک جوہری ہتھیاروں سے مسلح ہیں۔
-5 بین الاقوامی قوانین میں آگہی رکھنے والے جانتے ہیں کہ کوئی ملک اپنے تئیں کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھا سکتا جس کے نتیجے میں دو ممالک کے مابین سرحد کا سٹیٹس بدل جائے۔ اس حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ بھارت کا یہ اقدام عالمی فورم پر کالعدم قرار پا سکتا ہے۔
-6 خودبھارتی آئین کی رو سے مرکزی حکومت یا پارلیمنٹ اپنے زیر انتظام ریاست کی ہیئت یا آئینی حیثیت میں کسی نوعیت کا ردوبدل کرنے کی سرے سے مجاز ہی نہیں۔ اس مقصد کے لئے پہلے اس ریاست کی اپنی اسمبلی کی متفقہ قرار داد کا ہونا بہت ناگزیر ہے۔ جبکہ موجودہ کیس میں مقبوضہ کشمیر کی ریاستی اسمبلی نے اس نوعیت کی کوئی قرارداد پیش ہی نہیں کی۔
-7 دنیا بھر کے قانون و آئینی اداروں اور بطور خاص اقوام متحدہ کی اپنے ایک متفقہ قرار داد نمبر 47 مورخہ 21اپریل 48آج بھی اس عالمی ادارے کے ایجنڈے پر موجود ہے جس کی رو سے مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں ایک تین جہتی پروگرام اور لائحہ عمل تشکیل دیا گیا تھا جس کی پابندی کا وعدہ پاکستان کے ساتھ بھارت نے بھی کر رکھا ہے اس کے مطابق بھارت کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر سے اپنی افواج کی تعداد معقول حدتک کم کرنے کے بعد وہاں اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے کا بندوبست کرے گا تاکہ کشمیری عوام اپنی آزادانہ منشا و مرضی کے مطابق بھارت یا پاکستان میں لے کسی ایک کے ساتھ الحاق کر سکیں گے۔
تب سے اب تک ستر سال گزر جانے کے باوجود بھارت نے عالمی ادارے کے روبرو کئے گئے اپنے وعدے پر رتی بھر عمل نہیں کیا۔
-8 اس کے برعکس بھارت نے 5اگست کو انتہائی عیاری، مکاری اور چالاکی کے ساتھ ریاست کشمیر کا آئینی، قانونی ، انتظامی اور اخلاقی ڈھانچہ ہی اپنے تئیں بدل کر رکھ دیا۔
پر یہ سارا پراسیس اتنا سادہ اور آسان نہیں۔ یاد رہے جس وقت بھارتی پارلیمنٹ میں یہ یکطرفہ غیر آئینی ”آئینی“ قدم اٹھایا گیا خود اس منتخب ادارے کے اندر سے اس کی زبردست مخالفت کی گئی نریندر مودی کو آئین کا قاتل اور غدار کہا گیا اور گجرات کے قصائی کو کشمیر کا قصائی قرار دیا گیا۔ اسی طرح اقوام متحدہ ، یو این او کے انسانی حقوق کے ذیلی اداروں اور دیگر عالمی تنظیموں کی طرف سے بھی اس بھارتی آئین شکنی اور عہد شکنی کی دید الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دو ٹوک الفاظ میں بھارت کے اس جارحانہ اقدام کی شدت سے مخالفت کی ہے اوراسے ختم کرنے کے سلسلے میں ہر ممکنہ اقدام کا وعدہ کیا ہے۔
اس ضمن میں ہونے والی پیشرفت بابت میں انشاء اللہ اگلی صحبت میں اظہار خیال کروںگا۔ (جاری ہے)

Scroll To Top