اور قوم یہ سوچے گی کہ ہمارا جرم کیا ہے ؟ 09-07-2015


میرے بہت سارے دوست بیورو کریسی میں بڑے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ میرا اکثر ان سے اختلاف رہتا تھا۔ اپنی نوجوانی میں وہ قومی خدمت کے بڑے بلند بانگ دعوﺅں کے ساتھ سی ایس پی افسر بنے تھے۔ مگر وہاں جاکر و ہ نمک کی کان میں نمک بن گئے۔
لیکن ان میں کچھ ایسے بھی تھے جن کے اندر حب الوطنی کا خمیر نہ مرسکا۔ ان میں سے ایک کاذکر میں یہاں کروں گا۔ نام نہیں لوں گا۔ وہ میرا بچپن کا دوست ہے ۔ اور اب امریکہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ زندگی کے باقی ایام آرام سے گزار رہا ہے۔
اس نے ایک گفتگو کے دوران کہا تھا۔
” شہریا قصبے پر حکمرانی کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ٹاﺅن پلاننگ کے شعبے میں ضروری اہلیت اور مہارت حاصل ہو۔ شہر یا قصبے کا کوئی بھی بڑا فیصلہ اگراس مہارت کے بغیر کیا جائے گا تو تباہ کن اثرات کا حامل ہوگا۔“
تب مجھے اپنے اس دوست کی بات سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ آج یاد بھی آرہی ہے اور سمجھ میں بھی آرہی ہے۔
گزشتہ روز اسلام آباد اور راولپنڈی میں بارشوں نے جو حشر برپا کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اربوں روپوں کی لاگت سے تعمیر ہونے والا ” میٹرو نیٹ ورک “ کھنڈرات کی تصویر بنا ہوا ہے۔
میاں شہبازشریف اور میاں نوازشریف کو ایک ایسا منصوبہ درکار تھا جس کے لئے اربوں کا بجٹ ضروری ہو۔ پھر انہیں ایسا ماہر ” ٹاﺅن پلانر“ درکار تھا جو اس بجٹ کو ” مہارت “ سے خرچ کرسکے ۔
بجٹ بھی مل گیا۔ اور حنیف عباسی کی خدمات بھی حاصل ہوگئیں۔
اگر بارشیں پھر مہربان ہوئیں تو اس میٹرو منصوبے کی دوبارہ بحالی کے لئے اربوں کا بجٹ درکار ہوگا۔۔۔ اور قوم یہ سوچے گی کہ ہمارا جرم کیا ہے ۔۔۔؟

Scroll To Top