پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سے خطاب بھارت حملہ کرے ہم جواب نہ دیں ناممکن ہے‘ عمران خان

  • اگر جنگ ہوئی تو کسی کو فتح نہیںہوگی، خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے‘پاک بھارت روایتی جنگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے ‘ مقبوضہ کشمیر میں ممکنہ ردعمل کے جواب میں آزاد کشمیر پر مزید حملے ہو سکتے ہیں
  • بھارتی غیر آئینی غیر جمہوری اقدامات کو ہر عالمی فورم پر اٹھائیں گے ‘ نئی دہلی ایسے اقدامات کررہا ہے اگر دنیا نے اب کچھ نہ کیا تو کچھ بھی ہو سکتا ہے‘ پاکستان کی امن کوششوں کو کمزوری نہ سمجھا جائے‘ اینٹی پاکستان جذبات کو ابھارکر مودی انتخابات جیتے

اسلام آباد(صباح نیوز) وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر پر بھارتی اقدامات سے عالمی امن کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ پاک بھارت روایتی جنگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں ممکنہ ردعمل کے جواب میں بھارت آزاد کشمیر پر مزید حملے کرسکتی ہے ۔ اگر جنگ ہوئی تو کسی کو فتح نہیںہوگی ۔ خون کے آخری قطرے تک یہ جنگ لڑیں گے ۔ بھارتی غیر آئینی غیر جمہوری اقدامات کو ہر عالمی فورم پر اٹھائیں گے ۔ عالمی عدالت انصاف میں جائیں گے ۔ جنرل اسمبلی میں جائیں گے۔ سربراہان مملکت سے بات کریں گے۔ ،کشمیر کا مقدمہ ہر فورم پر لڑیں گے، اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی اہمیت کا پوری طرح پتہ نہیں یہ سیشن صرف قوم نہیں،پوری دنیا ، کشمیری دیکھ رہے ہیں ۔ اپوزیشن سے درخواست کرتے ہیں کہ اگر ڈسٹرب کر نا چاہتے ہیں تو میں بیٹھ جاتا ہوں ۔ کشمیریوں کیلئے نہیں پاکستان کیلئے نہیں بلکہ اس سیشن کے اثرات دنیا کیلئے جائیں گے ۔ آرام سے بات سنیں ۔ ہماری حکومت کے آتے ہی ترجیحات میں غربت میں کمی کی جائے ۔ سانحہ پلوامہ ہوگیا ۔ بھارتی انتخابات کیلئے پاکستان پر الزام تراشی کرتے ہیں کہ جنگی ماحول پیدا کیا ۔ اینٹی پاکستان جذبات کو ابھارکر مودی انتخابات جیتے ۔ پاک فضائیہ نے بھرپورجواب دیا اور بھارتی پائلٹ واپس کردیا۔، ہم نے انتخابات کا انتظار کیا،پاکستان کی امن کی کوششوں کو بھارت غلط سمجھ رہا تھا کمزوری سمجھ رہا تھا۔دوطرفہ بات چیت آگے بڑھ نہیں رہی تھی ۔مسئلہ کشمیر کی وجہ سے جنوبی ایشیاءکو یرغمال بھارت کے بارے میں اندازہ ہوگیا تھا کہ انہیں دلچسپی نہ ہے ۔ جو بھارت نے کہا ان کا نظریہ اور انتخابی منشورہے ۔ آر ایس ایس کے نظریے پر چل رہے ہیں ۔ یہ نظریہ یہ ہے کہ ہندوستان ہندوﺅں کا ہے ۔ مسلمانوں کیخلاف ہمیشہ تعصبات کو ابھارا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرنے کا دن ہے ۔ وہ پہلے انسان تھے جس نے ہندو کے نظریے کوسمجھ لیا کہ ہندو راج کی طرف جارہا ہے آ ج وہ کشمیری جو دو قومی نظریے کے مخالفت تھے اس کی حمایت کررہے ہیں، دو قومی نظریے کودرست قرار دے رہے ہیں ۔ قائداعظم کی گیارہ اگست کی تقریر سے سیکولرکا تاثر نہ لیا جائے اس نظریے کی عکاس تھی کہ سب برابر کے انسان ہوں گے یہ نظریہ انہوںنے ریاست مدینہ سے لیا تھا ۔ سب کی عبادت گا ہیںمحافظ ہوں گی۔اقلیتوں سے زیادتی نظریے اور دین کیخلاف ہے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی کی حکومت گوشت کھانے والوں کو لٹکا دیتی ہے ،عیسائیوں کیخلاف نا انصافی ہورہی ہے۔اصل میں یہ مودی کی سوچ اور نظریہ ہے ۔ کشمیر کے بارے میں انہوں نے اپنے نظریے کے مطابق کیا۔ اس کیلئے پڑوسی ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ غربت میں کمی کیلئے کشیدگی کو ختم کریں میں نے بھارت سے کہاکہ ایک قدم اٹھائیں ہم دو قدم اٹھائیں گے ۔ افغان اور ایران قیادت سے بات کی چین سے اچھے تعلقات ہیں اور کہا گیا کہ ماضی کی تلخیوں کو ختم کیا جائے ۔ جب شروع میں نریندر مودی سے بات کی تو خدشات ظاہر کیے کہ تمہارے ملک میں تربیتی کیمپ ہیں۔ انہیں نیشنل ایکشن پلان کے بارے میں بتایا کہ کوئی عسکریت پسند گروپ کام نہیں کرے گا۔ بھارت نے اپنے آئین، عدالت ، 17 اقوام متحدہ کی قراردادوں ، سلامتی کونسل کی قرارداد،شملہ معاہدے کے خلاف اقدام کیا ۔ وہ مقبوضہ کشمیرکی جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں ۔ جنیوا کنونشن کے خلاف ہے۔مودی حکومت مکمل طورپر آر ایس ایس کے نظریے پر چل رہی ہے ۔ کیا کشمیر کے لوگ خاص طورپر5 سالوں سے جو تشدد بڑھا ہے کیا وہ غلام بننے پر راضی ہوگئے بلکہ اس سے تو اور شدت آئے گی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پاک بھارت مذاکرات کو ناکامی کی وجہ سے ٹرمپ سے بات کی۔بھارت نے آزادی کی مزاحمت کو اور دبانا ہے کیونکہ بھارت کشمیریوں کو اپنے برابر کے انسان نہیں سمجھتا۔مائٹ از رائٹ کے تحت پاور استعمال کر رہا ہے۔تشدد کررہے ہیں ایک اور پلوامہ کا خدشہ ہے پھر پاکستان پر الزامات لگائے گئے تشدد بڑھنے پر جو رد عمل آئے گا اس کا الزام پاکستان پر آئے گا ،مقبوضہ کشمیر میں مذہبی فسادات کا خدشہ ہے۔دو ایٹمی ممالک رسک نہیں لے سکتے۔مسائل مذاکرات سے حل کرنے ہیں ایسی صورتحال کسی کے قابو میں نہیں رہے گی جبکہ بھارت میںایسی ذہنیت نظر آ رہی ہے یہ تکبر کا شکار ہے تکبر میں آزاد کشمیر میں کچھ کر سکتے ہیں ہم جواب دیں گے پاکستان پر حملہ کیا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ جواب نہ دیں ،روایتی جنگ ہو سکتی ہے ایک دوسرے کے جوابات ہونگے جنگ ہمارے خلاف بھی جا سکتی دو راستے ہیں، بہادر شاہ ظفر دوسرا راستہ ٹیپو سلطان کا ہے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جائیں یا سلطان ٹیپو کی طرح خون کے آخری قطرے تک کریں گے۔پاکستانی قوم کو مانتا ہوں کہ وہ تیار ہیں ہم خوف کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتے امن دین سلطان ہے یہ جنگ کوئی نہیں جیتے گا کسی کے حق میں نہ ہے ایک پر اثرات ہونگے میں نیو کلیئر بلیک میلنگ کی بات نہیں کر رہا ،فیصلہ دانش مندی کی بات نہیں کر رہا ہے بھارت عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔دنیا کچھ نہ کر رہی تھی اس لیے بھارت ایسے اقدامات کررہا ہے اگر دنیا نے اب کچھ نہ کیا تو کچھ بھی ہو سکتا ہے بھارتی اپوزیشن کو دیوار سے لگا دیا ہے اسی سوچ نے مہاتما گاندھی کا قتل کیا دنیا نے مزاحمت نہ کی تو نام نہاد عالمی برادری اپنے بنائے قوانین پر عملدرآمد نہ کروائے گی تو ہم ذمہ دارانہ ہونگے بات اس سطح پر جا رہی ہے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کشمیر کا مقدمہ ہر فورم پر لڑیں گے۔عالمی عدالت انصاف، جنرل اسمبلی ،سربراہان مملکت سے بات کریںگے۔

Scroll To Top