بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ فلسطین کی طرح کشمیر میں بھی مسلم اکثریتکو اقلیت میں بدل دینے کی واردات

  • گجرات کا قصائی مودی آئین کی آڑ میں غیر آئینی واردات کے ذریعے کشمیر میں مسلم آبادی کے قتلِ عام اور نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ضمیر عالم مگر اسے کسی طور اس سراسر غیر انسانی وحشت گردی کی اجازت نہیں دے گا۔ عمران حکومت اہلِ کشمیر کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے پوری طرح چوکس و چوبند اور مستعد، ہماری بہادر افواج بھی ہر نوعیت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار‘ پوری قوم حکومت اور ریاستی اداروں کے ساتھ آخری فتح اہل کشمیر اور اہل پاکستان ہی کا مقدر

چنگیز یت کیا ہے!
انسانیت دشمن تثلیت!
شیطنت صفت جہالت، خبط عظمت اور انسانی لہو کی لت!
نریندر مودی کی ذات، عادات و صفات پر غور کیجئے۔ آپ اوپر بیان کی گئیں تینوں خصلتیں بد رجہ اتم نظر آئیں گی۔
بچپن کی غربت اور نامساعدات بسا اوقات انسانی ذات کے ساتھ کچھ اس بری طرح چمٹ کر رہ جاتی ہیں کہ متعلقہ شخص ان سے جان چھڑانا بھی چاہئے تو اسیا نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں طبیعت پر بوجھ اور انقبامن بڑھتا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر اس کے مد مقابل کوئی نا پسندیدہ ہدف آن کھڑا ہو تو برسوں سے نفرت کا رکا ہوا بند ٹوٹ جاتا ہے۔ اور اس ہدف کوملیا میٹ کر دینا ہی اس شخص کی زندگی کا مقصد ٹھہر جاتا ہے۔
اور یوں بچپن میں ٹرینوں میں آواز لگا کر چائے بیچنے والا مودی گجرات ( مہاراشٹر) کے وزیر اعلیٰ کے پردے میں اس علاقے میں مسلمانوں کا قاتل اعلیٰ اور قصائی بن کر رہ جاتا ہے۔ اور اب مسلمانوں کے لہو کی یہی لت اسے بھارت کے وزیر اعظم کی حیثیت سے کشمیر لے آئی ہے۔ ان دنوں گجرات کا یہ شیطنت صفت قصائی جنت نظیر وادی کشمیر کو اپنے ظلم اور بے گناہ اور معصوم کشمیریوں کے لہو سے جہنم زار بنانے پر تلا ہوا ہے۔
مودی قصائی کی کشمیر، کشمیر یوں اور ایک معین مفہوم میں پاکستان کے خلاف تازہ ترین شیطانی واردات کا تعلق اس آئینی جو درحقیقت غیر آئینی اقدام کے ذریعے کی گئی ہے جس کا مقصد، مطلب اور ہدف کشمیر کی عالمی سطح پر مسلمہ مگر متنازعہ حیثیت کو غارت کر کے اسے بھارتی تلسط میں لانے کے مترادف ہے۔ اس ضمن میں پچھلے روز بھارتی پارلیمنٹ میں ایک بل منظور کیا گیا ہے جس کی رُو سے بھارتی آئین کی شق370اور35اے کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اس غیر آئینی اقدام کے نتیجے میں کشمیر کو بھارت کا حصہ بنا لینے کی سازش کی گئی ہے ۔ جس کا ایک خوفناک نتیجہ یہ ہوگا کہ اب کوئی بھارتی ماضی کی آئینی قدغن اور پابندی کے برعکس اب کشمیر کے کسی بھی حصے میں زمین کی خریدو فروخت کر سکے گا۔ وہاں مستقل سکونت اختیار کر پائے گا اور کشمیر میں آزادانہ طور پر کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کر سکے گا۔
آخری تجرزیے میں اس واردات کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ یہ کہ کشمیر میں آبادی کا موجودہ تناسب جو کشمیری مسلمانوں کے حق میں ہے وہ بدل جائے گا۔ غیر کشمیری لوگوں بلخصوص ہندوو¿ں کو مختلف ترغیبات کے ذریعے وادی کشمیر میں لا بسائے گا۔ بالکل جسطرح اسرائیل نے فلسطین میں یہودیوں کو لا بسایا ہے اور اس مذموم حرکت کے ذریعے فلسطینی سرزمین کے حقیقی بیٹے بیٹیاں تو اقلیت بنا دی گئیں اور اغیار کو اکثریتی درجہ دے کر انہیں غالب کر دیاگیا۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہئے کہ بھارت اپنے عالمی اتالیق اور رول ماڈل اسرائیل کی پیروی ہی کشمیر کو بھی دوسرا فلسطین بنا دینے کے درپے آزا د ہے۔
بھارت کی یہ شیطانی چال مگر کسی طور کامیاب نہیں ہو پائے گی۔ کیونکہ اس کی راہ میں ضمیر عالم، بین الاقوامی رائے عامہ، عالمگیر انسانیت نواز ادارے، پاکستان اور خود اہل کشمیر کا آزادی کے لئے ناقابل تسخیر عزم حائل ہیں۔
عمران حکومت اس سلسلے میںنہایت چوکس اور مستعد ہے۔ پچھلے مہینے عمران خان کا امریکی صدر ٹرمپ کی دعوت پر دورہ امریکہ اور عمران ٹرمپ ملاقات اور مذاکرات اس ضمن میں بہت اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ یاد رہے ان مذاکرات میں صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی۔ جسے پاکستان نے منظور کر لیا تھا۔ اب پاسکتان اس پوزیشن میں ہے کہ صدر ٹرمپ کو بھارت کی اس حالیہ واردات کی تنسیخ کا مطالبہ کر سکے۔
اس مرحلے پر یہ وضاحت کرتا چلوں کہ اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر47 منظور شدہ مورخہ21اپریل1948کی رُو سے بھارت کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کشمیر سے غیر ضروری افواج کو حد درجہ کم کرتے ہوئے وادی میں غیر جانبداداور آزادانہ فضا میں استصواب یا رائے شماری کی فضا پیدا کرے تا کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں وہاں اہل کشمیر بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ اپنی قسمت وابستہ کرنے کا فیصلہ کر سکیں۔
اقوام متحدہ کی یہ قرارداد واضح طور پر کشمیر کو ایک متنازعہ مسئلہ تسلیم کرتی ہے۔ 71کا شملہ معاہدہ بھی اسے ایک متنازعہ سٹیٹس دیتا ہے اور بھارت کا آئین اپنی شق370اور35اے کے حوالے سے بھی کشمیر کو متنازعہ ہی سمجھتا ہے ۔ حال ہی میں عمران ٹرمپ ملاقات میں میزبان نے مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں ثالثی کا کردار ادار کرنے کی جو پیشکش کی ہے اور جس کے پیچھے ان کا یہ کہنا کہ انہیں خود مودی نے بھی اس مسئلے کے حل کے لئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہا تھا، اس سارے سوال کی متازعہ حیثیت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے ۔
پچھلے روز مگر بھارت سرکار نے ایک غیر آئینی ترمیم کے ذریعے کشمیر کے متازعہ سٹیٹس کو تبدیل کر کے اسے بھارتی ریاست کا حصہ بنا دینے کی ایک نہایت سفاکانہ سازش کی ہے جسے ضمیر عالم کسی طور قبول نہیں کرے گا۔ تاہم اس ضمن میں پاکستان کو اپنا کردار نہایت مستعدی ، چوکسی اور ہشیاری سے ادا کرنا ہوگا۔(جاری ہے)۔

Scroll To Top