یہ ملک بانجھ نہیںہوااِس کے حکمرانوں کی غیرت بانجھ ہوچکی ہے! 08-07-2015

ہاکی میں جس جگ ہنسائی کا سامنا ملک کو کرنا پڑا ہے وہ مجھے ایک مثال یاد دلاتی ہے جو جرنلزم میں میرے استاد محترم عنایت اللہ مرحوم اکثر ایسے اداروں کے بارے میں دیا کرتے تھے جن کا ظاہری حجم ماشاءاللہ غیر معمولی ہوتا ہے مگر اندر سے وہ کھوکھلے ہوتے ہیں۔
ریس میں گھوڑا وہی جیتتاہے جو خود بے پناہ طاقتور اور چاق و چوبند نظر آتا ہو مگر جس کا سوار دبلا پتلا اور پھرتیلا ہو۔ اگر گھوڑا نحیف اور مریل سا ہوگا اور اس پر سواری کرنے والا مردِ میدان بھاری بھر کم اور لحیم شحیم ہوگا تو اس کا ریس جیتنا معجزے سے کم نہیں ہوسکتا۔
ہاکی میں ایک عرصے سے کھلاڑیوں کو بھوکا پیاسا اور مفلوک الحال رکھا جاتا ہے اور ہاکی فیڈریشن کے کرتا دھرتا اس کھیل کے لئے وقف کئے جانے والے قلیل بجٹ کا بھی ایک بہت بڑا حصہ خود ہڑپ کر جاتے ہیں۔
جب تک ہمارے حکمرانوں کی یہ سوچ نہیں تبدیل ہوگی کہ وہ خود حکومت کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں اور باقی ساری مخلوق اُن کی رعایا ہے جس کا کام یہ ہے کہ جس حال میں بھی اسے رکھاجائے وہ خوش رہے۔۔۔اس وقت تک ہمارے مقدر میں ویسی ہی ذلتیں اور رسوائیاں لکھی جاتی رہیں گی جیسی رسوائی اور ذلت کا سامنا ہماری ہاکی ٹیم کو اینٹورپ میں کرنا پڑا ہے۔
کھیل کا میدان واحد میدان ہے جس میں پاکستان ذرا سی منصوبہ بندی ذرا سی محنت اور ذرا سے ترجیحی سلوک کے ساتھ اپنے آپ کو دنیا میں سربلند کرسکتاہے۔
یہ وہی ملک ہے جس نے ہاکی کو سمیع اللہ ` صلاح الدین ` کلیم اللہ ` شہناز شیخ `حسن سردار` شہباز سینئر اور اسی پائے کے کم ازکم مزید ایک درجن کھلاڑی دیئے ہیں یہ ملک بانجھ نہیں ہوا۔
اس کے حکمرانوں کی غیرت بانجھ ہوچکی ہے۔

Scroll To Top