داستان ایک ڈوبتے جہاز کی !

حالیہ دور کی المناک داستانوں میں غالباً سب سے المناک داستان ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلزپارٹی کی” داستانِ شکست و ریخت وزوال“ ہے۔

یہ ایک ایسا جہاز ہے جسے اب ڈوبنے کی بھی ضرورت نہیں۔ جو لوگ بدترین طوفانوں میں اس پر سوار رہے وہ اب اسے چھوڑ چھوڑ کر جارہے ہیں۔
1980ءکی دہائی کے آخری برسوں میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے جلاوطنی سے واپس آکر پارٹی کی قیادت سنبھالی تو فوراً ہی بعد اس پارٹی کے مقابلے پر ایک بھٹو مخالف جماعت اور قیادت کا جنم ہوا۔ وہ جماعت اور قیادت آج اسلام آباد میں حکمران ہے۔ محترمہ نے دس برس تک اس جماعت اور قیادت کا ” مردانہ وار “ مقابلہ کیا اور پاکستان پیپلزپارٹی کو ایک ایسی سیاسی قوت کے طور پر منظم کردکھایا جس کے بغیر پاکستان کا کوئی سیاسی نقشہ بن ہی نہیں سکتا تھا۔
اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ پی پی پی کو ایک طاقتور ووٹ بنک بنا نے میں اُس سیاسی جنگ کا بڑا تعلق تھا جو میاں نوازشریف کی نون لیگ کے ساتھ اس کی ہوتی رہی۔
جب محترمہ کو نادیدہ قوتوں نے راستے سے ہٹا دیا تو وہ سیاسی جنگ بھی ختم ہوگئی اور مفاہمت کے نام پر ایک ایسا سیاسی عمل شروع ہوا جس نے پی پی پی کو بھی اس سٹے ٹس کو(Status Quo) کا حصہ بنا دیا جس کی علامت پاکستان مسلم لیگ (ن)تھی اور ہے۔
اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ جس پی پی پی کو مسلم لیگ (ن)کی قیادت اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ختم نہ کرسکی اسے خود پی پی پی کی قیادت نے اب مسلم لیگ (ن)کی بی ٹیم بنادیا ہے۔
ظاہر ہے کہ جن افکار کی بنیاد پر پی پی پی اب تک سیاسی قوت بنی رہی انہیں ماننے والے مسلم لیگ (ن)کی بی ٹیم بننا کیسے قبول کرتے ۔
(یہ کالم اس سے پہلے 14-07-2015کو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top