میگا منصوبوں سے عشق کرنے والو۔۔۔

ایسے لاکھوں پُل زندگی کے ہر شعبے میں ٹوٹ کر گر جانے کے قریب ہیں!
04-07-2015

ایک خصوصی ٹرین ایک فوجی یونٹ کو لے کر پنوں عاقل سے کھاریاں جارہی تھی۔ جامکے چٹھہ کے قریب چھناواں پل کے ٹوٹنے سے انجن کے ساتھ ساتھ تین بوگیاں بھی نہر میں جاگریں۔ اس المناک حادثے میں اعلیٰ فوجی افسروں سمیت 19افراد اپنے ہنستے بستے گھروں کو ماتم کدوں میں تبدیل کرگئے۔
پوری قوم کی دعا ہے کہ شہداءکے لواحقین کو اللہ تعالیٰ صبر و جمیل عطا فرمائے۔ مگر بڑے سے بڑے المیے کے ساتھ ایک مثبت پہلو ضرور جڑا ہوتا ہے۔ اور وہ مثبت پہلو یہ ہوتا ہے کہ اس المیے کے پیچھے جو اسباب ہوتے ہیں ان میں آئندہ ایسے المیوں کو روکنے کے لئے کوئی نہ کوئی سبق ضرور پنہاں ہوتاہے۔
” پل چھناواں “ کے حادثے کے پیچھے دو ممکنہ اسباب میں ایک یہ ہے کہ شاید یہ تخریب کاری کا واقعہ ہو۔ اس صورت میں سبق یہ ہے کہ ایسے مقامات پر سکیورٹی کا کوئی نہ کوئی بندوبست ضرور ہونا چاہئے جہاں اس نوعیت کی تباہ کن تخریب کاری کی جاسکتی ہو۔دوسرا سبب یہ ہے کہ پُل ایک سو سال سے بھی پرانا تھا۔ گویا پاکستان بننے سے بھی ایک تہائی صدی قبل بنا تھا۔ چلتے پھرتے انسانوں کی طرح اس قسم کی تعمیرات کی بھی ایک طبعی عمر ہوتی ہے۔ یہ پُل اپنی طبعی عمر بہت پہلے گزار چکا تھا۔ 2007ءمیں جنرل پرویز مشرف کے دور میں انتہائی خستہ159پُلوں کی مرمت کا ایک منصوبہ بنا تھا جو مکمل نہ ہوسکا۔ تعمیر و مرمت کے نام پر بڑے بڑے گھپلے ہوئے مگر کوئی کارروائی ہوئی نہ سزا ملی۔
ہمارے لئے اور ہمارے ووٹوں کی بدولت قائم ہونے والی حکومت کے لئے یہاں سبق یہ ہے کہ چھناواں پُل جیسے سینکڑوں پُل ہوں گے جو کسی بھی لمحے بیمار انسانوں کی طرح زندگی کی بازی ہار سکتے ہیں۔ کیا اس المناک سانحے کے بعد ہماری حکومت یہ سوچنے پر مجبور نہیں ہوگی کہ بڑے بڑے پرُ شکوہ منصوبوں پر اربوں کھربوں کے وسائل خرچ کرنے سے پہلے ملک کے اُس انفراسٹرکچر کی طرف توجہ دینے کی ضرور ت ہے جو اپنی طبعی عمر گزار چکا ہے اور جس کا بڑا حصہ انگریزوں نے تعمیر کیا تھا۔؟
اتفاق سے ہماری دونوں بڑی سیاسی قیادتوں کو حال ہی میں اقتدار میں آنا نصیب ہوچکا ہے۔ دونوں قیادتوں کو چاہئے کہ اپنے گریبانوں میںجھانک کر دیکھیں کہ جس انفراسٹرکچر کے ساتھ اس بدقسمت ملک کے بدقسمت عوام کی زندگی جڑی ہوئی ہے اس کو اطمینان بخش حالت میں رکھنے کے فریضے کی طرف انہوں نے کتنی توجہ دی ہے۔
چھناواں کے پُل کو ایک علامت کا درجہ دیا جاناچاہئے۔ ہماری قومی زندگی میں لاکھوں ایسے پُل ہیں جو ٹوٹ کر گرجانے کے قریب ہیں۔ کیاچھناواں کا حادثہ ہمارے حکمرانوں کو یہ سوچنے پر مجبور نہیں کرسکتا کہ بڑی بڑی اشتہاری مہموں کی زینت بننے والے بڑے بڑے پرُشکوہ منصوبوں کو کچھ عرصے کے لئے زیرِ التواءرکھنے سے یہ ملک برباد نہیں ہوگا۔ یہ ملک برباد ایسے پُلوں کے ٹوٹ جانے سے ہوگا جو فوری توجہ کے مستحق ہیں۔

Scroll To Top