بزنجو حاصل کیا ہوا؟

  • رسوائی، دھنائی اور دھلائی
    آخر میں وہ بھی چوری کھانے والا مجنوں ہی نکلا
  • عمر بھر کے سیاسی تجربے کو تج کر کے وہ جاتی عمرہ کے نا شریفوں کے آلہ کار بن گئے ، جنہوں نے انہیں سینیٹ کے انتخابات میں سیاسی مزارع کے طور پر استعمال کیا۔ مگر وہ سب تاریخ کے جبر کی شناخت سے عاری ہی رہے۔ کاش انہیں اس حقیقت کا شعور ہو کر ملک میں ایک نئے سیاسی کلچر کی لہر چل نکلی ہے۔ جس کی تندی کے سامنے مخصوص مفادات یافتہ طبقوں، ان کے حواریوں اور ہر آلہ کار کی کوئی چالاکی ، مکاری ار عیاری ٹھہر نہیں سکتی۔ اور آخر تجزیے میں ان سب کی شکست نوشتہ دیوار ہے۔

آہ! چوکری کھانے والے مجنوں!
بڑھکیں مارنے اور گیدڑ بھبھکیاں چھوڑنے والے فلمی ہیرو،
اپنے سر پرستوں اور مربیوں کی حضوری میں ہوں تو ”شیر “ بنے دھاڑتے ہیں اور اس سفلی شغل کے دوران ریاست کے انتہائی حساس اور موقر و معتبر ومحترم ادارے تک کو نہیں بخشتے پر جو نہی خود کو عقوبت خانے کے سامنے تصور میں لاتے ہیں تو ان کے جسم سے سو سو بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں۔ کینسر کا پھوڑا پھول جاتا ہے۔
یہ سارا پاکھنڈ فقط جیل کی بجائے ہسپتال جانے کا بہانہ ہوتا ہے۔
میرحاصل بزنجو نے بھی یہی ناٹک کھیلا ۔
تین روز پہلے سینیٹ میں موصوف کے چیئرمین بننے کا خواب کیا چکنا چور ہوا، اس شخص نا ہنجار کے تو حواس ہی باختر ہو کر رہ گئے۔ ”یاروں“ کے ہجوم میں آو¿ دیکھا نہ تاو¿ جھٹ سے اپنی شکست کا سار انزلہ ایک اہم ریاستی ادارے اور اس کے محترم سربراہ پر گرا دیا۔
اس پر میرا ایک مختصر مختصر تبصرہ تھا کہ بزنجو کا یہ مکروہ فعل حب الوطنی کے ہر معیار سے نیچے گرا ہو اہے اور اس حوالے سے قابل تفریر جرم۔ اسی اثنا میں گوجرانوالہ میں کسی محب وطن شہری نے مقامی سیشن کورٹ میں اسی نوعیت کا مقدم دائر کر دیا ۔ امکان تھا کہ اب قانون حرکت میں آجائیگا اور بزنجو کا سرکسی شیر اپنے دیگر آقاو¿ں کی طرح جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوگا بس پھر کیا تھا۔ اس کے وجود میں کنڈل مار کر چھپی ہوئی ساری بیماریاں پھو ٹ پڑیں اور موصوف کینسر کی بیماری کا بہانہ بنا کر عازم کراچی ہوئے۔ پر اسے کون سمجھائے کہ اے سینیٹ کی چیئرمینی کے خواب دیکھنے والے شخص، کراچی بھی تو پاکستان ہی کا حصہ ہے اور وہاں بھی ملکی قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔ آہ! یہ لوگ سمجھتے کیوں نہیں کہ یہ اللہ کے قانون مکافات عمل کی پکڑ میں آئیے ہیں۔ نواب شاہ کا مسٹر ہنڈرڈ پرسنٹ عرف زرداری اور جاتی عمرہ کے سرکسی شیر عرف نام کے شرفا۔ اسی قانون مکافات عمل کی پکڑ میں جیلوں میں بند ہیں۔ ان کے سامنے بچاو¿ کا بس ایک ہی راستہ بچا ہے اور وہ یہ کہ قوم کا اربوں روپے کا مال مسروقہ واپس کر دیں وگرنہ آنے والے دنوں میں حقیقی اور عوامی جیل کے ”مزے“ لینے کے لئے تیار ہو جائیں۔
غوث بخش بزنجو کا بیٹا حاسل بزنجو انتا اہم سیاستدان نہیں کہ اس پر تمام کالم پروقلم کر دیا جائے، ہاں البتہ اگر فی الوقت وہ قومی منظر نامہ پر سامنے آیا ہے تو اس کی بنیادی وجہ سینٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد ہے جس کی کامیابی کی صورت میں حاصل بزنجو کو نواز شریف اور بیگم صفدر کے نمائندے کی حیثیت سے پوری اپوزیشن کی جانب سے بطور متبادل چیئرمین نامزد کیا گیا تھا۔
مگر اس سلسلے میں کسی بھی آرزو پوری نہ ہو سکی۔
وجہ؟ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف سیاسی الماس بوبی بلاول یا شوباز اور ان کے دوسرے چیلے چانٹے شکست خوردگی کی خفت مٹانے کے لئے جو مصنوعی جتن بھی کر لیں ان کے اند کا ہارا ہوا جواری کسی طور پر چھپے نہں چھپ سکتا۔
طقہ بدمعاشیہ کی بد قسمتی ہے کہ یہ کہنے کو تو جمہوریت کا راگ الاپتا ہے مگر حقیقت میں جمہوریت اس کے طبقاتی مفادات سے یکسر متصادم ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس نے آج تک جمہوریت زندہ باد کے نعرے کو اپنی کامیابی سے مشروط رکھا ہے۔ جہاں اسے شکست کا سامنا ہوا وہیں اس کے نزدیک جمہوریت کا قتل عام ہو جات اہے اور یہ طبقہ بدمعاشیہ اپنے باطن کی کمزوریوں کا جائزہ لینے کی بجائے حریف اور مد مقابل کے خلاف دھونس دھاندلی، چوری چکاری، ووٹ کی خریدو فروخت اور ہارس ٹریڈنگ وغیرہ وغیرہ کے الزام، دشنام اور اتہمام کی بوچھاڑ کر دیتا ہے۔
سینیٹ میں چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی ناکامی کے بعد بھی ایسی ہی صورت حال پیدا ہوئی۔ قومی اسمبلی میں شوباز نا شریف اور سیاسی الماس بوبی جس طرح ماہی بے آب کی طرح تڑپے اور گرجے برسے وہ اس طبقہ بدمعاشیہ کی سرشت کے عین مطابق تھا۔
اس کے برعکس حقیقی جمہوریت کا ایک روشن پہلو یہ ہے کہ ہر شکست اور ناکامی پر بجائے کسی حریف کا کندھا تلاش کیا جائے جس پر توپ رکھ کر اسے ہی ہلاک کرنے کا جتن ہو، خود تنقیدی اور خود احتسابی کا عمل اختیار کیا جاتا ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن کے ساتھ جو کچھ ہوا کسی جمہوری ملک میں شکست خوردہ پارٹی نے اسے کمال کشادہ ظرفی سے قبول کرتے ہوئے جیتنے والے کو ہدیہ تبریک پیش کرنا تھا۔
اب بھی وقت ہے کہ ہماری اپوزیشن اپنے رویے میں اصلاح کر لے اور خود تنقیدی و خود احتسابی کے ذریعے اپنے کردار کا جائزہ لے۔ تو ایک حقیقت اس پر واضح ہو جائے گی کہ کرپٹ قیادتوں کے دفاع میں سب لوگ ہمیشہ آپ کے ساتھ نہیں ہوں گے۔ آپ کے ان ساتھیوں کو آپ کے کردار کا یہ پہلو کبھی بھول نہیں سکتا کہ دو عشرے پہلے جاتی عمرہ کے نام کے شریف اپنی کھالیں بچاتے ہوئے ساتھیوں کو بیچ منجدھار چھوڑ کر سعودی عرب فرار ہوگئے تھے۔ اور اب پھر وہ اسی راہ ِ فرار کی تلاش میں ہیں۔۔۔

Scroll To Top