ان کی ناکامی نوشتہ دیوار جانیئے عوام جمعیت منافقین کو ردی کی ٹوکری میں پھینک چکے

  • اُن کے فکری و سیاسی آباو اجداد نے تحریک پاکستان کی سخت مخالفت کی۔ اور اب کہ پاکستانی عوام عمران خان کی غیر متزلزل قیادت میں پاکستان کے ظالمانہ سٹیٹس کو کی جگہ سماجی و معاشی اعتبار سے عدل و انصاف پر مبنی نظام قائم کرنے کی جدوجہد میں مصروفِ عمل ہیں وہ ان کا سفر کھوٹا کرنے کے درپے ہیں۔

ماہ آزادی
جمعیت منافقین کی تلاش کیجئے۔
کیا وہ 14اگست کو یومِ آزادی مناتے ہیں۔
اور کیا وہ قائد اعظم ؒ کی عظمت کو تسلیم کرتے ہیں۔
یاد کیجئے پچھلے سال اسی ماہ مبارک کی ایک روشن ساعت کو کس نے جسے اپنے منحوس لہجے کی تاریکی میں ڈبونے کی گھناو¿نی حرکت کی تھی۔ جب اس نے جاتی عمرہ کے اپنے مربیوں کی صحبت میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ 14اگست کو قومی یوم آزادی نہیں منائے گا۔ اور ستم ظریفی کی بات یہ کہ قائد اعظم سے محبت کا دم بھرنے کے دعویداروں اور تحریک پاکستان کی روائت کے وارثین ہونے کی اجارہ داری رکھنے والے جاتی عمرہ والوں کو ملا فضلو کی اس ہرزہ سرائی پر کوئی ملال نہ ہوا۔ بلکہ عوام کی امنگوں کے سراسر منافی اس اقدام پر محض سیاسی مصلحت کے تحت چپ سادھے رہے۔ تف ہے ملا فضلو اور اس کے نو ن غنے مربیوں پر ۔ مگر سب سے بڑی تف تو عوام نے ان پر بھیجی کہ انہوں نے پہلے سے زیادہ جوش و خروش سے یوم آزادی بنا کر شیطانوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔
اور ملا فضلو کا یہ پاکستان دشمن رویہ کوئی نئی واردات نہیں۔ جس جمعیت کی سربراہی ملا جی کی اجارہ داری کا حصہ ہے وہ پیدا ہی اس جمعیت العمائے ہند کی کوکھ سے ہوئی ہے جس کی قیادت مولانا حسین احمد مدنی کے پاس تھی اور جو بر صغیر میں ایک الگ اسلامی مملکت کے قیام کے سرے سے مخالف تھے۔ اور انہوں نے خود اور اپنے سیاسی قرابت داروں کے ذریعے تحریک پاکستان اور حضرت قائد اعظم کی راہ میں جگہ جگہ روڑے اٹکائے۔ یہی نہیں ان کے زیر اثر مجلس احرار نے بھی تحریک پاکستان کو سبوتاژ کرنے کے لئے کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ اس تنظیم کے ایک رہنما مولوی مظہر علی اظہر نے تو (حاکم بدین) قائد اعظم کو ”کافر اعظم“ تک کہہ ڈالا۔ اسی طرح جمیعت کے ایک رہنما نے کمال ڈھٹائی سے یہاں تک کہہ ڈالا ” خدا کا شکر ہے ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ تھے“۔ اور دکھ کی بات یہ ہے کہ اسی قبیل کے لوگ پاکستان پر حکمرانی کے خواب بھی دیکھتے ہیں جب اہل پاکستان کی غالب اکثریت ان کے اس خواب کو کرچی کرچی کر دیتی ہے تو پھر یہ شارٹ کٹ راستے تلاش کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ملا فضلو تو بہت بدنامی کما چکا ہے۔ یاد کیجئے 2010میں وکی لیکس کے تہلکہ خیز انکشافات جن میں دوسروں کے علاوہ ملا فضلو کی حرص ہ ہوس کے قصے بھی پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک کے مطابق ملا جی امریکی سفیر قانون این پیٹرسن سے ملا۔ اور مترجم کی مدد سے اس کے سامنے راز دل اگل دیا۔کہا کہ اگر وہ ملا فضلو کی ملک کے وزیر اعظم بننے میں مدد کرے تو وہ امریکہ کی بہترین خدمت کر سکے گا۔
دولت اور اقتدار و اختیار کی ہوس کے شکار ملا فضلو نے پاکستانی سیاسی اقدار کو نقصان پہنچانے میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ میدان سیاست میں آنے کے بعد سے آج تک وہ ہمیشہ ہر حکومت اور حکمران کی در یوزہ گری کا خوگر رہا ہے۔ اور مقصد فقظ ذاتی و گروہی مفادات کا حصول ہوتا مثلاً جس ملک کی آزادی اور یوم آزادی منانے کا وہ منکر رہا ہو وہ اس ملک میں ہر حکومت میں حصے دار بننا اپنا پیدائشی حق بھی سمجھتا رہے تو اس سے بڑھ کر منافقت اور کیا ہو سکتی ہے۔ اور اس کی اس منافقت کو پروان چڑھانے میں ہمارے ہاں کے پارلیمانی (باقی صفحہ7 بقیہ نمبر62
طرز حکمرانی میں نمبر گیم کی بیماری کا بہت گہرا عمل دخل ہے۔ پاکستان میں بہت گم ہوا ہے کہ کوئی ایک سیاسی جماعت بھاری اکثریت کے ساتھ انتخابی کامیابی حاصل کر پائی ہو۔ اسے حکومت سازی کے لئے بالعموم چھوٹی پارٹیوں یا اکا دکا منتشر گروپوں کے تعاون کی ضرورت ضرور پیش آتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں پارلیمنٹ میں یہ چھوٹی پارٹیاں اور پریشر گروپ پاسنگ کا کردار ادا کرتے ہیں یہ جن کے پلڑے میں چلے جائیں وہ بھاری ہو جاتا ہے۔ اس اعتبارے پاسنگ کی ان پارٹیوں کو بلیک میلر کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے۔ ملا فضلو اور اس کی جمعیت ایسی ہی پاسنگ رکھنے والا جتھہ ہے جو ہر حکومت کو ہمہ وقت دباو¿ میں رکھتاہے اور یوں حکمران پارٹیوں کو بلیک میل کر کے اپنا الو سیدھا کرنے میں ید طولا رکھتا ہے ۔ یاد کیجئے ماضی میں نواز شریف یا بے نظیر اور زرداری ادوار حکومت میں بالعموم ہاو¿سنگ اور تعمیرات کی رسیلی اور چمکیلی وزارتیں ہمیشہ جمعیت کے پاس ہی ہوتی تھیں۔
اور اب کے ملک پر2019کا سورج طلوع ہو چکا ہے ۔ تاریخ پیہہ بھی اگلی بھر پور جست لے چکا ہے۔ پاکستان ستر سال سے ایک ظالمانہ سٹیٹس کو کی جگہ ایک نئے عمرانی معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ملک میں سماجی اور معاشی عدل و انصاف پر مشتمل ایک جدید سماجی و معاشی میکانزم کی ابتدا کی جا چکی ہے۔ اور عمران خان کی ہرعزم اور غیر متزلزل قیادت میں اہل پاکستان اپنے نئے پاکستان کی تعبیرکے لئے سرگرم عمل ہیں۔ ملا فضول ظالمانہ سٹیٹس کو کے حامیوں اور سر پرستوں کا آلہ کار بن کر عوامی امنگون کے بہاو¿ کے خلاف جانے والی قوتوں کا ایجنٹ بنا ہوا ہے۔ مگر بھول چکا ہے کہ پچھلے تین ماہ کے دوران اس کی ہر عوام دشمن کوشش بری طرح ناکام ہوتی ہے۔ اور اب بھی وہ جن خفیہ اور ظاہر سازشوں میں مصروف عمل ہے ان میں ناکامی نوشتہ دیوار ہے۔۔

Scroll To Top