اب قومی سیاست کے ساتھ یہ خوفناک مذاق جاری نہیں رکھا جاسکتا 30-06-2015

سکاٹ لینڈ کی ٹیم عمران فاروق کیس کی تفتیش کے سلسلے میں ان تین ملزموں سے پوچھ گچھ کے لئے پاکستان پہنچ چکی ہے جو ہماری سکیورٹی ایجنسیوں نے گرفتار کئے تھے اور جن کے بیانات ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے لئے نوشتہ ءدیوار ثابت ہوسکتے ہیں۔ جب آپ یہ الفاظ پڑھیں گے تو پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع ہوچکا ہوگا اور ملزموں کے بیانات ریکارڈ بھی ہورہے ہوں گے۔
ایم کیو ایم کے رہنما طارق میر کے منظر عام پر آنے والے بیان نے ہماری حکومت کے سامنے ایسے سوال کھڑے کردیئے ہیںجن سے نظریں چرانے کا مطلب قوم کے ساتھ غداری کے مترادف ہوگا۔ اگر ایم کیو ایم کی قیادت پارٹی کو بھارتی منشا کے مطابق چلانے کے لئے نیو دہلی سے فنڈنگ وصول کرتی رہی ہے تو یہ جرم اس الزام سے ہزار گنا بڑا ہے جس کے تحت جنرل پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ ہماری حکومت کو اس بات کا انتظار ہو کہ عمران فاروق کے قتل کا کیس کس نوعیت کے انجام تک پہنچتا ہے۔ لیکن ہمارے قومی مفادات اب کسی قسم کے انتظار کی اجازت نہیں دیتے۔
ایک معاملہ تو ایسا ہے کہ اس پر کسی قسم کی تفتیش کی بھی ضرورت نہیں۔
دنیا میں دوسرا کون سا ملک ایسا ہے جس کی ایک بڑی سیاسی جماعت کا ہیڈکوارٹر سات سمندر پار ہو ‘ جس کے قائد نے 23برس کے عرصے میں اپنی سرزمین پر قدم ہی نہ رکھا ہو۔ اور جس کا قائد اپنے رضا کارانہ طور پر اختیار کردہ ملک کا شہری ہو۔۔۔؟
اگر ہماری قومی قیادت یا حکومت غور کرے تو اس بات کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا سب سے اہم شہر سیاسی اور اقتصادی طور پر ایک غیر ملک کی ایماءکے مطابق چلایا جارہا ہے اور یہ سلسلہ اب کئی دہائیوں سے جاری ہے۔
سب سے پہلے تو ایم کیو ایم کو سرکاری طور پر بتا دیا جانا چاہئے کہ اگر وہ ملکی سیاست میں حصہ لئے رکھنا چاہتی ہے تو اسے لندن کا ہیڈکوارٹر بند کرنا ہوگا اور اس کی اعلیٰ قیادت کو سرزمین پاکستان پر سے ہی آپریٹ کرنا پڑ ے گا۔
اگر الطاف حسین کے لئے یہ ممکن نہیں تو یا تو وہ خود قیادت سے مستعفی ہوجائیں یا یہاں کی قیادت انہیں علیحدہ کردے۔
اب قومی سیاست کے ساتھ یہ خوفناک مذاق جاری نہیں رکھا جاسکتا۔

Scroll To Top