کیا ملک کا دوسرا بڑا خان اِک نئی تاریخ لکھنے میں کامیاب ہو گا ؟

یہ کالم 3جولائی 2015ءکو بھی شائع ہوا تھا۔۔۔۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ اگر ووٹ سے تبدیلی نہ آئے تو مارشل لاءیا خونی انقلاب کا راستہ رہ جاتا ہے۔
تبدیلی کا خواب دیکھنے والے پہلے خان عمران خان نہیں اصغر خان تھے ۔ اصغر خان کے ساتھ میرا سیاسی رشتہ 1972 میں قائم ہوا اور ان کے ساتھ میری جو ابتدائی ملاقاتیں ہوئیں ان کا پیدا کردہ تاثر آج بھی میرے ذہن میں زندہ ہے۔اصغر خان بھی سیاست میں تبدیلی کی زبر دست امنگ لے کر آئے تھے ۔ اور ان کے سامنے بھی تبدیلی کا لائحہ عمل یہی تھا ۔ جو عمران خان کی تحریک میں نظر آتا ہے۔
عوام ووٹ کی طاقت سے ظلم جبر عدم مساوات استحصال اور حرص و ہوس کے نظام کو اٹھا کر بحر ہند یا بحیرہ عرب میں پھینک دیں۔
مجھے یاد ہے کہ 1972 کی ایک ملاقات میں میں نے ایئر مارشل صاحب سے کہا تھا کہ ” اگر جمہوریت نام کا نظام پاکستان میںانقلاب لانے میں کامیاب ہو گیا تو یہ بنی نوع انسان کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہو گا۔“
جواب میں وہ بولے تھے ۔ ” جمہوریت کے علاوہ اور کوئی راستہ ہے بھی تو نہیں ۔“
میں ان کی اس رائے سے اختلاف کرنا چاہتا تھا لیکن خاموش رہا۔
دس برس بعد جب وہ ایبٹ آباد میں اپنے گھر کے اندر نظر بند تھے ، تو میں ان سے ملنے گیا تھا۔
”مجھے دکھ ہے ایئر مارشل صاحب کہ اس قوم نے آپ جیسے باہمت اور صاف ستھرے قائد کو ضائع کر دیا۔“
میں نے گفتگو کے دوران کہاتھا ۔
وہ بولے تھے ۔” شاید قدرت کے نظام میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔ ایک شخص تبدیلی کا خواب لے کر اٹھتا ہے لیکن اس خواب کی تعبیر حاصل کرنا اس کا مقدر نہیں ہوتا۔پھر بھی کیا یہ بڑی بات نہیں کہ وہ خواب پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔۔؟
میں نہیں چاہوں گا کہ یہ قوم ایک اور ” خان “ کو بھی ضائع کر دے۔
اور کیا یہ حقیقت نہیں کہ جو کچھ اصغر خان حاصل نہیں کر سکے تھے وہ عمران خان نے بہر حال حاصل کر لیا ہے۔آج ان کی تحریک انصاف ملک کی دوسری بڑی سیاسی پارٹی ہے ۔
لیکن جو سوال مجھے اکثر پریشان کرتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا سب سے بڑی سیاسی پارٹی بننے کے بعد بھی تحریک انصاف اس نظام کے اندر رہ کر اس نظام کو تاریخ کے کباڑ خانے میں پھینک سکے گی۔؟
میری بڑی شدت کے ساتھ یہ خواہش ہے کہ تاریخ اس سوال کا جواب اثبات میں دے ۔
لیکن میں جب بیتی ہوئی تاریخ پر نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے دور دور تک ایساانقلاب نظر نہیں آتا جو ووٹ کی قوت سے آیا ہو ۔
یہ ضرور ہوتا ہے کہ انقلاب کی موج اُٹھتی ہے تو عوام اس پر سوار ہو جاتے ہیں ۔
کیا عمران خان نئی تاریخ لکھ پائیں گے ۔
یہ سوال میں صرف اپنے آپ سے نہیں پوچھتا ۔ میں نے عمران خان سے بھی پوچھا ہے ۔
انہیں بڑا کامل یقین ہے کہ ایسا ہو کر رہے گا ۔
اور میری دعا ہے کہ عمران خان کا یہ یقین کامل تاریخ کا ایک بڑا سچ بن جائے ۔

Scroll To Top