فرانسیسی سائیکلسٹ پاکستانی ثقافت اور کھانوں کے دلدادہ ہوگئے

یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستان میں غیر ملکیوں کی جان ومال کو خطرہ ہے، غیر ملکی پلیئرز

ایکسپریس سے خصوصی بات چیت میں فرانسیسی سائیکلسٹ اولیور موزاڈ اور بیٹا جولیس موزاڈ کا کہنا تھا کہ ہم ملائشیا اور نیپال سمیت دیگر ممالک سے ہو کر پاکستان آئے ہیں، سچ پوچھیں تو یہاں کی خوبصورتی نے بہت متاثر کیا، حکومت سیاحت کی طرف بھر پور توجہ دے توپاکستان ٹوررزم کے ذریعے سالانہ خطیر رقم کما سکتا ہے۔

ایک سوال پر غیر ملکی سائیکلسٹس کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستان میں غیر ملکیوں کی جان ومال کو خطرہ ہے، ہمیں پاکستانیوں کی مہمان نوازی نے بھر پور متاثر کیا ہے، پاکستانی مہمان نواز ہیں اور مہمانوں کی قدر کرنا جانتے ہیں، یہاں رہ کر ہم نے بعض کھانے پہلی بار کھائے ہیں، یہ کھانے واقعی مزیدار ہیں۔

اولیور موزاڈ اورجولیس موزاڈ کا کہنا تھا کہ پہلی بار پاکستان آئے ہیں، مستقبل میں بار بار یہاں آنا چاہیں گے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ فرانسیسی سائیکلسٹس ان دنوںپاکستان کے دورے پر ہیں، گزشتہ روز دونوں کھلاڑیوں نے پاکستان کے 15 سائیکلسٹ کے ساتھ لاہور میں شیڈول ریلی میں بھی حصہ لیا، اب اولیور موزاڈ اورجولیس موزاڈ اسلام آباد میں موجود ہیں اور 15 روزہ دورے پر ناران سے خنجراب پاس تک کا سفر سائیکل پر طے کریں گے۔

Scroll To Top