طے شدہ حکمت عملی کے تحت قومی اداروں پر الزام تراشی جاری ہے

  • کب ہمارے اہل سیاست اپنی شکست تسلیم کرکے سیاسی پختگی اور بالغ نظری کا ثبوت دیں گے
  • قائدین نے ہمیشہ سرمایہ دار کو ترجیح دی چنانچہ سینٹ الیکشن کی شکل میں نتیجہ پھر سامنے ہے
  • مریم صفدر اور بلاول زرداری کی سیاسی ناپختگی تھی کہ صادق سنجرانی کو باآسانی ہٹایا جاسکتا ہے
  • وزیر اعظم عمران خان کا تازہ معرکہ میں سرخرو ہونا اپوزیشن جماعتوں کے حوصلہ پست کرگیا

سینیٹر میر حاصل بزنجو نے چیرمین سینٹ نہ بنے پر جس بے بنیاد غم وغصہ کا ا ظہار کیا بظاہر اس نے ان کی شخصیت کے وقار کو بری طرح مجروع کرکے رکھ دیا۔ نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاصل بزنجو جیسے تجربہ کار سیاست دان کو کیونکر خبر نہ ہوئی کہ ہماری سیاست خالصتا مفادات کے گرد گھومتی ہے ، تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ انفرادی و گروہی تقاضے ہی غالب آتے رہے ، پوچھا جانا چاہے کہ صادق سنجرانی جب چیرمین بنے تھے تو کون سے سنہرے اصولوں پر عمل درآمد کیا گیا جو اب ناپید دکھائی دئیے ۔حد تو یہ کہ ہے کہ چیرمین صادق سنجرانی کو ہٹانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں نے ان کے خلاف چارج شیٹ تک جاری کرنے کی زحمت نہ کی۔
حقیقت یہ ہے کہ چیرمین سنیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی نے اپوزیشن جماعتوںکو ہلا کر رکھ دیا ، حزب اختلاف کے مشترکہ امیدوار میر حاصل بزنجو سے رائے شماری سے قبل جب میڈیا نے سوال وجواب کیے تو ان کا دعوی تھا کہ وہ جیت چکے ہیں ،صرف اعلان ہونا باقی ہے ، ادھر چیرمین سنیٹ پر تحریک عدم اعتماد کے لیے رائے شماری سے قبل مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی سمیت حزب اختلاف کی کسی ایک جماعت نے بھی کسی خدشہ یا خطرے کا اظہار نہ کیا، باشعور پاکستانیوں کا یہ سوال بھی غلط نہیں کہ آخر کب ہمارے اہل سیاست کھلے عام اپنی شکست تسلیم کرکے سیاسی پختگی اور بالغ نظری کا ثبوت دیں گے۔
کہا جاسکتا ہے کہ یہ مریم صفدر اور بلاول زرداری کی سیاسی ناپختگی تھی جو سمجھتے رہے کہ صادق سنجرانی کو باآسانی ہٹا کر وہ نیا چیرمین سنیٹ لاسکتے ہیں، آخر دونوں نوجوان سیاسی رہنما کیونکر نہ جان سکے کہ ہماری سیاست اصولوں اور نظریات سے تہی دامن ہے ، یہ بھی کہ آج سابق صدر آصف علی زرداری اور نوازشریف کون سے نظریہ کی قیمت چکانے کے لیے جیلوں میںموجود ہیں۔ اس کے برعکس پانامہ لیکس ہو یا منی لائنڈرنگ کیس ہر ایک میں ملک کو نقصان پہنچایا گیا۔ کون نہیں جانتا کہ کم وبیش سب ہی سیاسی ومذہبی جماعتوں میں کثرت کے ساتھ ایسے لوگ نمایاں ہیں جو پیسے کے اعتبار سے مثالی حثیثت کے حامل ہیں، بیشتر سیاسی ومذہبی جماعتیں قومی ، صوبائی حتی کی سینٹ کے ٹکٹ بھی ان ہی نوازتی ہیں جو دل کھول کر پارٹی فنڈ میں چندہ دینے کا رجحان رکھتے ہوں۔ اب مسقبل میں بہتری کے لیے لازم ہے کہ اپوزیشن جماعتیں طے کرلیں کہ وہ اصولوں کی سیاست کو ہی مقدم رکھیں ، مثلا کسی ایسے شخص کو ہرگز اپنی صفوں میںجگہ نہ دی جائے جس کا مقصد صرف اور صرف پیسے بنانا ہے اس کے برعکس ان مرد وخواتین پارٹی ورکروں کو اعلی عہدوں سے نوازا جانا چاہے جو زیادہ سے زیادہ عوام کی مشکلات حل کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں ۔
قوم کو باخوبی یاد ہے کہ پی پی پی اور پی ایم ایل این نے میثاق جمہوریت ترتیب دیا تھا، لندن میں جلاوطنی کے دور میں دو سابق وزراءاعظم بے نظیر بھٹو مرحوم اور میاں نوازشریف نے اعلانیہ طور پر کہا کہ وہ آئندہ اصولوں کی سیاست کریں گے ، اس وقت دونوں رہنما بلندوبانگ دعوے کرتے رہے کہ مسقبل میں عوامی فلاح وبہبود کی ان کی بنیادی ترجیح ہوگی مگر پھر کیا ہوا میاں نوازشریف اور ان کے بچے پانامہ لیکس میں ملوث پائے گے تو سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور منی لائنڈرنگ کے مقدمات بھگت رہے ہیں۔
بدقسمتی ہے کہ سیاسی جماعتوں نے کبھی عوامی فلاح وبہبود کو مقدم نہیں جانا، قائدین کے منصب پر فائز حضرات کے لیے سیاسی کارکن کی بجائے سرمایہ دار ہی ترجیح اول قرار پایا ، چنانچہ سینٹ الیکشن کی شکل میں نتیجہ ایک بار پھر سامنے ہے۔ سیاسی پنڈتوں کی رائے ہے چیرمین سینٹ کو ہٹانے میں اپوزیشن کی ناکامی کی وجہ کچھ بھی ہو مگر اب حزب اختلاف کو اس جھٹکے سے سھنبلنے میں وقت لگے گا، یعنی وزیر اعظم عمران خان کا اس معرکہ میں سرخرو ہونا اپوزیشن جماعتوں کے حوصلہ پست کرگیا، یہ تاثر بھی مضبوط ہورہا کہ حالیہ ناکامی کے زمہ دار مولانا فضل الرحمن ہیں جو مسلسل تاثر دیتے رہے کہ چیرمین سینٹ صادق سنجرانی کا جانا ٹھر گیا ۔ یہ سوال بھی پوچھا جارہا کہ کیا پی پی پی اور پی ایم ایل این جمیت علماءاسلام ف کے سربراہ کے جال میں آگے، یعنی کئی دہائیوں سے سیاست کے تجربہ کار کھلاڈی کیونکر اندازہ نہ کرسکے کہ ان سے زیادہ بولی لگانے والے کھیل پلٹ بھی سکتے ہیں۔
اہل سیاست کی اکثریت اپنا قبلہ درست کرنے کو تیار نہیں، طے شدہ حکمت عملی کے تحت قومی اداروں کو نشانہ بنانے کی پالیسی جاری ہے ، کرپشن کے ہر مقدمہ کو جمہوریت کے خلاف سازش قرار دے کر لوگوں کو بے وقوف بنانا نمایاں پالیسی ہے ۔ رہنمائی کا دعوی کرنے والے سوچنے کو تیار نہیں کہ اہل پاکستان تیزی سے باشعور ہورہے وہ اس حقیقت کو باخوبی سمجھ رہے کہ چند دہائیوں میں دنیا کے کئی خطوں میں مال ودولت جمع کرنے والے ہرگز ملک کے ساتھ مخلص نہیں۔ دراصل حزب اختلاف کے حکومت سے اختلافات اپنی جگہ مگر یہ سوال بہرکیف موجود ہے کہ کیا ملک کو ددپیش مسائل کسی قسم کی محاذآرائی کی اجازت دیتے ہیں، درحقیقت کمزور ملکی معیشت اور تیزی سے تبدیل ہونے والی عالمی وعلاقائی صورت حال قومی سطح پر اتفاق واتحاد کی ضرورت کئی گنا بڑھا چکی۔

Scroll To Top