پاکستان آج بھی اپنے نظام کی تلاش میں ہے 27-06-2015

کہا جاتا ہے کہ آئین بالادست ہے ۔ وطنِ عزیز میں جو لوگ یہ بات کرتے ہیں ان کا مطلب آئین سے 1973ءکا وہ آئین ہے جو کئی بار ٹوٹا جوڑا گیا ` بگڑا اور سنوارا گیا۔
کیا کوئی آئین اُس آئین پر بالادست ہوسکتا ہے یا قرار دیا جاسکتاہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیاہے۔؟ اگر کسی شخص کا جواب اثبات میں ہے تو میں اسے مسلمان نہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گا۔
آنحضرت نے اپنے آخری بڑے خطبے یعنی خطبہ ءحجتہ الوداع میں واضح طور پر فرما دیا تھا کہ آج اللہ کا دین مکمل ہوگیا اور قیامت تک یہی دین آپ کا دین ہوگا۔
اگر وہ دین برحق تھا تو پھر کسی دوسرے آئین کو کیسے اس دین پر فوقیت دی جاسکتی ہے۔؟ اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں کیسے ہم یہ شرمناک دعویٰ قبول کرسکتے ہیں کہ یہاں حاکمیت کسی ایسے فرد یا افراد کے کسی ایسے گروہ کی ہوگی جو آئینِ خداوندی کی مقرر کردہ پابندیوں سے آزاد ہوگا۔؟
اگر ابلیس انسان کا روپ دھار کر مغرب کے عطا کردہ نظام کے تحت عوام کا بالواسطہ اعتماد حاصل کرکے مسندِ اقتدار پر بیٹھ جائے تو کیا ہم اس کی حاکمیت قبول کرلیں گے ؟
آئینِ خداوندی کے تحت حا کمیت صرف خدا کی ہے۔ اور خدا کی حاکمیت کے نفاذ کا اختیار صرف ایسے شخص کو ملتاہے جو بادی ءالنظر میں سب سے افضل گردانا جاتا ہو۔ اگر حاکمیت ایسے شخص کو مل جائے جو خدا کے احکامات کی کھلم کھلا نفی کرتا ہو۔۔۔ اور جس کے رہن سہن کے طریقوں سے صاف لگتا ہو کہ وہ اللہ کے رسول کے نقشِ قدم پر چلنے میں نہ تو کوئی دلچسپی رکھتا ہے۔ اور نہ ہی رسول اکرم کی امت کی قیادت کا اہل ہے تو اس آئین کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے جس کے تحت وہ اقتدار پر قابض ہوا ہو۔؟
جس نظام کو ہم جمہوریت کہتے ہیں وہ دراصل امراءکی حاکمیت کا نظام ہے۔ اس نظام کی بنیاد تیرہویں صدی کا وہ معاہدہ ہے جسے میگناکارٹا کہاجاتا ہے جس کی رُو سے انگلینڈ کے امراءنے بادشاہ سے یہ منوا لیا کہ اسے اپنے اقتدار میں منتخب امراءکو بھی شامل کرنا پڑے گا۔
یہاں سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا جمہور کی نمائندگی کرنے کا حق صرف قوم یا ملک کے امراءکو حاصل ہوتا ہے ؟ اگرنہیں تو جس آئین کے تحت امراءکی حاکمیت کا یہ نظام قائم ہوا ہے وہ کیسے حتمی اور بالادست قرار دیا جاسکتاہے۔؟
وقت آگیا ہے کہ پاکستان اپنے نظام کی تلاش دوبارہ شروع کرے۔ اس تلاش کو کامیاب بنانے کے لئے اسے ریاست ِ مدینہ کے چالیس برسوں کی طرف جانا ہوگا جب خدا کی حاکمیت قائم کرنے کا طریقہ کار وضع کیا گیا تھا۔دوسری صورت میں یہی سیاسی قیادتیں ہمارا مقدر بنی رہیں گی جن کے کردار نے پاکستان کو انتشار اور تباہی کے دہانے کی طرف دھکیلنے کا عمل بڑی ثابت قدمی کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے۔
تبدیلی کی جو آوازیں ” سٹے ٹس کو “ کو ختم کرنے کی بات کرتی ہیں انہیں سوچنا چاہئے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جس آئین اور جس نظام نے یہ سٹے ٹس کو (status quo)ہمیں دیا ہے وہ تو قائم رہے اور ”سٹے ٹس کو “ ٹوٹ جائے۔۔۔؟“

Scroll To Top