ُٓاپوزیشن اپنے ہی خود کش حملے میں ڈھیر ہوگئی

  • اس سیاسی دہشتگردی میں بڑی رسوائی پیودھی کے حصے میں آئی
    چاچے بھتیجی کی لڑائی بھی نون لیگ کو لے بیٹھی
  • وہ کسی سر پھرے بُوزے کی طرح زمین پر پٹخنیاں مارتے رہے
    جاتی عمرہ کا خاندانی کھلواڑ آسمان سے باتیں کرنے لگا۔
    وقتی طور پر نواز کی بجائے شوباز کا بیانیہ سبقت لے گیا۔
    بغض عمران میں وہ اپنے ہی تھوکے کو چاٹ رہے ہیں
    پی ٹی آئی حکومت پے درپے کامیابیوں کے سفر پر گامزن!

بعض اوقات کسی ہارے ہوئے جواری کی کیفیت اس بُوزنے کی سی ہو جاتی ہے شرارتی بچے جس کی دُم پر چنگاریاں چھوڑتی شُرلی باندھ دیتے ہیں۔ اور جونہی شُرلی کی تپش اس کے وجود کو جھلسانے لگتی ہے تو وہ مارے درد کے زمین پر پٹخنیاں مارنے اور بے بھاو¿ کی اچھل کود کے دوران چنگھاڑتے ہوئے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے۔
پچھلے روز سینٹ میں غیر متوقع مگر شرمناک شکست کے بعد شوباز نا شریف اور سیاسی الماس بوبی بلاول بالکل اسی طرح اچھل کود اور پٹخنیاں مار رہے تھے۔ کل تک جس صادق سنجرانی کو بڑے فخر سے زرداری اور بلاول ہمارا آدمی اور ”بھٹو اسٹ“ قرار دے رہے تھے۔ آج اسے حقارت سے سلیکٹڈ اور جعلی چیئرمین بتا رہا تھا۔ اور بھول گیا تھا کہ جس شوباز کے پہلو میں کھڑے ہو کر وہ یہ در فنطنیاںچھوڑ رہا تھا وہ کل تک تو اس کے باپ کا پیٹ پھاڑ کر مال مسروقہ نکالنے کے دعوے اور وعدے کر رہا تھا اور اسے لاہور لاڑکانہ اور کراچی کی سڑکوں پر گھسیٹنے کی گیدڑ بھبھکیاں دیتے تھکتا نہ تھا۔ سیاسی شطرنج کے یہ ہارے ہوئے جواری آج اس شرمناک تضاد کو جمہوریت کا حسن کہہ رہے تھے لکھ دی لعنت ایسے جمہوری حسن پر۔
یہاں سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عاقبت نا اندیشن اپوزیشن کو اپنے گھر کے اندرونی حالات کا علم کیو ں نہ ہوا۔ کیا وہ نہیں جانتی اس کی صفوں میں کس طبقے کے لوگ شامل ہیں۔ اور یہ کہ پچھلے ایک عرصے سے اقتدار سے محرومی کے بعد سے اس کے اقتدار پرست ساتھی اسے تپاگ کر ادھر اھدر کھسک رہے ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر تو یہ کہ اقتدار سے محرومی کے بعد نام کے شریفوں کی اپنی صفوں اور گھریلو تنازعات کے سبب سے ساری نون لیگ چاچے اور بھتیجی کے درمیان تقسیم ہو چکی ہے۔ اور اب اس اقتدار پرست پارٹی کے پاس و حدت نام کی کوئی خوبی باقی نہیں رہی۔ شروع میں شوبازمیاں میانہ روی پر مبنی بیانیے کے ساتھ تھے جبکہ باپ بیتھی چند ماہ پر اسرار خاموشی کے بعد ایک بار پھر سے مزاحمتی بیانیے پر اتر آئے تھے۔ اس تبدیلی نے نون غنوں کو بددل کرنے میںاہم کردار ادا کیا ہے۔۔
یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اپوزیشن نے بیٹھے بٹھائے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا پنگا کیوں لیا؟
جواب ایک ہی عاقبت نا اندیشی۔
بغض عمران میں ہر وہ کام انہیں کرنا ہے جو انہیں ذلت و رسوائی کی دلدل کی طرف دھکیلنے والا ہو۔
اپوزیشن کی کوڑھ مغزی کا انداز، اس ایک حقیقت سے لگا لیجئے کہ سینٹ میں بیٹھا ہوا ہر رکن سنجرانی کے حسن اخلاق اور ایوان کو نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ چلانے کے حوالے سے ان کا گردیدہ تھا۔ پھر ا سکے باوجود عدم اعتماد کی تحریک کیوں پیش کی گئی جبکہ قرائن سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ شکست ہو جائے گی۔اس حوالے سے بعض بڑے سبق آموز پہول سامنے آئے ہیں۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیوں کی قیادتیں یعنی نواز و زرداری جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ ان کے مابین باہمی رابطے کا فقدان ہے ۔ مزید براں اندر خانے کا معاملہ یہ ہے کہ سنجرانی تو چوائس ہی زرداری کی تھی۔ اور اسے چیئرمین سینٹ منتخب کروانے کے بعد زرداری اور بلاول نے بڑی ترنگ اور طمطراق سے انہیں اپنا آدمی قرار دیا تھا۔ کہان جاتا ہے کہ پچھلے روز تک بھی پیپلز پارٹی صرف اوپر اوپر سے سنجرانی کی خلاف ورزی کر رہی تھی اندر خانے وہ انہیں ہٹانے کے حق میں نہ تھی مگر چونکہ زرداری کی مجبوری ہے کہ وہ حالات کے اس موڑ پر اپوزیشن کی دوسری جماعتون بطور خاص نون لیگ سے راستے جدا کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی سو اس نے بادل نخواستہ عدم اعتماد کی تحریک کا ساتھ دیا۔ وگرنہ تو وہ سمجھتا تھا کہ سنجرانی کے ساتھ پیپلز پارٹی کا کوئی مسئلہ نہیں وہ تو ہے ہی اس کی اپنی چوائس ۔ سنجرانی اگر چیئرمین کے منصب رپ برقرار رہتا ہے تو یہ ایک معین مفہوم میں اس کی فتح ہوگی۔
سو سنجرانی کے خلاس عدم اعتماد کے پنگے کے حقیقی محرک باپ بیٹی یعنی نواز اور بیگم صفدر تھے۔ وہ سنجرانی کو ہٹا کر دراصل حالیہ ایام میں اپوزیشن کی پے درپے شکستوں کے احساس سے آزاد ہو رک عمران مخالف تحریک میں از سر نو جان ڈالنا چاہتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ عمران خان کی تحریک انصاف اور دیگر اتحادی پارٹیاں یقینا سنجرانی کی حمائت کریں گی مگر چونکہ سینٹ میں ان کے پاس عددی قوت کا فقدان ہے اس لئے شکست ان کا مقدر ہوگی۔
پر افوس بغض عمران میں نواز اور بیگم صفدر اسقدر اندھے ہو چکے تھے کہ انہوں نے اپنی صفوں میں جاری شکست و ریخت کا اندازہ لگانے کی فرصت ہی نہیں ملی۔
اور یوں اب کہ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک اعدم اعتماد نا کام ہو چکی ہے اپوزیشن سمیت نون لیگ، نوا ز و بیگم صفدر کو شرمناک پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اس شکست کے بعد شوباز اور سیاسی الماس بوبی نے ہارے ہوئے جواریوں کی طرح جو واویلا اور پٹ سیاپا کیا وہ محض اشک شوئی کے مترادف تھا ۔ وگرنہ سمجھا یہی جا رہا ہے کہ نواز و بیگم صفدر کی شکست پر نہ صرف شوباز بلکہ سیاسی الماس بوبی کو اندرونی اطمینان میسر آیا تھا۔
خلاصہ بحث: صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی چونکہ نواز اور بیگم صفدر کی ناکامی ہے اور نون لیگ کی اندرونی لڑائی کے حوالے سے یہ پیش رفت شوباز کی فتح یابی کے مترادف ہے ۔ لہٰذا سمجھا یہی جا رہا ہے کہ مستقبل میں نون لیگ پر شوباز گروپ کا قبضہ ہوگا اور نواز و بیگم صفدر حرف غلط ہو سکتے ہیں۔ نئی صورت حال میں زرداری بھی شوباز سے مفاہمت کو ترجیح دے گا۔ جہاں تک سیاسی بروکر ملا جی کا معاملا ہے ۔ تو آنے والے کچھ ہفتوں تک وہ تین میں نہ تیرہ میں ہوگا۔
عمران حکومت البتہ بہتر نفسیاتی فضا میں کام کرنے کی پوزیشن میں ہو جاگی۔۔۔

Scroll To Top