سیاسی مفادات کے لئے ملک کے مقدر کے ساتھ کھیلنا بھی ایک قسم کی غداری ہے 26-06-2015

ایم کیو ایم کے بارے میں بی بی سی کی رپورٹ نے ملکی سیاست میں ایک بار پھر بھونچال سابرپا کردیا ہے۔ میں متذکرہ رپورٹ کی تفصیلات میں نہیں جاﺅں گا۔ یہاں صرف د و الزامات کا ذکر کردینا کافی ہے جو اِس رپورٹ میں ایم کیو ایم پر لگائے گئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ایم کیو ایم کو بھارت کی طرف سے مالی امداد ملتی رہی ہے۔ اور دوسرا یہ کہ کافی لمبے عرصے سے ایم کیو ایم اپنے کارکنوں کو ” عسکری تربیت “ کے لئے بھارت بھیجتی رہی ہے۔
پہلے الزام کی بنیاد اُن اعترافی بیانات کو بنایا گیا ہے جو لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے دو سینئر رہنماﺅں نے منی لانڈرنگ کے کیس کی تفتیش اور پوچھ گچھ کے دوران برطانوی پولیس کو دیئے ہیں۔ دوسرے الزام کے بارے میں بی بی سی نے مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی اطلاعات پر انحصار کیا ہے۔ مختلف ذرائع میں لازمی طور پر پاکستانی ذرائع بھی شامل ہیں۔ یہ ایک منطقی بات بھی ہے کیوں کہ بھارت میں حاصل کی جانے والی عسکری تربیت کا ہدف پاکستانی معاشرے کے علاوہ اور کیا ہوگا۔ اس ضمن میں کراچی کے ایس ایس پی راﺅ انوار کی اس پریس کانفرنس کا ذکر بھی ہوا ہے جو تقریباً دو ماہ قبل ہوئی تھی اور جس میں کھل کر ان شواہد کا ذکر کیا گیا تھا جو کراچی کی دہشت گردی کا گہرا تعلق بھارت میں ” ضروری تربیت “ حاصل کرکے آنے والے کارکنوں کی سرگرمیوں سے جوڑتی ہے۔ متذکرہ پریس کانفرنس نے جو بھونچال بپا کیا تھا وہ سب کو یاد ہوگا۔ اور سب کو یہ بھی یاد ہوگا کہ راﺅ انوار کے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کی ضرورت محسوس کرنے کی بجائے سندھ کی حکومت نے فوری طور پر راﺅ انوار کا تبادلہ کردیا تھا۔
وفاقی حکومت نے بھی الزامات کی سنگینی کا نوٹس لینے کی بجائے سارے معاملے کو دبا دینے کی پالیسی اختیار کی تھی۔
ایم کیو ایم نے حسب سابق تمام الزامات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ الزامات کا کوئی واضح جواب دینے کی بجائے ایم کیو ایم نے اِس دلیل کا سہارا لیا ہے کہ اس قسم کے الزامات اس پر پہلے بھی لگتے رہے ہیں اور ان کی حیثیت ایم کیو ایم کا امیج تباہ کرنے کے لئے میڈیا ٹرائل جاری رکھنے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس دلیل سے ایم کیو ایم کی بے گناہی ثابت نہیں ہوتی۔ ایک مطلب یہ بھی نکلتاہے کہ ایم کیو ایم نے ابھی تک اپنی وہ روش نہیں بدلی اور وہ خصوصیات تبدیل نہیں کیں جن کی وجہ سے اس پر ” عسکریت “ اور ” تخریب کاری “ کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔
یہ محض اتفاق ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل نے اس سارے معاملے میں برطانیہ کو بھی ملوث کردیا ہے ۔ اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق خود بخود قتل نہیں ہوئے تھے اور انہیں سیاسی وجوہ کی بناءپر ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے عناصر نے قتل کرایا تھا تو یہ سارا معاملہ ایم کیو ایم کو ایک منظم دہشت گرد تنظیم کا درجہ دے ڈالے گا۔ کون نہیں جانتا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت ہے۔ اگر ثابت ہوجاتا ہے کہ پاکستان کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت کی قیادت نہ صرف یہ کہ جرائم اور دہشت گردی کی سرپرستی کرتی ہے بلکہ ملک کو عدم استحکام کا شکار بنانے کے لئے بھارت سے گہرے روابط بھی رکھتی ہے تو حکومت کے سامنے کیا آپشن باقی رہ جائے گا سوائے اس کے کہ وہ تمام اقدامات کرے جو ملک کے ساتھ غداری کرنے والوں کے ساتھ کئے جاتے ہیں۔؟
اِس بات کا مطلب یہ نہیں کہ الزامات کی حقیقت جانے بغیر ایم کیو ایم کو مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکتا ہے۔
لیکن الزامات نے اب ایسی سنگین نوعیت اختیار کرلی ہے کہ میاں نوازشریف کی حکومت کا خاموش رہنا ان خدشات کو جنم دے گا کہ ہماری سیاسی قیادت کو ملک کی سلامتی سے زیادہ اپنے اقتدار میں رہنے کا مقصد عزیز ہے۔جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس میں دو باتیں ضروری ہیں ایک تو یہ کہ ایم کیو ایم اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے بی بی سی کو عدالت میں گھسیٹے۔
اور دوسری یہ کہ حکومت پاکستان اپنے تمام تر وسائل اور اپنی تمام تر توانائیوں کو حقیقت کی تہہ تک پہنچنے کے لئے استعمال کرنے پر کمر باندھ لے ۔
اگر ایسا نہیں ہوتا تو ایم کیو ایم کے ووٹ بنک کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوگا۔ ایم کیو ایم کے لاکھوں کروڑوں ووٹروں کی حب الوطنی پر کسی کو شبہ ہو ہی نہیں سکتا۔ انہیں ایسی قیادت کے چنگل سے نکالنا حکومت کی بہت بڑی ذمہ داری بن گئی ہے جو ممکنہ طور پر ملک کے مفادات کے خلاف ملک کے جانے پہچانے دشمنوں کی حلیف ہے۔۔۔

Scroll To Top