جب نکاح خواں خود دولہا بن بیٹھا

  • کون ہوگا جو خفیہ والوں سے پیسے لے کر باپ کی مخبری کرے
  • جب ایک سیاستدان امریکی سفیر سے وزارت عظمیٰ کی بھیک مانگنے پر اتر آیا
    13 سال تک وزارتی مراعات لینے والے نے ایک دھیلے کی کارگزاری نہ دکھائی
    سیاسی وچولہ مختلف سیاسی پارٹیوں کے اختلافات کو ہوا دے کر اپنے مفادات حاصل کرتا ہے
  • پارلیمانی طرز حکومت میں جب نمبر گیم ایک ناسور بن جاتی ہے

لاہور میں شیرانوالہ گیٹ میں واقع ایک مسجدکا حجرہ
یہاں مقیم جمعیت العلمائے اسلام کے امیر مفتی محمود چند سینئر اخبار نویسوں کو انٹرویو دے رہے تھے۔ اس دوران حجرے کی کھڑکی کے قریب ایک نو عمر لڑکا دو ایک مرتبہ تانک جھانک کرتا نظر آیا۔ تو مفتی صاحب کے چہرے پر ناگواری کی کیفیت پیدا ہوتی چلی گئی۔ آخر کار انہوں نے اس لڑکے کو جھاڑ پلا کر وہاں سے رفو چکر کرا دیا۔ اورپھر اپنے مہمان اخبار نویسوں سے مخاطب ہو کر بولے ”یہ بدبخت میرا ہی صاحبزادہ ہے اور سی آئی ڈی(خفیہ پولیس) سے پیسے لے کر میری مخبری کرتا ہے۔
اس سے ملتے جلتے واقعے کا توہین خود بھی شاہدریوں اس واقعے کا تفصیل پھر سہی تاہم اس سے بھی فضل نامی نوجوان کی حرص و ہوس والی سرشت کا اظہار ہوتاہے۔
اس بنیاد پر اٹھنے والی شخصیت جب حضرت، مولانا امیر مدظلہ جیسے لاحقوں اور سابقوں سے آراستہ ہو کر میدان سیاست میں جلوہ گر ہوگی تو آپ خود ہی اندازہ لگا لیجئے کہ اس نے اپنے اقتدار و اختیار کے بل بوتے پر کیا کیاگل نہ کھلائے ہوں گے۔
اسلام رزق حلال پر زور دیتا ہے۔ ذرا سوچیے ملا فضل سے کہ وہ 13سال سے زائد دورانیے تک بے نظیر، زرداری اور نواز شریف کے ادوار حکومت میں خارجہ امور کی پارلیمانی کمیٹی سمیت کشمیر کمیٹی کے بھی چیئرمین رہے اس دوران انہیں وزارتی پروٹوکول سمیت وزراءکی کالونی میں کشادہ بنگلہ، تنخواہیں اور مراعات میسر رہیں۔ اس کے برعکس مگر ان کی کارگزاری کیا رہی۔ کشمیر کاز کے لئے انہوں نے کیا کام کیا۔ صفر بٹا صفر بٹا صفر۔ اب جبکہ ملک میں کرپشن فری کلچر کی دھوم ہے۔ عمران خان کو چاہئے کہ وہ ملا فضل سے پارلیمانی کمیٹیوں کے چیئرمین کی حیثیت سے تیرہ سال کی تنخواہیں اور مراعات واپس لیں۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ حالیہ ایام میں بعض رپورٹرز نے ملا فضل سے اس موضوع سوال کیا تو اس نے شان بے نیازی سے کندھے جھٹکتے ہوئے کہا کہ اس نے کوئی رقم خلاف قانون نہیںلی۔ جو کچھ لیا قواعد و ضوابط کے تحت ہی لیا پر جب ان سے ان کی کارگزاری کی تفصیلات طلب کی گئیں تو وہ آئیں بائیں شائیں کرکے رہ گیا۔ گویا وہی بات جس کا میں نے اس کالم کے آغاز میں ذکر کیا ہے کہ جس انسان کی سرشت ہی لالچ اور حرص کی شیطنت سے آراستہ ہو اس کے لئے روپے پیسے کے معاملات میں حرام حلال کی تمیز ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔
ملا فضل کی سرشت پر غالب حرص و ہوس اور جاہ پرستی کا ایک اور شاخسانہ وکی لیکس سے میسر آتا ہے۔ یہ 2010 کا دور تھا۔ جب ملک پر پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔ زرداری اور صدر مملکت کے عہدے پر براجمان تھا جبکہ یوسف گیلانی کا وزیر اعظم کا منصب سنبھالے ہوئے تھا۔ ملا فضل پی پی پی کا حمایتی اور کشمیر کمیٹی کی چیئرمینی سے لطف یاب ہو رہا تھا۔ مگر لالچ اور حرص اور جاہ اقتدار کے نشے سے مغلوب ملا کسی طور اس وقت کی پاکستان میں امریکی سفیر این پیٹرسن سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
تب اس کے دماغ میں ایک فتور آیا اور وہ امریکی سفیر کے سامنے راز دل اگل دینے پر مجبور ہو گیا۔ اس نے مترجم کی مدد سے امریکی سفیر سے کہا کہ ہو پاکستان کا وزیر اعظم بننے میں اس کی مدد کرے۔ تو وہ امریکہ کی بہترین خدمت کرسکے گا۔ پر افسوس این پیٹرسن اس کی کوئی مددنہیں کرسکی۔ البتہ اس سے ایک حقیقت تو واضح ہو گئی کہ ملا ڈیزل کو اسلام سے نہیں اسلام آباد سے محبت بلکہ عشق ہے۔
اب ملا کی شدید خواہش ہے کہ وہ ماضی کے ایک سیاسی وچولے اور بروکر نوابزادہ نصر اللہ خان کی طرح اس عہد کا وچولا اور سیاسی بروکر بن جائے۔ ایک معین مفہوم میں وہ یہ کردار حالیہ ایام میں ایک خاص حد تک کامیابی سے ادا بھی کرتا چلا آ رہا ہے۔ اس حوالے سے 25 جولائی 18کے عام انتخابات کے بعد ملک کے سیاسی منظر نامے پر جو پیش رفت ہوئی اور جس نوعیت کے نشیب و فراز آتے رہے ملا نے ان میں اپنا مقام حاصل کرنے کے خوب جتن کئے اوراس ضمن میں اسے نون لیگ اور پیپلزپارٹی کی مشکلات کو ایکسپلائٹ کرنے اور ان سے مالی فوائد حاصل کرنے کے خوب مواقع میرس آئے۔ مثلاً یاد کیجئے جس وقت پارلیمانی اداروں میں سپیکر ڈپٹی اسپیکر اور صدارتی منصبوں کے انتخابات کا مرحلہ تھا اور قومی اسمبلی میں دونوں اکثریتی پارٹیاں یعنی پیپلزپارٹی اور نون لیگ اپنے اپنے ایمدواروں کو سامنے لا رہی تھیں تو ملا ڈیزل نے ابتدا میں دونوں پارٹیوں میں فاصلے پیدا کئے اور پھر جوڑ توڑ اور بھاﺅ تاﺅ کی ایسی فضا پیدا کہ ایک موقع پر ملا جی نے پیپلزپارٹی اور نون لیگ دونوں کے امیدواروں کو کاٹ کر خود کو امیدوار کے طور پر پیش کر دیا۔ اس پر زرداری نے ملا پر طنزیہ جملہ کسا کہ مولوی صاحب آپ کو تو نکاح پڑھانے کا کہا تھا آپ خود ہی دولہا بن بیٹھے ہیں۔
اور اب کہ زرداری اور نواز شریف دوناوں جیلوں میں قید ہیں اور ان کی پارٹیاں اندرونی طور پر شکست و ریخت کا شکار ہوچکی ہیں۔ ملا جی نے اس خلا کو پورا کرنے کے لئے ایک بار پھر سہرا اپنے سر پر باندھ لیا ہے۔ اس ضمن میں پہلے اس نے پشاور میں گیارہ جماعتوں کے ترلے منتاں کرکے ایک جلسہ کیا پھر کوئٹہ میں مدارس کے معصوم بچوں کو اپنی خواہشات کا ایندھن بنا کرجلسہ گاہ میں کھینچ لایا۔ ان جلسوں کی بنیاد پر وہ زرداری اور نواز شریف سے آئندہ کے لئے عمران حکومت کے خلاف کرایے کی مزید جلسیاں او ریلیاں کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مگر تابہ کہ زرداری اور نواز شریف بھی چمڑی جائے دھمڑی نہ جائے کی مثل پر ملا کی قلی پر رکھنے والے یعنی کیونکہ انہیں جیل کے اندر رہتے ہوئے ملا جی کی اندر خانے کی ایک سازش کی خبر مل چکی ہے کہ اس نے ایک شخصیت کے ذریعے اوپروالوں کو سندیہ بھجوایا ہے کہ وہ مزاحمت کی بجائے مفاہمت پر آمادہ ہے بشرطیکہ۔۔۔ اور بشرطیشکہ بڑا ظالمانہ ہے۔ اس پر بات چیت پھر سہی۔

Scroll To Top