بس یہی غیر معمولی کامیابی انہیں ہضم نہیں ہو رہی

  • مخصوص مفاد یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والی بیشتر سیاسی جماعتوں کی قیادتیں عالمی سطح پر رونما ہونے والی جیو سٹریٹجک تبدیلیوں کی سو جھ بوجھوسے عاری ہیں۔ دولت اور لوٹ کھسوٹ کے وسائل نے ان کے وژن اور فہم و فراست کو بہت محدود کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے انہیں عمران خان کی قومی ترجیحات میں اپنی سیاسی موت نظر آتی ہے۔ اور وہ دامے درمے سخنے انہیں اقتدار سے الگ کرنے کے درپے ہیں۔ مگر نہیں جانتیں کہ تاریخ کے پہیے کو الٹا گھمانا نا ممکن ہے

ان کا مسئلہ فقط یہ ہے کہ انہیں یہ غیر معمولی کامیابی ہضم نہیں ہو پارہی۔
وہ جو پچھلے تین ماہ سے دامے درمے سخنے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے تھے کہ عمران حکومت کو گھر بجھوا کردم لیں گے۔
اب اپنے ہی دعووں کے بوجھ تلے بے سدھ پڑے ہیں۔
سیاسی بونا بلکہ الماس بوبی جنوب سے دھمکی دیتا تھا کہ وہ ایک لات مار کر اسلام آباد میں موجود حکومت کو گرا کر رکھ دے گا۔ جبکہ نیم خواجہ سرا حمزہ پر امید تھا کہ اس نے پنجاب کے مقام سے جونہی قالین کھینچا عمران خان دھڑام سے نیچے آن گے گا۔جبکہ ملا ڈیزل نامی سیاسی بروکر دعویدار تھا کہ وہ ملین مارچ کے ذریعے اسلام آباد کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دے گا۔سیاسی یتیم اسفندیار، اچکزئی اور شیر پاو¿ وغیرہ وغیرہ بھی اسی لے پر ڈگڈگیاں بجا رہے تھے۔
مگر کیا ہوا؟کہ ان کے سارے دعوو¿ں اور بڑھکوں دھمکیوں اور گیدڑ بھبھکیوں کے باوجود عمران خان کا دورہ امریکہ نہایت کامیاب رہا۔
پاکستان کی تاریخ میں آج تک کس سربراہ حکومت کا دورہ نہیں امریکہ ہوا جس پر سپر پاورکاغیر بان صدر اسے نہایت کامیاب قرار دے اور وہ اپنے مہمان یعنی عمران خان کو اپنے ملک کے مضبوط اور مقبول ترین لیڈر کا خطاب دے رہا ہو۔ اور پچھلے کئی روز امریکہ کا سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور امریکی میڈیا کے سبھی چینلز بھی عمران خان کے دورہ امریکہ کی کامیابی کے گن گا رہے ہوں۔آج تک یہ اعزاز صرف اور صرف عمران خان کو ہی حاصل ہوا ہے۔
اور یہ اعزاز بھی تو صرف اور صرف عمران خان ہی کے حصے میں آیا ہے کہ انہوں نے کسی غیر ملکی اور وہ بھی امریکہ جیسی سپر پاور کے دارالحکومت واشنگٹن کے عظیم الشان سٹیڈیم کیپیٹل ایرینا ون میں جا کر اوورسیز پاکستانیوں سے خطاب کیا ہو۔ بیس ہزاور افراد کی گنجائش والے سٹیڈیم میں جب تل دھرنے کی جگہ نہ بچی تو لگ بھگ اتنے ہی لوگ سٹیڈیم کے باہر جمع ہو کر اپنے محبوب لیڈر کی تقریر سنتے رہے۔ اس ایک حقیقت نے میزبان ملک امریکی کے دفتر خارجہ اور دیگر پالیسی سازوں کے دل و دماغ پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ اور انہیں یقین ہو گیا کہ عمران خان ہی پاکستانی قوم کے حقیقی اور اصلی رہنما ہیں جو ان کی نمائندگی کا صحیح حق ادا کر رہے ہیں۔
عمران خان کی یہی غیر معمولی عوامی پذیرائی تھی جس نے اگلے روز عمران ٹرمپ ملاقات میں اپنا رنگ جمایا۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان کے انتہائی پرتپاک خیر مقدم سے لے کر وائٹ ہاو¿س کی مٹر گشت مذاکرات اور ظہرانے کی میز پر پرجوش حسن سلوک اور اس حقیقت کا مظہر تھا۔ کہ پاک امریکہ تعلقات میں سال ہا سال کی جمی ہوئی برف بہت حد تک پگھل رہی ہے ۔ اور یہ کہ اب جنوبی ایشیا میں پاک امریکہ کے تعلقات کے نئے باب کے حوالے سے پرامن ماحول کی نئی شروعات ہونے جا رہی ہیں۔
عمران خان کامیاب دورہ امریکہ کے بعد وطن واپس پہنچنے ہی تھے کہ اس کے ثمرات پاکستان کو میسر آنا شروع ہو گئے ۔ پاکستان کے فضائی بیڑے میں شامل ایف 16طیارے ہمارے دفاعی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں۔ امریکہ نے ایف16طیاروں کے لئے ساڑھے بارہ کروڑ ڈالر کی تکنیکی لا جسٹک سپورٹ فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسی طرح بعض شعبوں میں بوجوہ رکی ہوئی فوجی امداد بھی جزوی طور پر بحال کی جا رہی ہے۔
کشمیر کا مسئلہ آزادی کا ایک نامکمل ایجنڈا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اس معاملے کے حال کے لئے ثالثی کی خدمات پیش کر رہی ہیں۔ اس ایک اقدام سے کشمیر کے سوال پر پاکستان کے موقف کو تقویت میں میسر ہوگئی ہے۔ کیونکہ بھارت ایک عرصے سے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دینے کی رٹ لگائے ہوئے تھا۔ تاہم ہمارے مسلسل اصرار اور بین الاقوامی دباو¿ کے نتیجے میں اس نے کشمیر کو ایک متنازعہ مسئلہ تو تسلیم کر لیا مگر ساتھ ہی شملہ معاہدے کی آڑ میں اس ہٹ پر آگیا کہ یہ مسئلہ کسی بین الاقوامی فورم پر زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔اور اسے فقط پاکستان اور بھارت دو طرفہ بنیادوں پر ہی حل کر نے کا جتن کر سکتے ہیں۔ مگر اب کہ صدر ٹرمپ نے از خود اس مسئلے کے حل کے لئے ثالث بننے کی پیشکش کر دی ہے تو اس سے مسئلہ کشمیر ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر ایک مسلمہ ایشو کے طور ابھر آیا ہے۔ اور اگر کوئی غیر معمولی واقعات رونما نہ ہوگئے تو امید کی جا سکتی ہے کہ بر صغیر کے دو بڑے اور ہمسایہ ممالک کے درمیان جنگ و جدلی کا باعث بننے والا یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل ہو جائے گا۔
ایک بڑی کامیابی جنوبی ایشیا میں افغانستان کے سوال پر سامنے آئی ہے۔ افغانستان پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے۔ تا ہم پچھلے کئی عشروں سے یہ ملک بین الاقوامی پاور پلرز کی آویزش کا شکار چلا آرہا ہے۔ اور اس آویزش کا سب سے بڑا نقصان پاکستان کو پہنچا(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر21 )

ہے۔ امریکہ اور سویت یونین کی اس جنگ میں ہماری بہادر افواج اور شہری 70ہزار کی تعداد میں شہید ہوئے جبکہ ہماری معیشت کو ایک سوملین روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اور اب جبکہ اس آویزش کا ایک بڑا حصہ اپنے انجام کر پہنچ چکا ہے تا ہم افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی اور طالبان کی قوت کے مابین ایک شدید تناو¿ کی کیفیت موجود ہے۔ جسے اپنی مخصوص جیو سٹر یٹجک محل ِ وقوع کے حوالے سے حل کرنے میں پاکستان ایک محوری کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ امریکہ افغانستان سے باعزت واپسی اور افغانستان میں اپنے مفادات کی نگہبانی کے لئے پاکستان کی اسی پوزیشن کے حوالے سے ہمارے تعاون کا طلبگار ہے۔
دنیا بھر میں ملکوں کے مابین دوستیاں نہیں مفادات ہی ہوتے ہیں جو انہیں ایک دوسرے کے قریب یا دور لے جاتے ہیں۔ اگر اس وقت امریکہ کو ہماری ضرورت ہے تو ہم بھی اس سے اپنی ضرورت پوری کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
مسئلہ کشمیر پاکستان معیشت کی بحالی، ایڈنہیں ٹریڈ اور افغان ایشو کے حوالے سے ہمیں بھی اپنے قومی مفادات کے تحفظ کا پورا حق حاصل ہے ۔ اہلِ پاکستان کو کامل یقین ہے کہ پاکستان عمران خان کی سربراہی میں اپنا یہ عظیم مقصد حاصل کرلینے میں ضرور کامیاب ہو جائے گا۔
بس یہی وہ سامنے نظر آنے والی بڑی کامیابی ہے جو ہماری کرپٹ اپوزیشن کو بے چین کئے ہوئے ہے۔ اسے شدید خدشہ ہے کہ اگر آنے والے چند مہینے عمران خان کو مزید میسر آگئے تو وہ داخلی اور خارجی محاذوں پر اتنی شاندار کامرانیاں حاصل کر لے گا کہ پھر اپوزیشن پارٹیوں اور خاص طور پر کرپٹ عناصر کا ملکی سیاست سے بوریا بستر ہمیشہ کے لئے گول ہو جائے گا۔ اور یہی صورت حال انہیں ہضم نہیں ہو رہی۔۔

Scroll To Top