اللہ اپنے کسی طاقتور بندے کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ اصلاح احوال کے لئے اپنی آستینیں چڑھا کر میدان ِ عمل میں کودے! 24-06-2015

کراچی میں موت رقص کررہی ہے۔ کچھ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ موت کا یہ رقص سندھ کے باقی علاقوں میں بھی پہنچ چکا ہے۔ گرمی کی شدت اور بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ایک اطلاع کے مطابق ہزار سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ کراچی میں تو صورتحال یہ ہے کہ ہسپتالوں میں میتوں کے لئے جگہ بھی باقی نہیں رہی۔ سرد خانے بھرے جاچکے ہیں۔
یہ درست ہے کہ اس سال کراچی میں پڑنے والی گرمی نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ مگر یہ بھی درست ہے کہ نہ تو ہماری وفاقی حکومت اور نہ ہی سندھ حکومت ریکارڈ توڑ گرمی سے پیدا ہونے والی صورتحال کے لئے تیار تھی۔ وزیراعظم میاں نوازشریف ماہ رمضان کے آغاز سے پہلے یہ دھواں دار بیان دے کر فارغ ہوگئے کہ روزوں میں سحری اور افطار کے وقت لوڈشیڈنگ کہیں بھی برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ برداشت کا لفظ اصل میں دھمکی دینے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جب بھی بھارت کوئی سرحدی خلاف ورزی کرتا ہے تو ہمارے وزیراعظم کی طرف سے بیان آتا ہے کہ قومی سرحدوں پر اشتعال انگیزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس قسم کی بات کہنے کا مقصد شدید غم و غصہ کا اظہار کرنا ہوتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ہمیں بھارت کے اقدامات پر کوئی اختیار نہیں ہوتا اس لئے ہم بھارتی جارحیت برداشت نہ کرنے کا انتہائی بیان دینے کے سوا اور کچھ نہیں کرسکتے۔ کیا ہمارے ملک کے وزیراعظم کا اپنے ہی ملک کی وزارتِ بجلی و پانی پر کوئی اختیار نہیں کہ وہ برداشت نہ کرنے والا بیان دینے پر مجبور ہوگئے ؟ پہلے ہی روزے نے وزیراعظم کو بتا دیا کہ جس قسم کی ان کی حکمرانی ہے اور جس نوعیت کی ان کی ترجیحات ہیں اس کے بعد ان کے سامنے اپنے اندر برداشت کرنے کی خاصیت پیدا کرنے کے اور کوئی چارہ نہیں۔
حکمرانی کا حال یہ ہے کہ وہی شخص وزیردفاع ہے اور وہی شخص پانی و بجلی کے شعبے کا وزیر ہے۔ اور اس شخص کو دونوں شعبوں سے دور دور کا کوئی واسطہ نہیں۔ کمال پھر اس پر یہ ہے کہ سینئر وزیر کی اعانت کے لئے جو جونیئر وزیر تلاش کیا گیا ہے وہ کہتا ہے ۔ ” موت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے۔ وزارت بجلی و پانی اس ضمن میں کیا کرسکتی ہے ۔؟“
پاکستان کے دو سب سے بڑے مسائل توانائی کا بحران اور نیشنل سکیورٹی کو درپیش خطرات ہیں۔ وزیراعظم صاحب نے یہ دونوں مسائل خواجہ آصف کی جھولی میں ڈال دیئے ہیں۔ جن کی سب سے زیادہ جانی پہچانی قابلیت شائستہ انداز کی گالیوں سے مزین بیانات دینے کے شعبے میں ہے۔ ان کی اس قابلیت کی زد میں ہماری فوج بھی آچکی ہے۔ شاید اسی وجہ سے ہی میاں صاحب نے انہیں وزارت دفاع بھی سونپی ہوئی ہے !
ترجیحات کے معاملے میں میاں صاحب کی شہرت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہیں ایسے میگا پراجیکٹس سے شغف ہے جن میں مال بھی خوب بنے اور نام کا ڈنکا بھی خوب بجے۔ جو دو کھرب روپیہ ان میگا پراجیکٹس پر خرچ کیا گیا ہے وہی اگر توانائی کے شعبے پر خرچ ہوتا تو اب تک عوام سکھ کا سانس بھی لے رہے ہوتے اور ہماری معاشی ترقی کا پہیہ بھی چل پڑا ہوتا۔
جہاں تک سندھ کا تعلق ہے اس پر ایک ایسے شخص کی حکومت ہے جس کے سیاسی کیریئر کا آغاز مسٹر ٹین پرسنٹ کی شہرت سے ہوا اور جو ترقی کرتا کرتا اب ” سو فیصد “ کی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ جس شخص کی پہچان ایان علی اور عزیر بلوچ کے ناموں سے ہوتی ہو اس کے بارے میں مورخّ کیا لکھیں گے یہ بتانا ضروری نہیں۔
سندھ میں حکمرانی نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ لوٹ مار اور کرپشن کے عفریت وزارتوں پر قابض ہیں۔ اور بے حسی کا راج اس قدر مکمل ہے کہ ایک طرف شہر میں موت کا رقص جاری ہے تو دوسری طرف صوبے کا وزیراعلیٰ اپنی اسمبلی کے ارکان کے لئے شاندار افطار ڈنر کا اہتمام کررہا ہے۔
اللہ ہمارے حال پر رحم کرے۔
یا پھر اللہ اپنے کسی طاقتور بندے کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ اصلاح احوال کے لئے اپنی آستینیں چڑھا کر میدان ِ عمل میں کودے!

Scroll To Top