ماﺅ فضل الرحمن کا ملین مارچ

مولانا فضل الرحمان نے ماﺅزے تنگ بننے کا فیصلہ کرلیا ہے۔۔۔ انہوں نے اپنے لانگ مارچ کو ملین مارچ کا نام دیا ہے۔۔۔ وفاقی مشیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ” ملین مارچ“ کی وضاحت یوں کی ہے کہ مولانا موصوف کو ” ملین“ کا پیمانہ اب بھی عزیز ہے حالانکہ وہ ” مِلین“ سے ” بِلین“ کا سفرکبھی کا طے کرچکے ہیں۔۔۔
بہرحال ماﺅ فضل الرحمان(چینی دوستوں سے معذرت کے ساتھ)نے اکتوبر کا مہینہ منتخب کیاہے۔۔۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس مہینے پورے پاکستان کا رخ اسلام آباد کی طرف ہوگا۔۔۔ اورانقلاب کا کالا `پیلا `نیلا ` ہرا ` لال ہزار رنگا پرچم پرائم منسٹر ہاﺅس پر لہرا دیا جائے گا۔۔۔ اس پرچم پر زرداری کے ساتھ ساتھ مریم کی تصویر بھی ہوگی۔۔۔ اور ہزار رنگ اس لئے ہوں گے کہ لگ بھگ ہزار آدمی ماﺅ فضل الرحمان کو ” ملین“ کا تاثر دینے کے لئے کافی ہوں گے۔۔۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ماﺅ فضل الرحمان نے بھاگ کر پرائم منسٹر کی کرسی پر بیٹھنے کی کوشش کی اور مریم صفدر نے لپک کر کرسی ہٹالی تو کیا ہوگا۔۔۔؟
ماﺅ فضل الرحمان جیسے جثے کا آدمی دھڑام سے گرے تو آواز آسمانوں تک بھی جائے گی۔۔۔
آسمانوں سے شاید یہ آواز آئے۔۔۔”بدبخت تُو اس قدر منحوس ہے کہ اسلام کے نام پر بنائے گئے ملک میں تم نے اسلام کو بھی ہروا دیا ہے۔۔۔ اس شرمناک کام میں تم اکیلے نہیں ۔۔۔ مولانا سراج الحق بھی شریک ہے۔۔۔“
ایک بات کی وضاحت یہاں ہوجائے کہ ماﺅ زے تنگ کا لانگ مارچ برسہا برس پر محیط تھا۔۔۔ ماﺅ فضل الرحمان نے بھی اکتوبر کا مہینہ دیا ہے۔۔۔ سال نہیں بتایا۔۔۔ شاید انہیں اشارہ ملا ہو کہ اکتوبر کے مہینے میں ایوب خان کی روح سیر کے لئے نکلا کرتی ہے۔۔۔
کوئی نہ کوئی اکتوبر تو ایسا آئے گا ہی کہ۔۔۔۔

Scroll To Top