جمہوریت ،اقتدار اور مذہبی کارڈ

عالم ارض پر پاکستان چونکہ  وہ واحد ریاست ہے جو دین اسلام کے نام پر معرض وجودمیں آئی اور پاکستانیوں کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے جو نبی آخر الزماںﷺ سے والہانہ عقیدت و محبت رکھتے ہیں، ایک تاریخی فقرہ جوچند سال پہلے نواب اکبر بگٹی مرحوم کے بیٹے شاہ زین بگٹی نے ڈاکٹر دانش کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کی جواب میں کہا کہ ہمارے لوگوں کوبلوچستان میں پاکستان کے خلاف بہت اُکسانے کی کوشش کی گئی لیکن نام محمد (ﷺ) ہمیں اس دھرتی کے ساتھ جوڑے رکھتا ہے۔  بلاشبہ محب وطن مسلمانان پاکستان ذات ِنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر بے حد حساس اور جنون کی حدتک جذباتی ہیں۔ ہونا بھی چاہیئے کہ یہی دین اسلام کی اساس بھی ہے کہ وہ ذات اقدس ﷺ کو اپنے مال، ماں باپ، اولاد ، دھن دولت الغرض ہر شے سے عزیزنہ کر لیں اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے۔ اور بلاشبہ ہر وہ شخص جو نبی اکرمﷺ کو نبی آخر الزماں نہیں مانتا وہ آئین پاکستان کے تحت خارج اسلام ہے۔

لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں سیاست اقتدار و دھن کا ایک بے رحم کھیل بن چکا ہے۔ یہاں چند اشخاص اور جماعتوں کے مطابق اگر وہ برسر اقتدار نہیں توجمہوریت بھی خطرے میں، پاکستان بھی خطرہ میں اور نتیجتاً اسلام بھی خطرے میں ہے۔  یہاں سیاست  میں اپنے ذاتی مقاصد کے حصول اور دفاع کے لئے  مذہب کا کارڈ کھیلنا  ان سیاسی جماعتوں کا وطیرہ بن چکا ہے۔

جب  ان کے پاس اپنے مخالفین کے مقابلے میں یا اپنے سرکردہ جرائم کے  جواب کے لئے دلیل موجود نہ ہو یا موجود دلیلیں کمزور ہوں جو عوامی مقبولیت حاصل کرنے میں ناکام ہو جائیں تو پھر اپنے بیانیہ کو مضبوط بنانے کی غرض سے انہیں مذہبی رنگ دے دیا جاتا ہے۔ ان جماعتوں کے طریقہ واردات کے تحت پاکستان میں مذہبی کارڈ کھیلنے کے تین یاچارمراحل یا مدارج ہوتے ہیں۔پہلے مرحلے میں اسلام ،اور پھر دوسرے مرحلے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کو خطرہ میں ظاہرکیا جاتا ہے اور مخالفین کی کامیابی کو ہنودویہود کی سازش بتایاجاتاہے ۔ تیسرے مرحلے میں اپنے سیاسی حریفوں پرکلمہ گو مسلمان ہونے کے باوجود قادیانیوں یا یہودیوں کا ایجنٹ ،قادیانی نواز یاقادیانی ہونے کاالزام لگایا جاتا ہے۔جس کی کوئی دلیل نہیں ہوتی بلکہ مفروضات کی بنیاد پر لوگوں کو خوب باآور کروایا جاتا ہے۔

ن لیگ اور مولانا فضل الرحمٰن  کو مذہبی کارڈ کو موجد قرار دیا جائے تو یقیناً مبالغہ آرائی نہ ہو گا۔ سب سے پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو جوجنرل مشرف کے دور سے پہلے تک ن لیگ کے واحد بڑی سیاسی حریف تھیں، کو ہروانے کے لئے ن لیگ کے ملی بھگت سے کبھی یہودی ایجنٹ کے فتوے دیئے گئے تو کبھی انہیں سیکیورٹی رسک قرار دیا گیا۔ یہ سلسلہ جنرل مشرف کے دور میں بھی نہ تھما ۔ بیگم کلثوم نوازصاحبہ نے اپنے شوہر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان  کی حکومت بحال کروانے کے لئے جنرل پرویزمشرف کے خلاف مذہبی کارڈزکی گیم بھرپور طریقے سے کھیلی۔  ملاحظہ کریں ان کی کتاب’’جبر اورجمہوریت‘‘ کے چند اقتباس اس کے بارے میں کس طرح  وضاحت کرتے ہیں:

پرویزمشرف سے مخاطب ہوکر فرمایا:’’تمہارااصل ایجنڈادوقومی نظریہ کی تذلیل کرنی تھی،تحفظ ختم نبوت کے قانون کو بدلنا تھا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جمہوریت کو ختم کرنا تھا۔اور اب تمہاری حکومت اسلام کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔‘‘تقریربعنوان :اسلام کے لئے نیاخطرہ،فرمودہ ۲۵؍جون ۲۰۰۰ء۔ صفحہ ۶۳)۔

پرویزمشرف کے انقلاب کو قادیانی انقلاب قراردیتے ہوئے فرمایا:’’انگریز نے ۔۔۔آخری حربے کے طورپر ہندوستان کے ایک گاؤں قادیان میں اس نے اپنے وظیفہ خوار ایک شخص مرزاغلام احمد سے جھوٹی نبوت کا دعویٰ بھی کروادیا۔۔۔۔دکھ اورافسوس یہ ہے کہ آج اسی خارجی دین کی وظیفہ خوراین جی او کے لوگ ۱۲؍اکتوبر۱۹۹۹ء کے قادیانی انقلاب کے نتیجہ میں بننے والی حکومت کے وزیربنے ہوئے ہیں۔آج قادیانی ملک کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔آج میں سرفروشان اسلام کی دھرتی صوبہ سرحد میں کھڑی ہوکریہ اعلان کرتی ہوں کہ اب گھرگھر غازی علم دین رحمۃ علیہ شہید پیداکرنے ہونگے۔علماء کو اپنے فروعی اختلاف بھلا کر ناموس رسالت کے لئے متحد ہونا ہوگا۔۔۔میں یہاں اعلان کرتی ہوں کہ قادیانی نوازوداقی وزیربرائے مذہبی امور نے اگر استعفیٰ نہ دیا تو میں اسی صوبے سے اس حکومت کے خلاف تحریک چلاؤں گی‘‘۔(خطاب ۲۵ ستمبر ۲۰۰۰ء۔صفحہ ۱۴۳)

کتاب میں محترمہ صاحبہ موصوفہ نے بھی اسلام کے علاوہ پاکستان کو بھی خطرہ میں ظاہر کیا۔ان کے نزدیک اگرمیاں محمدنوازشریف برسراقتدارنہیں تو جمہوریت بھی خطرہ میں ہے،پاکستان بھی خطرہ میں ہے اور نتیجتاًاسلام بھی ۔بالکل انہی قدروں پر مولانا فضل الرحمن کی سیاست کھڑی ہے۔بلکہ وہ دو قدم آگے ہیں۔  2013  میں نجی ٹی وی چینل کے پروگرام جرگہ میں حلال و حرام  کے سرٹیفکیٹ باٹنے والے مولانا مسلسل اس بات پر مصر رہے کہ عمران خان کو ووٹ دینا شرعی طور حرام ہے۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے مخالفین کو متنبہ کیا  کہ ان کی جماعت کے خلاف امیدوار کھڑے کرنا حرام ہے۔

آج  اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گزشتہ دور حکومت میں مبینہ طور پر تحفظ ناموس رسالت قانون 92C کی تبدیلی کی کوشش کرنے  کا داغ سجائے نواز حکومت کے سربراہ نواز شریف کی صاحبزادی اسی کھیل کی ڈور تھامے مولانا فضل الرحمن  کے اتحاد سے ساتھ چمٹی نظر آتی ہیں ۔ جو ایک ایسے ایشوکو بنیاد بنا رہے ہیں جس کا دور دور تک کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ جب کہ مولانا فضل  الرحمن اس کھیل کے ماہر کھلاڑی ہیں جوکہ ماضی سے لے کر حال تک سیاسی مخالفین کو خارج اسلام ، یہودی ایجنٹ ، قادیانی اور اسلام دشمن فتوے دینے کی آفاقی شہرت رکھتے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ الرحمن ان دنوں مولانا فضل الرحمان مفاد پرست اپوزیشن کی آنکھ کا تارا بنے ہوئے ہیں۔ماضی کی طرح میاں نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ ایک بار پھر انہیں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے مذہبی کارڈ تھمائے میدان میں اتارنے کے لئے بے قرار ہے۔خود مولانا بھی ذوق شوق سے ماضی کی طرح  اپنی خدمات کرایہ پر دینے کے لئے دستیاب ہیں۔ کیونکہ کئی دہائیاں اقتدار کے مزلے لوٹنے والے اور مفادات حاصل کرنے والے مولانا کو بھی  اسلام آباد سے دوری کا غم کھائے جا رہا ہے۔ وہ کسی بھی طرح اسلام آباد کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ مزاحمتی سیاست دراصل اقتدار سے دوری کے غم  اور کرپشن کے دفاع میں  لڑی جا رہی ہے۔ مولانا  اپنا مخصوص ایجنڈا لئے اس عمران خان کی حکومت کے خلاف برسرپیکار ہونے آرہے ہیں جو روز اول سے پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر استوار کرنے کا خواب سجائے حکومت کی مسند پر برجمان ہوئے ہیں۔

یہ مہم بظاہر جمہوریت کی بحالی  کے لئے ہو گی، اور مولانا اسے اسلام کی سربلندی سے تشبیہ دیں گے۔ لیکن کیا متحدہ اپوزیشن کی یہ مہم جوئی پاکستان کےلئے فائدہ مند ہو گی ؟ تو جواب ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ اس وقت عالمی افق پر اُبھرتے پاکستان کے لئے جس سنگین معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ  ایران، افغانستان اور بھارت کی طرف سے بے پناہ مسائل کا سامنا ہے ان مشکل حالات میں مولانا فضل الرحمان اور ان کے اتحادیوں کی کرپشن اور کرپشن کنگز کو بچانے اور دوبارہ اسلام آباد میں برجمان ہونے  کی تحریک کسی بھی طور ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس مزاحمتی تحریک کا نقصان ملک کی تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کو اٹھانا پڑے گا کیونکہ ایسی دروغ گو اور مفادپرست تحریکیوں  کی اسلامی جمہوری پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں۔

Scroll To Top