بھارتی آئین کی شق 35اے کا خاتمہ مقبوضہ کشمیر میں بدترین صورتحال پیدا کردیگا

  • تاثر ہے کہ نئی دہلی مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کیلئے ہندوﺅں کو آباد کرنے جارہی ہے
  • تنازعہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر نمایاں ہوچکا، امریکی صدر کا ثالثی کا بیان جلتی پر تیل کا کام کرگیا
  • اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسانی حقوق نے کشمیریوں کے حق خود اردایت تسلیم کرنےکا مطالبہ کیا ہے
  • نئی دہلی کا کوئی اور غیر ذمہ دارنہ اقدام عالمی سطح پر کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ بڑھا سکتا ہے

مقبوضہ وادی میں 10ہزار مذید بھارتی فوجی بھیجنے کی اطلاعات نے اہل کشمیر میں تشویش کو بڑھا دیا ہے ۔ عام خیال یہی ہے کہ نئی دہلی سرکار مقبوضہ وادی کو خصوصی درجہ دینے والی آئین کی دفعہ35 A کو ختم کرنے کی تیاری میں ہے ، خبر یہ بھی ہے کہ حال ہی میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت کمار ڈوبال نے خاموشی سے کشمیر کا دورہ کیا جہاں فوج ، پولیس اور خفیہ اداروں کے حکام سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں۔ ادھر میڈیا میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ریلوے پولیس اہکاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ کم ازکم چار مہینے کا غلہ اور ایک ہفتے کا پانی جمع کرلیں مگر خط کے جاری ہونے کے فورا بعد ہی ریلوے کی وزارت نے یہ کہہ کر اسے مسترد کردیا کہ متعلقہ اہلکار کو ایسی ہدایت دینے کا اختیار ہی نہیں۔
بھارتی سپریم کورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں آئین کی شق 35اے کے معاملہ کی سماعت جلد شروع ہونے والی ہے ،عدالت سے اس کا فیصلہ کیا آتا ہے کچھ کہنا مشکل ہے۔ 35اے کی اہمیت یوں ہے کہ اگر بی جے پی سرکار یہ آئین سے یہ شق ختم کرنے میں کامیاب ہوگی تو اس کے نتیجے میں بھارت کے عام شہری کو اجازت ہو گی کہ وہ وادی میں جائیداد خریدے یا مستقل رہایشی بن جائے ۔ مبصرین کا خیال ہے کہ بی جے پی اس کے اقدام کے زریعہ مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کی آبادی کم کرکے ہندووں کی تعداد میں اضافہ چاہتی ہے تاکہ عملی طور پر تنازعہ کشمیر کی وہ اہمیت نہ رہے جو اب تک دکھائی دے رہی ۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اورصدر ٹرمپ کی حالیہ ملاقات میں تنازعہ کشمیر جس طرح سے ابھر کر سامنے آیا اس نے نئی دہلی میںتشویش پیدا ہوئی، عملی طور پر امریکی صدر کا کشمیر پر ثالثی کا بیان جلتی پر تیل کا کام کرگیا،ٹرمپ تو یہاں تک کہہ ڈالا کہ نریندر مودی نے ہی انھیں کشمیر پر ثالثی کرنے کی درخواست کی ،ادھر چین کی جانب سے صدر ٹرمپ کی ثالثی کو سراہا جانا علاقائی اور عالمی سطح پر بھارت پر بات چیت کے لیے دباو بڑھا گیا ۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کے زیلی ادارے انسانی حقوق کمشنر نے تیرہ ماہ کے اندر دو تفصیلی رپورٹس شائع کیں مذکورہ رپورٹوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں نمایاں اندازمیں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان اور بھارت کشمیریوں کے حق خود اردایت کو تسلیم کریں گویا کہا جاسکتا ہے کہ طویل عرصہ بعد قیام امن کا عالمی ادارہ پرانے موقف کا اعادہ کردہ نظر آیا ، درحقیقت ان رپورٹس میں آزادنہ اور غیر جانبدارنہ کمیشن قائم کرنے کی تجویز پیش کی گی جو پاکستان اور بھارت کے زیراہمتام کشمیر میں جاکر گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کا جائزہ لے گا۔
یہ تسلیم کیے بغیر چارہ کار نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جس انداز میں تنازعہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھایا پی پی پی اور پی ایم ایل این کے دور حکومت میں ایسی کوشش نہ کی گی، اس میں بھی شک نہیں کہ پلوامہ اور بالاکوٹ حملوں کے بعد تنازعہ کشمیر نے عالمی برداری کی توجہ حاصل کی ۔ دنیا میں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ دو ایٹمی قوت کی حامل ریاستوں میں اصل مسلہ کشمیر ہی ہے چنانچہ اسے حل ہونا چاہے ۔ حال ہی میں عالمی عدالت انصاف کی جانب سے بھارتی جاسوس کلبھوشن جادو کا فیصلہ بھی نئی دہلی کے لیے مسرور کن نہ رہا، عالمی عدالت انصاف نے تو بھارتی جاسوس کو نئی دہلی کے حوالے کرنے کی سفارش کی اور نہ ہی اس کی سزائے موت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔درحقیقت حالیہ واقعات نے نئی دہلی کے اس دعوی کو کمزور کیا کہ مسلہ کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے جس پر اقوام عالم کی مداخلت اسے قبول نہیں۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ درحقیقت مودی ہی کشمیریوں کے ”محسن“ ہیں ۔ بی جے پی کی انتہاپسندانہ پالسیوں کا ہی اثر ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کو نئی طاقت ملی ، برہان وانی جیسے نوجوانوں کا بندوق اٹھانا بلاوجہ نہ تھا۔ ہر باضمیر شخص کے لیے افسوس کا مقام ہے کہ بھارتی وزیر اعظم اب بھی طاقت کے زریعہ اہل کشمیر کی آواز دبانے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ بھارتی آئین کی شق 35اے کا خاتمہ کرکے کشمیر میں ایسی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو شائد طویل عرصہ تک بدامنی کا باعث رہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ جس انداز میںصدر ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش کی ہے نئی دہلی کا کوئی غیر زمہ دارنہ اقدام عالمی برداری میں کشمیر کا مسلہ حل کرنے کی مطالبہ بڑھا سکتا ہے۔
باعث اطمنیان ہے کہ پاکستان مسلسل بھارت سے بات چیت کا تقاضا کررہا ، وزیر اعظم عمران خان نے عام انتخابات میں کامیابی کے فورا بعد نئی دہلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مودی ایک قدم آگے بڑھیں گے تو وہ دوقدم آگے آئیں گے۔ دراصل جنوبی ایشیاءمیں جنگ کی بجائے امن کی خواہش بڑھی ہے ، امریکہ اور طالبان میں جاری مذاکرت خود بتا رہے کہ چین اور روس جیسی علاقائی قوتیں تنازعات کے پرامن حل کی عملی خواہش رکھتی ہیں۔ اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ مسقبل جنوبی ایشیاءکا ہے تو پھر اس کے لیے لازم ہے کہ تخریب کی بجائے تعمیر پر مبنی اقدمات اٹھائے جائیں۔

Scroll To Top