شوباز کی شعبدہ بازیاں کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک

موصوف اس قدر دل پھینک واقع ہوئے ہیں کہ حلقہ یاراں میں چھیڑ خانی کی جاتی ہے کہ باہر نکلنے سے پہلے گاڑی میں ایک عدد سہرا ضرور رکھ لیتے ہیں کیا خبر کہاں ضرور ت آن پڑے اور ایک عدد نکاح خواں ملا تو سٹینڈ بائی رہتا ہی ہے۔ صرف لاہور شہر میں پانچ پانچ کنال کے متعدد محلات رکھنے والا یہ کنگال جب حبیب جالب کے اشعار لہک لہک کر سامعین کو سنانا ہے تو منافقت بھی شرما جاتی ہے۔ تلون، جھنجھلاہٹ اور ہیجان سے مغلوب عالم میں ڈائس پر نصب مائیکرو فونز کو روند کر زمین پر پٹخ دینے میں تو موصوف کو ید طولا حاصل ہے

جھنجھلاہٹ ، تلون اور ہیجان۔۔۔ ان نفسیاتی عوارض کو یکجا کر دیا جائے تو ایک شوباز نا شریف کا پیکر تیار ہوتا ہے۔
موصوف اسقدر دل پھینک واقع ہوئے ہیں کہ یاروں کے حقلے میں مشہور ہے کہ باہر نکلنے سے پہلے گاڑی میں ایک عدد سہرا ساتھ رکھنا ہرگز نہیں بھولے اسی طرح ایک عدد نکاح خواں ملا کو سٹینڈ بائی رکھا جاتا ہے۔
صرف لاہور شہر میں پانچ پانچ کینال کے وسیع و عریض متعدد محلات کی ملکیت رکھنے والا یہ ”کنگال“ سابق وزیر اعلیٰ حبیب جالب مرحوم کے انقلابی اشعار لہک لہک کر جلسوںمیں پڑھنے کی منافقت بھی کرتا ہے اور تلون و جھنجھلاہٹ کے عالم میں ڈائس پر نصب متعدد مائیکوں کو روند کر زمین پر پٹخ دینے کی شوباز میں بھی ید طولیٰ رکھتا ہے۔نواب شاہ کے زرداری کا پیٹ پھاڑ کر حرام کی دولت باہر نکالنے کے دعوے اور اسے لاہور، پشاور، لاڑکانہ اور کراچی کی سڑکوں پر گھسیٹنے کی بڑھکیں بھی بہت مارتا ہے مگر جب عمران خان کے کرپشن کے خلاف سونامی کا خطرہ بڑھتا نظر آتا ہے تو یہی شوباز زرداری کو گلے لگانے میں بھی پیش پیش ہوتا ہے۔
مصیبت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنا لیتے ہیں کوئی حرج نہیں ہوتا۔ شوباز اس محاورے کی عملی تفسیر ہے ۔2007میں اپنے ہی دعوے اور بڑھک کی مٹی پلید کرتے ہوئے اس نے اپنے بھائی کی رفاقت میں قومی سلامتی کے لئے رسک سمجھی جانے والی بے نظیر کے ساتھ میثاق جمہوریت کا معاہدہ کر لیا۔ مگر جب پرویز مشرف کا خطرہ ٹل گیا تو آپس میں پھر سے گتھم گتھا ہو گئے۔ اور سربازار جوتیوں میں دال بانٹتے رہے۔
جھنجھلاہٹ ، قلون اور ہیجان جیسی نفسیاتی بیماریوں کا مجسم شوباز شریف دو ہفتے پہلے برطانیہ کے ایک موقر اخبار ڈیلی میل کے ریڈار پر چڑھ گیا۔ اس کے عالمی شہرت یافتہ ایک رپورٹر ڈیوڈ روز نے شوباز شریف بابت ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی جس کے مطابق اس نے سیلاب زدگان کی امداد کے لئے ملنے والی پاو¿نڈ کی خطیر رقم خورد برد کر لی تھی۔ اس رپورٹ کے شائع ہونے پر شوباز کے محاذ پر ابتدا میں تو سکوت مرگ طاری رہا۔ پھر یکبک گویا مردے میں جان پڑ گئی ہو۔ پہلے بڑھک بازی کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر یہ دعویٰ کہ ہم اس یکسر غلط، جھوٹی اور گمراہ کن خبر کی اشاعت پر ڈیلی میل کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ کریں گے۔ اس پر رپورٹ کے مصنف ڈیوڈ روز اور اخبار انتظامیہ نے اپنے مشترکہ موقف میں واضح کر دیا کہ شوباز نا شریف بعد شوق ان کے خلاف مقدمہ قائم کریں۔ وہ اپنی رپورٹ اور اس میں شامل ایک ایک حرف کی اصابت اور صداقت پر فاتح ہیں۔
اس حد تک دوٹوک اور مسکت جواب پر شوباز نا شریف کے کیمپ پر ایک بار پھر سکوت مرگ کی سی کیفیت پیدا ہو گئی یہاں تک کہ پچھلے روز اس کی بڑھک بازی کو پورے پندرہ دن بیت گئے۔ میڈیا اور سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ اور ان چہ مگوئیوں کی بنیاد جاتی عمرہ کے نا شریفوں کا ماضی کا اب تک کا ریکارڈ ہے جس کی رو سے وہ اپنے معاشی جرائم بابت کسی خبر، مضمون یا انویسٹی گیٹیو رپورٹ کی اشاعت پر شروع میں جی غبارہ اگل دینے کے بعد ہمیشہ کے لئے چپ سادھ لیتے ہیں۔ اس ضمن میں جاتی عمرہ کے ناشریفوں کے خلاف سب سے مضبوط دلیل یہ جاتی ہے کہ پچھلے سال اسی ڈیلی میل نے شریف برادران کو ”بحری قذاق“ قرار دیتے ہوئے ایک تہلکہ خیز ریورٹ شائع کی تھی۔ اس پر بھی شریفوں برادران نے ابتدا میں مذکورہ اخبار کے خلا ف ہتک عزت کا مقدمہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ مگر پھر کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک والا معاملا ہو گیا۔
پچھلے روز البتہ شوباز اینڈ کمپنی ایک بار پھر خواب خرگوش سے بیدار ہوئی۔ اور مخالفین کے منہ بند کرنے کے لئے دعویٰ کر دیا گیا کہ ان کی لیگل ٹیم نے ڈیلی میل اور متعلقہ رپورٹر کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
قارئین کرام اس دعوے کی حقیقت کیا ہے بس اتنا عرض کر دینا ہی کافی ہے نا شریفوں نے اخبار اور اس کے رپورٹر کے خلاف کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا۔ بلکہ اخبار انتظامیہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں یہ گلا کیا گیا ہے کہ مذکورہ رپورٹ قومی مفاد میں نہیں اوراس کا شائع نہ کیا جانا ہی بہتر ہوتا وغیرہ وغیرہ۔
قانونی زبان میں اس خط کی حیثیت صفر جمع صفربرابر صفر کے ہے لفظوں میں شوباز نا شریف نے اعتراف جرم کر لیا ہے ۔ اس نے ہمیشہ کہا ہے کہ اگر مجھ پر ایک دھیلے کی کرپشن کا بھی جرم ثابت ہو جائے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سیاس چھوڑ دے گا۔کیا شوباز اس بار اپنا وعدہ پورا کر پائے گا یا وہی ماضی کی بے ڈھنگی چال ہی جاری رہے گی۔
مگر نہیں ، میں سمجھتا ہوں ۔ اب ایسا نہ ہو پائے گا۔ زمانہ قیامت کی چال چل چکا ہے۔ اب اس ملک سے چوروں اچکوں اور نو سر بازوں کا دور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہونے جا رہا ہے۔۔۔

Scroll To Top