زیر زمین دونوں کا تعلق ایسا ہے جیسا ہاتھ کا دستانے سے ہوتا ہے ! 23-06-2015


میں نے سرآرتھر کانن ڈائل ` اگاتھا کرسٹی اور ارل سٹینلے گارڈنر کو بے تحاشہ پڑھا ہے۔ تینوں کا تعلق ” مسٹری“ سے تھا۔ تینوں نے ایسے کردار تخلیق کئے جو جرائم کا کھوج لگانے میں کمال رکھتے تھے ۔ شرلاک ہومز کے نام سے کون آگاہ نہیں ہوگا ؟ موسیو پوئرو کو کون نہیں جانتا ہوگا۔؟ اور پیری میسن کا نام کِن کانوں کے لئے اجنبی ہوگا۔؟ یہ تینوں کردار انسانی نفسیات پر عبور رکھتے تھے۔ تینوں کا مرکزی خیال ایک ہی ہوتا تھا۔ پہلے وجہ ءجرم کا تعین کیا جائے اور پھر یہ دیکھا جائے کہ جرم کا فائدہ کِس کِس کو پہنچا۔
گزشتہ روز جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی 62ویں سالگرہ کے موقع پر زرداری صاحب نے ایک بار پھر مرحومہ کے پراسرار قتل کا معاملہ اٹھایا تو میرا ذہن شرلاک ہومز موسیو پوئرو اور پیری میسن کی طرف جائے بغیر نہ رہا۔
وجہ ءقتل کیا ہوسکتی تھی ۔؟
کون کون لوگ تھے جنہیں محترمہ بے نظیر بھٹو کا وجود اپنے راستے کا کانٹا لگتا تھا ؟
جو نام فور ی طور پر ذہن میں آتے ہیں وہ تین ہی ہیں۔ جنرل پرویز مشرف ۔ آصف علی زرداری ۔ اور میاں نوازشریف ۔
جناب آصف علی زرداری نے جنرل پرویز مشرف کا نام لیا ہے۔ یہ کہہ کر کہ وہ ایف آئی آر سے جنرل مشرف کانام نہیں نکال سکتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ چند روز قبل انہوں نے جس جنرل کو مخاطب کرکے خیبر سے کراچی تک آگ لگا دینے کی بات کی تھی وہ جنرل پرویز مشرف ہی تھے۔ جب بھی زرداری صاحب کو ضرورت پیش آتی ہے وہ اپنے حافظے کو الوداع کہہ دیتے ہیں۔ تین چار دن میں ہی وہ یہ بات بھول گئے کہ انہوں نے کہا تھا۔ ” جنرل تم تو تین سال کے لئے آئے ہو۔پھر چلے جاﺅ گے۔ ہم ہمیشہ رہیں گے ۔“
ظاہر ہے کہ اشارہ جنرل راحیل شریف کے سوا اور کسی کی طرف نہیں تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے تو خیر سے پورے نو سال ڈٹ کر حکمرانی کی ۔
کیا امکانی طور پر جنرل پرویز مشرف کا کوئی تعلق بے نظیر بھٹو کے قتل میں ہوسکتا تھا۔ ؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ جو انتخابات ہونے والے تھے اُن کا ایک منظرنامہ جنرل صاحب نے لکھ رکھا تھا۔؟ اگر محترمہ زندہ رہتیں تو وہ منظر نامہ سامنے آجاتا۔ لیکن محترمہ کے قتل نے جنرل صاحب کا منظر نامہ تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ بات جنرل صاحب کے ہاتھ سے نکل کر آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف کے ہاتھوں میں چلی گئی۔
محترمہ کے قتل کا فائدہ کِس کو یا کِن کو پہنچا ؟ جنرل پرویز مشرف تو مقدمے بھگت رہے ہیں۔اور میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری خیرسے اپنے تئیںملک کے مالک و مختار بنے ہوئے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ زیر ِزمین دونوں کا تعلق ایسا ہے جیسا ہاتھ کا دستانے سے ہوتا ہے۔۔۔

Scroll To Top