” اے رب غفور و رحیم ۔۔۔ ہمارے گناہ معاف کر اور ہمیں اس نظامِ کے عذاب سے نجات دلا جسے جمہوریت کا نام دینے والوں نے ہم پر عرصہ ءحیات تنگ کردیا ہے “ 20-06-2015

لگتا تو یہی ہے کہ اس سال کا رمضان المبارک قوم کے لئے درحقیقت خوشیوں کا پیام برثابت ہوگا۔ یہ بات میں ان لوگوں سے معذرت کرکے لکھ رہا ہوں جنہیں مارکیٹ سے اشیائے خورد ونوش خرید کر اپنا اور اپنے کنبے کا پیٹ کسی حد تک بھرنا ہوتا ہے اور جن کے دل جیب سے نوٹ نکالتے وقت دہل جاتے ہیں۔ کل شام خود مجھے وزیرخزانہ اسحق ڈار کی سنائی گئی خوشخبریاں پرکھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ جب اشیائے صرف یا اشیائے ضرورت کی تازہ ترین ” قیمت “ ادا کرنی پڑی تو میرا بٹوہ بھی پسینے سے بھیگ گیا۔
” میٹرو نواز “ حکومت کا عوام کو زیادہ سے زیادہ ” ریلیف “ فراہم کرنے کا ” مشن “ زور و شور سے جاری ہے۔ لیکن میں کچھ اور خوشخبریوں کی بات کررہا ہوں۔
دوایسے اشخاص افغانستان سے بلوچستان میں داخل ہوتے پکڑے گئے ہیں جو ڈاکٹر عمران فاروق کیس میں مطلوب تھے۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے حسب روایت فوری طور پر قوم کو آگاہ کردیا ہے کہ ان مجرموں سے بھی ان کا کوئی تعلق نہیں۔
دوسری طرف عزیر بلوچ کے بارے میں اطلاع آئی ہے کہ وہ دوبئی سے پشاور لایا جاچکا ہے جہاں اُس کا اعترافی بیان ریکارڈ بھی کرلیا گیا ہے۔ مبینہ طور پر اس اعترافی بیان میں دیگر بے شمار جرائم کے ساتھ ساتھ محترمہ بے نظیر بھٹو قتل کیس کے ایک مرکزی کردار ” شہنشاہ “ کے قتل کا اعتراف بھی شامل ہے۔
سندھ حکومت کی پوری کوشش تھی کہ عزیر بلوچ باقی ساری زندگی دوبئی میں ہی گزار دے۔لیکن ہمارے حساس اداروں نے بہرحال اسے یہاں لاکر اس کا بیان لینے کے مشن میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اس ضمن میں دلچسپ بات یہ ہے کہ عزیر بلوچ کو پشاور لایا گیا اور وہیں اس کا اعترافی بیان بھی ریکارڈ کیا گیا تاکہ کہیں یہ معاملہ بھی ” مک مکا “ کی نذرنہ ہوجائے!
فش ہاربر پر چھاپے کے بعد بھی جو سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں ان کی وجہ سے بھی زرداری صاحب کا یہ خوف ” برحق “ نظر آتا ہے کہ ” جمہوری نظام “ کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
جہاں تک عوام کا تعلق ہے وہ رمضان المبارک میں یہی دعائیں مانگتے دکھائی دیتے ہیں ” اے رب غفور و رحیم ۔۔۔ ہمارے گناہ معاف کر اور ہمیں اس نظامِ کے عذاب سے نجات دلا جسے جمہوریت کا نام دینے والوں نے ہم پر عرصہ ءحیات تنگ کردیا ہے “

Scroll To Top