اس سے بڑی بدقسمتی ہمارے لئے کیا ہوگی کہ مملکتِ خداداد پاکستان پر معاشرے کا بدترین طبقہ حکمران ہے ! 19-06-2015

کتنا ہی اچھا ہو کہ ہم آغازِ رمضان اس عہد کے ساتھ کریں کہ بنی نوع انسان کی تخلیق جس مقصد کے لئے ہوئی تھی ‘ انسان جس مقصد کے لئے دنیا میں آیا تھا ’ اسلام جس مقصد کے لئے نسل انسانی پر اترا تھا اور پاکستان کا قیام جس مقصد کے لئے عمل میں آیا تھا ’ اس مقصد کی تکمیل تک مملکت ِ خداداد و اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وہ کروڑ ہا باسی اور شہری چین سے نہیں بیٹھیں گے جن کی زبان پر توحید و رسالت پر ایمان رکھنے والا کلمہ آئے بغیر نہیںرہتا ’ اور جن کے سینوں میں عشق رسول سے منّور دل دھڑکتے ہیں۔

یہاں یہ بحث نہیں کہ کون بہتر و افضل تر مسلمان ہے اور کون نہیں ’ یا کون گناہوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور کون نہیں۔ یہاں بات میں ہر اس ذی نفس کی کررہا ہوں جس کے کانوں میں جب بھی تکبیر کی صدا گونجتی ہے تو اس کا دل بے اختیار بول اٹھتا ہے۔ اللہ اکبر۔
یقینا 19کروڑ کی آباد ی میں چند سو یا چند ہزار بدبخت ایسے بھی ہوں گے جن کے نام مسلمانوں جیسے ہیں اور جن تک اللہ اور رسول کا پیغام بھی پہنچا ہے مگر جن کے سینے نورِ ایمان سے اُسی طرح خالی ہی جس طرح رات سورج کی روشنی سے محروم ہوا کرتی ہے۔لیکن پاکستان اِن چند سو یا چند ہزار بدقسمت لوگوں کے لئے نہیں بنا تھا ‘ اس مقصد کے لئے بنا تھا کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم ہو۔۔۔ یہاں فرمانِ الٰہی کے مطابق قوانین بنیں اور نافذ ہوں۔۔۔ یہاں ویسی ہی ریاست قائم کرنے کی جدوجہد کی جائے جیسی ریاست آنحضرت نے مدینہ میں قائم کی تھی اور جیسی ریاست کے خدوخال خلفائے راشدہ نے واضح کئے تھے۔
یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ 67برس بعد از قیامِ پاکستان بھی اس سرزمین پر حکمرانی اِس قوم کے بدترین طبقے کی ہے۔
آئیں آج کے روز عہد کریں کہ مملکتِ خداداد پاکستان کو اِس طبقے کے شکنجے سے آزاد کرانے کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔
آپ کو رمضان کی خوشیاں مبارک۔۔۔
ایک مسلمان کے لئے اس سے بڑی خوشی کیا ہوسکتی ہے کہ وہ حکم الٰہی پر دل و جان سے عمل کرے !

Scroll To Top