مزید چند سال دہشت گردی کے خاتمہ میںلگ سکتے ہیں !

  • عوام و مسلح افواج جانیں دے کر بتا رہے کہ پاکستانی قوم ہرگز خوف و دہشت کا شکار نہیں ہوگی
  • انتہاپسندی کے خلاف پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں چنانچہ آج وطن عزیز کئی گنا پرامن ہے
  • سیکورٹی اداروں نے ایسی جنگ میں کامیابی حاصل کی جو روایتی لڑائی سے ہرلحاظ سے مختلف تھی
  • عوام اور سیکورٹی اداروں کا جذبہ ہی ہے جو پاکستان کے محفوظ اور روشن مستقبل کی نوید سنا رہا

 

شمالی وزیر ستان اور بلوچستان میں پیش آنے والے واقعات کو اس تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیسے قبائلی علاقوں میں ہونے والے عام انتخابات اور وزیر اعظم پاکستان کے دورہ امریکہ کے بعد امن وامان کی صورت حال خراب کرنے کی کوشش کی جارہی، قبل ازیں ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے خودکش حملے نے اس تاثر کو ابھارا کہ پاکستان کے بدخواہ مسلسل ملک وملت کے درپے ہیں، بادی النظر میں تو یہ کہنا بھی غلط نہیںکہ اقوام عالم میں پاکستان اور دہشت گردی لازم وملزوم نظر دکھائی دے رہے ، نائن الیون کے بعد پیش آنے والے واقعات کا سلسلہ مسلسل تھمنے کا نام نہیں لے رہا جو درحقیقت درپیش مسلہ کی پچیدگی اور پھیلاو کا پتہ دیتا ہے ، کوئی ماننے یا نہ ماننے مگر پاکستانی عوام اور سیکورٹی اداروں نے اپنی جانیں دے کر بتا ڈالا کہ ارض وطن کے باسی خوف اور دہشت کا شکار ہونے کی بجائے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔ افسوسناک سچائی یہ ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کی زمہ داری اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھیوں نے قبول کی جس کے بعد افغانستان کا مشکلات سے بچ نکلنا مشکل نہیںناممکن تھا، مگر پاکستان کی مشکل یہ بنی کہ ٹی ٹی پی کی چھتری تلے درجنوں شدت پسند گروہ جمع ہوگے جن کا اولین ہدف نہتے عوام اور ان کے محافظ سیکورٹی ادارے ٹھرے ۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میںپاکستان کو ایک سو تیس ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوچکا ، پاکستانی روپے میں یہ رقم کم وبیش ساڈھے دس کھرب بنتی ہے، ادھر اعداد وشمار ظاہر کررہے کہ کیسے امریکہ نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ملک تو قرار دے ڈالا مگر انکل سام وعدہ وفا نہ کرسکا۔واشنگٹن نے اتحادی فنڈ کے نام پر اسلام آباد کے نقصان کی تلافی کا اعلان بھی کیا جس کے تحت پاکستان کو ایک ارب ڈالر سالانہ دینے کی یقین دہانی کروائی گی مگر دوہزار سولہ تک محضچودہ ارب ڈالر ہی وصول ہوئے۔
پاکستان کو دہشت گردی کے واقعات کے نتیجے میں کثیر الجہت نقصانات ہوئے۔ بڑا مسلہ تو یہ رہا کہ سالوں خبیر تا کراچی غیر یقینی کا دور دورہ رہا، عام آدمی ہو یا قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر کہیں یہی خطرہ رہا کہ کہیں بھی کسی بھی وقت کوئی سانحہ جنم لے سکتا ہے ۔ گزرے ماہ وسال کے میں کھیل کے میدان ، تعلیمی ادارے ، سرکاری عمارات، ہسپتال ، بازار ، جنازہ گاہ ، عدالتیں، پولیس اسٹیشن ، مسلح افواج کے دفاتر غرض ہر جگہ دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔ سپاہی سے لے کر لیفٹینٹ جنرل تک، طالب علم سے لے کر پروفیسر تک اور بچے سے لے کر بزرگ ہر کوئی جام شہادت نوش کرتا رہا۔ انتہاپسندی کے خلاف جنگ میںپاکستان نے خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کیں یہی سببب ہے کہ آج کا پاکستان کئی گنا پرامن ہے ، اب قومی و مذہبی تہواروں پر خوف کے وہ سایے محسوس نہیں ہوتے ماضی میں جن کا مشاہدہ باآسانی سے کیا جاسکتا تھا۔
وزیر اعظم پاکستان کے دورہ امریکہ کی کامیابی کی وجہ یہ بھی رہی کہ واشنگٹن جان چکا کہ پاکستانی عوام اور اس کے سیکورٹی اداروں نے ایسی جنگ میں کامیابی حاصل کی جو روایتی لڑائی سے ہرلحاظ سے مختلف تھی۔ نائن الیون کے بعد ہمارے ہاں دشمن کا تصور تبدیل ہوکر رہ گیا، قبل ازیں پاکستانی عوام اور سیکورٹی اداروں کی تمام تر تیاری بھارت کو مدنظر رکھ کر کی گی مگر اب کی بار دشمن ہماری صفوں میں ہی موجود رہا، زبان ، لباس اور مذہب میں یکسانیت کے باوجود حملہ آور ایسی تباہی لاتے رہے جس کی نظیر ملکی تاریخ میں ملنی مشکل نہیںناممکن بھی رہی ۔
یقینا چند سال مذید انتہاپسندی کے عفریت کو کنڑول کرنے میںلگ سکتے ہیں، ریاست اور اس کے عوام کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والوں کے نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ آسان نہیں چنانچہ قیام امن کے لیے مذید اقدمات اٹھانے کی ضرورت بدستور موجود ہے ، یہ کم اہم نہیں کہ تاحال ملک کے کسی بھی حصہ میں لسانی ، سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر قتل وغارت گری کرنے والے گروہ عوام کی قابل زکر سیاسی حمایت حاصل نہ کرسکے، دوہزار آٹھ ، دوہزار تیرہ اور پھر دوہزار اٹھارہ کے الیکشن میں معصوم پاکستانیوں کے خون سے ہاتھ رنگین کرنے والے ہرگز نمایاں نہ ہوسکے ۔
وطن عزیز کا محل وقوع جہاں اس کے رہنے والوں کے لیے نعمت ہے وہی آغاز سے ہی علاقائی اور عالمی طاقتوں کے لیے کشکش کا باعث بھی قرار پایا۔ قومی تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ مملکت خداداد پر آنے والے ہر آفت جہاں ارباب اختیار کی ناسمجھی اور خودغرضی کی بدولت نازل ہوئی وہی اس کی نمایاں وجہ ملک کا جغرافیہ بھی بنا، مگر آج کا پاکستان مختلف ہے ، آج خبیر تا کراچی کروڈوں پاکستانی اپنی سرزمین کی ملکیت کے دعویدار ہیں،اس سچائی کو دل وجان سے تسلیم کیا جارہا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں وطن عزیز پاکستان ہی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک سے محبت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ، اس کی بڑی مثال ہماری مسلح افواج کی قربانیاں ہیں جو آئے روز جام شہادت نوش کرنے کے باوجود مادر وطن کے لیے مذید قربانیاں دینے کو ہمہ وقت تیار ہیں ، عوام اور سیکورٹی اداروں کا جذبہ قربانی ہی ہے جو پاکستان کے محفوظ اور روشن مسقبل کی نوید سنا رہا۔

Scroll To Top