کیا اسمارٹ فون واقعی نوجوانوں کو موٹا کررہا ہے؟

روزانہ پانچ گھنٹے یا زیادہ دیر تک اسمارٹ فون استعمال کرنے والے نوجوانوں میں موٹاپا نمایاں طور پر زیادہ ہوجاتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

اس مطالعے میں اوسطاً 19 سال کی 700 لڑکیاں جبکہ اوسطاً 20 سال عمر والے 360 لڑکے شامل تھے جن سے روزمرہ معمولات، خاص طور پر اسمارٹ فون استعمال کرنے کے بارے میں تفصیلی سوالنامے بھروائے گئے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ان میں صحت کی مجموعی کیفیت اور موٹاپے وغیرہ کا معائنہ بھی کیا گیا۔ یہ تمام نوجوان کاراکاس، وینزویلا کی سائمن بولیور یونیورسٹی میں ہیلتھ سائنس فیکلٹی کے طالب علم تھے۔

تجزیہ مکمل ہونے کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ روزانہ پانچ گھنٹے یا اس سے زیادہ دیر تک اسمارٹ فون استعمال کرنے والے نوجوانوں کے موٹاپے میں مبتلا ہونے کا خطرہ، اسمارٹ فون کم استعمال کرنے والے نوجوانوں کے مقابلے میں 43 فیصد تک زیادہ تھا۔

مطالعے میں یہ بھی معلوم ہوا کہ اسمارٹ فون استعمال کرتے دوران ایک طرف جسمانی مشقت بہت کم رہ جاتی ہے تو دوسری جانب میٹھی کولڈ ڈرنکس، فاسٹ فوڈ، کیک، پیسٹریاں اور اسنیکس وغیرہ زیادہ کھائے جاتے ہیں جو بہت جلد ایسے نوجوانوں کو موٹاپے کی طرف لے جاتے ہیں۔

اس تحقیق کی تفصیلات 25 جولائی 2019 کے روز ’’امریکن کالج آف کارڈیالوجی (اے سی سی)، لاطینی امریکا کانفرنس‘‘ میں پیش کی گئیں جو کارٹاگینا، کولمبیا میں منعقد ہوئی۔ البتہ، اس بارے میں پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے ’’اے سی سی‘‘ نے خبردار کیا ہے کہ جب تک یہ تحقیق کسی طبّی تحقیقی جریدے میں باقاعدہ طور پر شائع نہ ہوجائے، تب تک اسے صرف ’’ابتدائی مطالعہ‘‘ ہی تصور کیا جائے۔

Scroll To Top