حزب اختلاف پی ٹی آئی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کی بجائے خود کو تبدیل کرے

  • اپوزیشن جس طرح عمران خان کےخلاف متفق ومتحد ہے اس نے انھیں عوام کی نظروںمیں مشکوک بنا ڈالا
  • دونوں جماعتوںنے سود پر لیا جانے والا قرضملکی معیشت کی بجائے منی لائنڈرنگ کیلئے استعمال کیا
  • عمران خان کا بیانیہ اب بھی مقبول ہے کہ ماضی کی حکمران جماعتیں ہی مسائل کی ذمہ دار ہیں
  • وزیر اعظم کے نقطہ نظر کو پی پی پی اور پی ایم ایل این کی لوٹ مار کے شواہد تقویت پہنچا رہے


25جولائی کو حکومت نے یوم تشکر منایا تو اپوزیشن جماعتوں نے یوم سیاہ کے طور پر منایا مگر حقیقت یہ ہے کہ غیر جانبدار تجزیہ نگاروں میں سے کسی ایک نے بھی حزب اختلاف کے احتجاج کو قطعی طور پر ایسا قرار نہیں دیا جس سے پی ٹی آئی ہل کر رہ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس انداز میں پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلزپارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی اور جمیت علماءاسلام (ف ) باہمی اختلافات کے باوجود عمران خان کے مقابلے میں متفق ومتحد ہیں اس نے انھیں عوام کی نظروںمیں مشکوک بنا ڈالا ۔ حزب اختلاف گذشتہ سال ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی میں کو جعلی قرار دیتی ہے بعقول اس کے اگر 25جولائی 2018کو غیر جانبدارو شفاف انتخابات کا انعقاد کیا جاتا ہے تو ان کی کامیابی یقینی تھی۔
اس کے برعکس قومی سیاست کے اتار چڑھاو پر نظر رکھنے والے کسی بھی شخص کے لیے ممکن نہیںکہ وہ اپوزیشن جماعتوں کی گذشتہ دس سالہ کارکردگی پر اطمنیان کا اظہار کرے ، مثلا پی پی پی اور پی ایم ایل این نے اپنے ادوار میں جس قدر غیر ملکی قرض لیا اس کے نتیجہ میں آج ملکی معیشت شدید مسائل سے دوچار ہے ، مطلب یہ کہ جمہوریت کی دعویدار دونوں سیاسی جماعتوںنے سود پر لیا جانے والا قرض معیشت کو بہتر بنانے کی بجائے منی لائنڈرنگ کے لیے استمال کیا ۔ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف اور سابق صدر آصف علی زرداری آج جیلوں میں قومی دولت لوٹنے کے جرم میں ہی بند ہیں،ادھر بلاول بھٹو زرداری پر منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات ہیںاور نیب کی تحقیقات جاری ہیں ، یہ بھی غلط نہیں کہ فریال تالپور اور حمزہ شہازشریف نے سرکاری حثیثت کا استمال کرکے کروڈوں نہیں اربوں روپے کا نقصان پاکستان کو پہنچایا۔ چند روز قبل ہی نیب نے شہبازشریف ان کے اہل خانہ کے اکاونٹس منجنمد کردئیے جبکہ چوہدری شوگر ملز کیس میں نوازشریف کے تیسرے بھائی عباس شریف کے بیٹے یوسف عباس شریف کو بھی نیب نے طلب کرلیا۔
سوال ہے کہ کیا عام پاکستانی اس قدر نادان ہے کہ وہ سمجھ لیں کہ حزب اختلاف جماعتوں کی ساری تگ دو محض کروڈوں پاکستانیوں کی زندگیوں میں آسانیاں لانے کے لیے ہے ، انفرادی اور گروہی مفادات کی تکمیل کے لیے سرگرم سیاسی قوتیں پاکستان اور اس کے باسیوں کے لیے ایسا کردار ادا کرنے میں ناکام رہیں جس پر اطمنیان کااظہار کیا جاسکے ۔
بظاہر عمران خان مخصوص بیانیہ کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں جس کے تحت ماضی کی حکمران جماعتیں ہی ملکی مسائل کی زمہ دار ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان کے نقطہ نظر کو پی پی پی اور پی ایم ایل این کے سرکردہ افراد کی لوٹ مار کے شوائد تقویت پہنچا رہے، چند سال قبل ا پانامہ لیکس کی شکل میں بین الاقوامی سیکنڈل سامنے آیا جس کی روشنی میں نوازشریف اور ان کے بچے منی لائنڈرنگ کے مرتکب قرار پائے۔ حال ہی میں برطانوی اخبار Daily Mail نے شہبازشریف کی منی لائنڈرنگ بار خبر شائع کی کہ کیسے سابق وزیر اعلی پنجاب غیر ملکی امداد میں خردبرد کی ، اس پر فوری طور پر مسلم لیک ن مذکورہ برطانوی اخبار کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا مگر تاحال کسی پیش رفت کی اطلاع نہیں۔
درحقیقت وقت آگیا ہے کہ اہل سیاست خود احستابی کا عمل شروع کریں، وطن عزیز جن مسائل سے دوچار ہے اس کے پیش نظر ممکن نہیں کہ ایک طرف عالمی مالیاتی اداروں سے قرض کی روش برقرار رہے جبکہ دوسری طرف منی لائنڈرنگ کا سلسلہ چلتا رہے ، جان لینا چاہے کہ جمہوریت کا مطلب طاقتور شخصیات کی لوٹ مار ہرگز نہیں، سونے کے چمچ منہ میں لے کر غریب کی بات کرنے والوں کے احتساب کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہ گیا، دراصل طاقتور اشرافیہ نے رائج انصاف کے نظام کو اس قدر کمزور اور بے بس کر رکھا ہے کہ وہ بڑی مچھلی کو پکڑنے کی جرات نہیں کرتا، تاریخی طور پر نوئے کی دہائی تک پی ایم ایل این اور پی پی پی ایک دوسرے کی بدعنوانی کو بے نقاب کرنے میں پیش پیش رہی مگر پھر میثاق جمہوریت کی شکل میں ایک دوسرے کے لیے ”مشکلات “پیدا نہ کرنے کا عہد کرلیا گیا۔
قومی احتساب بیورو جس انداز میں طاقتور خاندانوں کے خلاف متحرک ہے اس کی وجہ قومی اداروں کا بھرپور تعاون ہے ، ہم باخوبی جانتے ہیں کہ اگر مذکورہ ادارے نیب کی طاقت نہ بنتے تو نوازشریف اور آصف علی زرداری کھبی جیل میں نہ ہوتے ۔ آثار یہی ہے کہ آنے والے سالوں میں بھی اہم عہدوں پر براجمان لوگ سے پوچھ گچھ کا سلسلہ بند نہیں ہوگا وجہ یہ کہ لوٹ مار کا معاملہ اس مقام تک جا پہنچا جہاں ملک کی سلامتی بھی اس سے متاثر ہونا شروع ہوچکی ۔
ٹھیک کہا جاتا ہے کہ فوج پیٹ کے بل آگے بڑھتی ہے عام فہم میںیوں کہ اگر اگر کسی ملک کی معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار نہ ہو تو پھر ریاست کی سیکورٹی کو بھی یقینی نہیں بنایا جاسکتا ہے ، بدقسمتی ہے کہ ہمارے اہل سیاست اپنی اخلاقی ، قانونی اور مذہبی زمہ داریوں سے آگاہ نہیں، ستم بالائے ستم یہ کہ مذہبی سیاسی جماعتوں کا کردار بھی قابل رشک نہیں چنانچہ بہتر ہوگا کہ حزب اختلاف عمران خان کی حکومت کو اکھاڈ پھینکنے کی بجائے خود کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ یہی ایک حل ہے جو اپوزیشن کو پھر سے عوام کی نظروں میں سرخرو کرسکتا ہے ۔

Scroll To Top