جتنا دھواں اٹھا ہے آگ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے ! 17-06-2015

فرحت اللہ بابر میرے بڑے پرانے دوست ہیں۔ ان کے ساتھ میری دوستی پی پی پی کے پلیٹ فارم پر ہوئی جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے دوسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا۔ ابتداءمیں فرحت اللہ بابر محترمہ کے نامزد کردہ سپیشل اسسٹنٹ حسین حقانی کے نائب تھے مگر جب حقانی کوششِ بسیار کے بعد وفاقی سیکرٹری اطلاعات کا عہدہ اور اختیار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو فرحت اللہ بابر نے سپیشل اسسٹنٹ کی جگہ سنبھال لی۔ میرا اُن کے ساتھ باقاعدگی سے رابطہ ہوتا اور رہتا تھا۔ میں نے انہیں نہایت اچھا انسان اور بہترین دوست پایا۔ میرے اور ان کے خیالات و نظریات میں اگرچہ خاصا فرق تھا ۔ وہ لبرل تھے اور میں قدامت پسند۔ لیکن سوشلسٹ رحجانات دونوں میں تھے۔ اور دونوں ایک دوسرے کی سچائی کا اعتراف کرتے تھے ۔ دوستی کی بنیاد یہی ہوتی ہے۔
فرحت اللہ بابر نہایت باصلاحیت اور قابل شخص ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ محترمہ کے کافی قریب رہے۔ جو بات میرے لئے حیرت انگیز ہے وہ یہ ہے کہ فرحت اللہ بابر واحد شخص ہیں جو محترمہ کے معتمد ساتھیوں میں ہونے کے باوجود جناب آصف علی زرداری کا قرب اور اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
اس بات کی مجھے صرف دو وجوہات سمجھ میں آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ زرداری صاحب کو ایک ایسے قابل اور پڑھے لکھے اسسٹنٹ کی بہرحال ضرورت تھی جو بیورو کریٹ نہ ہو۔ اور دوسری وجہ یہ کہ فرحت اللہ بابر نے زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے آپ کو زرداری کے رنگ میں رنگے جانے کے لئے آزاد کردیا۔
مجھے آج یہ سب کچھ فرحت اللہ بابر صاحب کے اس بیان کی روشنی میں لکھنا پڑ رہا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ کراچی میں رینجرز کا آپریشن دراصل زمینوں پر قبضے کے عزائم کا شاخسانہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ بات کھل کر کرتے تو زیادہ مناسب ہوتا۔کون نہیں جانتا کہ کراچی میں جاری آپریشن کی وجہ سے ایک طرف ایم کیو ایم کے قائدالطاف حسین کا کلیجہ منہ میں آیا ہوا ہے اور دوسری طرف زرداری صاحب کی نیندیں حرام ہوئی ہیں۔؟ دونوں کا درپردہ اتحاد بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری سے زرداری صاحب کے اختلافات کی بڑی وجہ بھی یہی خفیہ اتحاد یا گٹھ جوڑ ہے ۔ ایسا ہی خفیہ گٹھ جوڑ زرداری صاحب اور میاں صاحب کے درمیان بھی ہے۔ وجہ اس گٹھ جوڑ کی ناقابل فہم نہیں۔ تینوں شخصیات کے مفادات کی جڑیں زمین میں بڑی گہری ہیں اور تینوں کو معلوم ہے کہ اگر کوئی طاقت ان جڑوں کو زمین سے اکھاڑ کر پھینک سکتی ہے تو وہ فوج ہے۔
کوئی نہیں جانتا کہ اس کشمکش کا انجام کیا ہوگا لیکن فرحت اللہ بابر صاحب کا بیان ظاہر کرتاہے کہ زرداری صاحب کو اپنے قدم اکھڑتے محسوس ہورہے ہیں۔
جہاں تک عوام کا تعلق ہے ` انہیں اب اِس قسم کی جمہوریت کا مزید ڈوز قبول نہیںڈی جی رینجرز نے جو سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں اُن کی صداقت کو چیلنج کرنے کے لئے` چیلنج کرنے والوں کے دامن اور ہاتھوں کا صاف ہونا ضروری ہے۔ مگر سب جانتے ہیں کہ جتنا دھواں اٹھا ہے آگ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

No photo description available.
Scroll To Top