صدر ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش بھارت کیلئے خفت بن گی

  • سوشل میڈیا پر کہا جارہا کہ کیا بھارتی وزارت خارجہ یہ تاثر دے رہی کہ صدر ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں
  • بظاہر امریکی صدر کو احساس ہوچکا کہ پاک بھارت تعلقات مسئلہ کشمیر حل ہونے تک بہتر نہیں ہونگے
  • اسلام آباد کا سالوں سے نہیں دہائیوں سے موقف ہے کہ بھارت دل بڑا کرکے مذاکرت کیلئے آگے بڑھے
  • اب صدر ٹرمپ کی تجویز کو اقوام متحدہ سمیت دنیا کے بااثر ممالک فوری طورپر شرف قبولیت بخشیں


تنازعہ کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش پر بھارت کا ردعمل حیران کن نہیں، بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکل میں نئی دہلی میںایسی حکومت براجمان ہے جو پاکستان کے معاملہ میں کسی قسم کی کمزوری دکھانے کے موڈ میں نہیں، امریکی صدر نے پاک بھارت تعلقات میں دیرینہ مسلہ کو حل کرنے کے لیے خود کو بطور ثالث وزیر اعظم عمران خان سے پہلی ملاقات میں ہی کہہ ڈالا۔ توقعات کے عین مطابق پاکستان نے فوری طور پر صدر ٹرمپ کی پیشکش کو قبول کرلیا وہی بھارت نے اس مسلہ کو حل کرنے میں تیسرے فریق کو شامل کرنے کے امکان کو یکسر مسترد کردیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کا کہنا تھا کہ بھارت وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ایسی کوئی درخواست نہیںکی گی کہ امریکہ مسلہ کشمیر پر ثالثی کرے، رویش کمار کے بعقول بھارت کی مستقل پوزیشن یہ ہے کہ پاکستان سے مذاکرت اسی وقت ممکن ہونگے جب وہ سرحد پر دہشت گردی ختم کرے۔ “
دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست ستر سالوں سے مقبوضہ وادی میں جو ظلم وستم روا رکھے ہوئے ہے وہی ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے ، اقوام عالم کی سیاست پر نظر رکھنے والے غیر جانبدار مبصرین کی اکثریت متفق ہے کہ اہل کشمیر کے جائز مطالبات پر بھارت نے جو پرتشدد پالیسی اختیار کررکھی ہے وہ قانونی، سیاسی اور اخلاقی اعتبار سے باعث تشویش ہے، وادی میں بھارتی مظالم اور ” مہذب “ دنیا کی خاموشی بذات خود اس کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اصول وضوابط نہیں مفادات ہی فیصلہ کن حثیثت کے حامل ہیں ۔ پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ مسلہ کشمیر کو تقسیم ہند کا ادھورا یجنڈا قرار دیتا ہے، برصغیر پاک وہند کی تار یخ پر نظر رکھنے والے کسی بھی شخص کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اس دیرینہ تنازعہ سے صرف نظر کرلے ۔
صدر ٹرمپ کا عمران خان سے پہلی ملاقات میں مسلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرنا اسلام آباد کی ایسی سفارتی کامیابی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی ۔ بادی النظر میں یہ کہا جاسکتا کہ امریکی صدر کو باخوبی احساس ہوچکا کہ پاکستان اور بھارت کے بہتر تعلقات کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہونے والا جب تک اس دیرینہ تنازعہ کو حل نہیں کیا جاتا۔حوصلہ افزاءامر یہ ہے کہ پاکستان نے کبھی بھی مسلہ کشمیر سمیت تمام مسائل پر بھارت سے بات چیت سے انکار نہیں کیا ، اسلام آباد کا سالوں سے نہیں کئی دہائیوں سے موقف ہے کہ بھارت دل بڑا کرکے مذاکرت کے لیے آگے بڑھے۔
وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کی اہمیت یوں بھی رہی کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی ان کے ہمراہ تھے ، چنانچہ یہ کہنے میں ہرگز کوئی تامل نہیں ہونا چاہے کہ وزیر اعظم پاکستان نے پورے عزم ویقین کے ساتھ پاکستان کا مقدمہ لڑا۔ یہاں عسکری قیادت کو بھی داد نہ دینا زیادتی ہوگئی بادی النظر میں سپہ سالار نے سیاسی قیادت کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالا کر عملی طور پر ثبوت دے ڈالا کہ پاکستان کے مفادات کے لیے اعلی ترین سطح پر اتفاق ویکجہتی موجود ہے۔
افسوس کہ ملکی سیاست اور صحافت میں ایسے لوگوں کی کمی نہیںجو قومی معاملات میں بھی انفرادی اور گروہی تقاضوںکو مقدم سمجھتے ہیں۔ نہیں بھولنا چاہے کہ پاکستان اور اس کی ترجیحات کو اولیت دے کر ہی ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالا جاسکتا ہے ۔ وقت آگیا ہے کہ ہم کنویں کے مینڈک بننے کی بجائے درپیش مسائل کی گہرائی کا ادارک کریں۔
صدر ٹرمپ کا مسلہ کشمیر پر ثالثی کا بیان بھارت کے لیے ایسی خفت بن چکا جسے فوری طور پر ختم کرنا آسان نہیں۔ مثلا سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کیا یہ تاثر دینے کے لیے کوشاں ہے کہ صدر ٹرمپ جھوٹ بول رہے کہ مودی نے انھیں ثالث کی درخواست کی۔ ادھر اپوزیشن راہول گاندھی بھی مودی پر خوب برسے کہ وزیر اعظم مودی نے بھارت کے مفادات کو پس پشت ڈال دیا۔ اس پر آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سنئیر رہنما سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی شکل میں پہلا لیڈر سامنے آیا ہے جس نے تنازعہ کشمیر پر کھل کر بات کی ہے۔ “
اقوام متحدہ سمیت امن کے بین الاقوامی ٹھیکداروں کو جان لینے کی ضرورت ہے کہ ایمٹی قوت کی حامل دوپڑوسی ریاستوں میں دیرینہ تنازعہ حل نہ ہونا علاقائی ہی نہیں بین الاقوامی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔ حیرت وملا ل کا مقام ہے کہ جانوروں کے حقوق کے لیے متحرک ہوجانے والی مہذب ریاستیں جنوبی ایشیاءکے اربوں انسانوں کی جانوں کو درپیش خطرات سے عملی طور پر منہ موڈے ہوئے ہیں۔ یہ مطالبہ ناجائز نہیں کہ صدر ٹرمپ کی ثالثی کی تجویز کو اقوام متحدہ سمیت دنیا کے بااثر ممالک شرف قبولیت بخشیں۔ بھارت سے خیر کی توقع رکھنے والوں کو نہیں بھولنا چاہے کہ نئی دہلی میں مودی برسر اقتدار ہیں جو اسلام ، پاکستان اور مسلمان دشمنی میں پیش پیش ہیں۔ لازم ہے کہ اقوام عالم مقبوضہ وادی میں جاری پرتشدد واقعات سے صرف نظر نہ کرے ، مودی حکومت کے گذشتہ پانچ سال ہوں یا حالیہ چند ہفتے کشمیر میں مسلسل ظلم وستم جاری ہے، چنانچہ صدر ٹرمپ کو مسلہ کشمیر میںثالثی کی پیشکش کرکے خاموش ہوجانے کی بجائے عملابھارت سے بات آگے بڑھانی چاہیں تاکہ دیرینہ تنازعہ کو حل کرکے امریکی صدر سرخرو ہوسکیں۔

Scroll To Top