جس کے ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں پھانسی کا پھندہ ہو ! 13-06-2015


ڈی جی رینجرز کراچی نے اپیکس کمیٹی کو جو تفصیلی بریفنگ دی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں سالانہ230ارب کی غیر قانونی وصولی ہوتی ہے۔ یہ وصولی جبری طور پر کی جاتی ہے اور اس میں فطرانہ اور زکوٰة وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اس مکروہ کاروبار کے ہر سمت میں پھیلے ہوئے جال کی سرپرستی شہرکی ایک بڑی جماعت کرتی ہے۔ سندھ کی بااثر شخصیات بھی حصہ دار ہیں۔ کروڑوں روپے ماہانہ گینگ وار دھڑوں میں تقسیم کئے جاتے ہیں۔ ہر قسم کا مکروہ دھندہ اس غلیظ کھیل کا حصہ ہے۔ اور اس شرمناک داستان کے کرداروں میں پویس اہلکار بھی پوری طرح شامل ہیں۔
تفصیلات آپ اخبارات میں پڑھ چکے ہوں گے۔ اور مجھے یقین ہے کہ اگر آپ محب وطن پاکستانی ہیں۔ جو آپ یقینا ہیں تو آپ اس صورتحال پر کانپ گئے ہوںگے۔ آپ کے اندر خوف کی سنسنی بھی دوڑی ہوگی اور غیظ وغضب کی چنگاریاں بھی پھوٹی ہوں گی۔
آپ یقینا یہ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ اتنے بڑے اور ذمہ دار افسر کے بیان کے بعد کوئی نہ کوئی فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہوگئی ہے۔ شاید آپ یہ بھی سوچیں کہ اسلام آباد یا کراچی سے حکومت کا کوئی نہ کوئی ردعمل ایسا ضرور آئے گا کہ جس سے اندازہ ہو کہ حکمران بھی ان انکشافات کے بعد آنکھیں کھولنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
لیکن اگر حکمران خود بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اس مکروہ کھیل کا حصہ ہیں تو پھر آپ اصلاح احوال کی امید کس سے باندھیں گے ۔
ممکن ہے کہ اللہ اپنا قہر اسی طرح نازل کرنے کا فیصلہ کرلے جس طرح حضرت ہود ؑ` حضرت صالح ؑ` حضرت شعیب ؑ اور حضرت لوط ؑ کی قوموں پر نازل ہوا تھا۔
یا پھر قوم کے اندر سے خدا کوئی مسیحا اٹھائے جس کے ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں پھانسی کا پھندہ ہو۔۔۔۔

Scroll To Top