کاش کہ ہم میاں نوازشریف کو دو درجہ ترقی دے کر کہیں اوپر بٹھا سکتے ! 12-06-2015

بھارتی وزیراطلاعات کے اس بیان کو غیر سنجیدہ بیان بازی کے ذریعے مسترد نہیں کیا جانا چاہئے کہ میانمار میں دہشت گردی کے کیمپوں کے خلاف بھارتی فوج نے جارحانہ کارروائی پاکستان کو ایک واضح پیغام دینے کے لئے کی ہے۔ اس قسم کا غیر سفارتی بیان یا پیغام بغیر کسی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے نہیں دیا جایا کرتا۔ ہمیں اِس بیان کی ٹائمنگ پر بھی نظر رکھنی چاہئے۔ ایک دو روز ہی قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد کی معیت میں پاکستان کو ہی نہیں دنیا بھر کو یاد دلایا تھا کہ دسمبر1971ءمیںبھارت نے ہی سقوطِ مشرقی پاکستان کی سازش کو پایہ تکمیل تک پہنچایا تھا۔
کیا بھارت کوئی اور کھیل کھیلنا چاہتا ہے ؟
اگر نہیں بھی تو بھی ہمیں اس امکان کو نظر انداز کرنے کی غلطی نہیں کرنی ہوگی !
آرمی چیف کا یہ بیان کہ پاکستان بھارتی عزائم کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ` نہایت بروقت اور خوش آئند ہے۔
مگر اس صلاحیت کا عملی ثبوت داخلی سطح پر دیئے جانے کے اقدامات فوری طور پر نظر آنے شروع ہوجانے چاہئیں۔
ہمارے ذرائع ابلاغ اور دیگر کئی اہم شعبوں میں بھارت کے لئے نیک تمناﺅں کے طوفان اپنے اندر چھپائے رکھنے والے اصحاب وافر تعداد میں موجود دکھائی دیتے ہیں۔
میں یہاں کسی کا نام نہیں لوں گا۔ مگر کون نہیں جانتا کہ کون کس کے لئے کام کررہا ہے ؟ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ وطنِ عزیز میں متعدد اصحاب ایسے ہیں جو اسلام آباد سے بھی تنخواہیں لیتے ہیں ` نئی دہلی سے بھی تنخواہیں لیتےہیں اور واشنگٹن سے بھی تنخواہیں لیتے ہیں۔ اسلام آباد سے میری مراد ملک کا ہر وہ شہر ہے جہاں تنخواہیں بانٹنے کے اختیارات رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔
ہماری جوابی کارروائی کا آغاز گھر سے ہی ہونا چاہئے۔ کتنا اچھا ہوتا کہ ہمارے پاس کوئی ایسا مکینزم ہوتا کہ ہم میاںنوازشریف کو دو درجہ ترقی دے کر کہیں اوپر بٹھا دیتے ` اور وہی کرتے جو برطانیہ نے چیمبرلین کی جگہ چرچل کو وزیراعظم بنا کر کیا تھا !

Scroll To Top