شر پسندوں کو قبائلی عوام کی خوشیاں ہضم نہ ہوئیں:ڈی آئی خان خودکش حملہ، 6 پولیس اہلکاروں سمیت 10 جاں بحق

  • خود کش حملے 6 سے 7 کلو بارودی مواد کا استعمال کیا گیا تھا، زخمیوں میں بعض کی حالت نازک ، ہلاکتوںمیں اضافے کا خدشہ
  • صدر ، وزیر اعظم، چاروں وزرائے اعلیٰ ، وزیر خارجہ سمیت دیگر سیاسی رہنماﺅں کی دہشتگرانہ واقعے کی بھرپور مذمت

ڈیرہ اسماعیل خان(الاخبار نیوز) ڈی آئی خان میں پولیس چیک پوسٹ پر فائرنگ اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر اسپتال کے باہر مبینہ خود کش حملے کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔پولیس کے مطابق درابن چیک پوسٹ پر صبح 8 بجے موٹر سائیکل پر سوار دہشتگردوں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار شہید ہوئے، شہید پولیس اہلکاروں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ اسپتال کے مرکزی دروازے پر خودکش بم دھماکا ہو گیا جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد جاں بحق اور 15 افراد زخمی ہو گئے۔بعد ازاں سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ ڈی آئی خان میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد شہید اور 24 زخمی ہوئے۔فردوس عاشق اعوان نے ڈی آئی خان میں ہونے والی تخریب کاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائیوں سے حوصلہ ہارنے والے نہیں ہیں۔دھماکے کے بعد اسپتال کے قریب داخلی اور خارجی راستے بند کر کے شہر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکا ڈی ایچ کیو اسپتال کے ٹراما سینٹر کےمرکزی گیٹ پر ہوا اور زخمی ہونے والے افراد میں پولیس اہلکاروں سمیت بچے بھی شامل ہیں جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ڈی ایس پی افتخار شاہ کے مطابق دھماکا خودکش تھا اور حملہ آور خاتون تھیں جب کہ ڈی پی او سلیم ریاض کا کہنا تھا کہ ہماری ساری توجہ صوبائی الیکشن پر تھی اور بڑی تعداد میں نفری انتخابی ڈیوٹی پر مامور تھی، ایسی صورت حال میں خودکش حملہ آور کا خاتون ہونا غیر متوقع تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور شہر بھر میں سیکیورٹی فورسز کا گشت بھی بڑھا دیا گیا ہے۔دوسری جانب فائرنگ اورخود کش دھماکے میں شہید 4 اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کر دی گئی جس میں کمشنر جاوید مروت سمیت اسٹیشن کمانڈر عمران سرتاج، پولیس افسران اور شہریوں نے شرکت کی ،نماز جنازہ کے بعد پولیس شہدائ کو سلامی پیش کی گئی اور پھر شہداء کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی ادارے امن کے قیام، ملک و قوم کی حفاظت کے لیے جان کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے دھماکے کی مذمت کی اور کہا کہ بزدل دہشت گروں نے ایک بار پھر ڈیرہ اسماعیل خان کو نشانہ بنایا۔پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور نے بھی واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ فائرنگ اور بم دھماکے پاکستانیوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔

Scroll To Top