قبائلی علاقہ جات میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات تاریخی کارنامہ ہےں، محمود خان

  • انتخابات کے پر امن انعقاد پر وزیراعظم عمرا ن خان اور پاک فوج کے کردارکا شکرگزار ہیں، پی ٹی آئی حکومت کی نمایاں کامیابی ہے جو قبائلی عوام کی ترقی کےلئے سنگ میل ثابت ہو گی
  • صوبائی حکومت نے تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی اضلاع کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 162ارب روپے مختص کئے ہیں، وزیر اعلیٰ کے پی کے
      پشاور:۔ وزیر اعلیٰ محمود خان سے اسپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی ملاقات کر رہے ہیں

پشاور(این این آئی)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ قبائلی علاقہ جات میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات ایک تاریخی کارنامہ ہے، جو نہ صرف قبائلی اضلاع بلکہ پورے پاکستان کےلئے خوشی اور مبارکباد کا دن ہے۔ قبائلی علاقہ جات کو ترقی کے قومی دہارے میں شامل کرنا پاکستان تحریک انصاف اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کا ویژن تھا، قبائلی اضلاع میں انتخابات کا پر امن انعقاد بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ،جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائیگا۔ مختلف ٹی وی چینلزپر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں قبائلی اضلاع کی نمائندگی پہلے سے موجود تھی تاہم اب صوبائی اسمبلی میں بھی ان کے نمائندے ہوں گے جو قبائلی عوام کے مسائل کو بہتر اندازمیں پیش کر سکیں گے اور انکی نمائندگی کرےں گے، یہ تحریک انصاف حکومت کی نمایاں کامیابی ہے جو قبائلی عوام کی ترقی کے لئے سنگ میل ثابت ہو گی۔ قبائل کی پسماندگی ماضی کا حصہ بن جائے گی۔قبائلی عوام نے انتخابات میں بھر پور جوش و خروش سے حصہ لیا ہے جو خوش آئند ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت نے انتخابی عمل میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی کیونکہ ہم قبائلی عوام کی توقعات اور خواہشات کی مطابق ان کی ترقی کے خواہاں ہیں ۔ ہم چاہتے تھے کہ قبائلی عوام کے نمائندے شفاف طریقے سے اسمبلی میں آئیں اور جو بھی نمائندے آئیں وہ اپنا کردار اچھے طریقے سے ادا کریں۔ ضم شدہ اضلاع کیلئے ترقیاتی حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی اضلاع کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 162ارب روپے مختص کئے ہیں ، اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان اور پاک فوج کے کردارکا شکریہ ادا کرتے ہے۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخوا پہلا صوبہ ہے جس نے اپنے این ایف سی ایوارڈ میں سے 11ارب روپے قبائلی علاقہ جات کو دئےے ہے ۔ باقی صوبوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ بھی اس میں اپنا حصہ ڈالےں۔ محمود خان نے واضح کیا کہ قبائلی اضلاع قومی دہارے میں شام ہو چکے ہیں ، اب ان کو ترقی ملے گی۔ ہم نے قبائلی اضلاع کے لئے دس سالوں پر مشتمل ترقیاتی حکمت عملی وضع کی ہے ۔ ترقیاتی حکمت عملی کی تشکیل میں تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی ہے اور اس کو مدنظر رکھ کر پلان وضع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی پلان میں تعلیم اور صحت کے اہم منصوبے شامل ہے ، پانی کی سکمیں ہیں ، ایریگیشن ، روڈز، بجلی اور دیگر تمام شعبوں کیلئے قابل عمل منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ آزاد مانیٹرنگ یونٹس بھی قبائلی اضلاع میں کام کر ر ہے ہےں ، سکولوں اور ہسپتالوں کا ڈیٹاتقریباً ہمارے پاس آچکا ہے آئندہ جتنے بھی ترقیاتی و فلاحی اقدامات ہو ں گے ان میں شفافیت ہوگی، آنے والا وقت قبائل عوام کے لئے خوش آئند ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے تما م اداروں کو نئے اضلاع تک توسیع دی جا چکی ہے جو چیک اینڈ بیلنس کا نظام دیگر اضلاع میں موجود ہے وہی نئے اضلاع میں بھی ہو گا۔ امید ہے کہ بتدریج بہتری کیطرف جائےں گے اور یہ علاقے ترقی کرےں گے ۔محمود خان نے کہاکہ قومی دہارے میں شامل ہونے کے ثمرات قبائلی اضلاع کو ملنا شروع ہو چکے ہےں۔ تمام قبائلی خاندان صحت سہولت پروگرام سے مستفید ہوں گے، صحت انصاف روزگار سکیم کا اجراءکیا گیا ہے جس سے قبائلی نوجوانوں کو قرضے فراہم کریں گے تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کر سکےں۔ انہوں نے کہا کہ تجارت کے حوالے سے قبائلی اضلاع خصوصی اہمیت رکھتے ہےں جن کے ذریعے افغانستان اور وسطی ایشیاءتک باہمی تجارت کو فروغ مل سکتا ہے۔ قبائلی اضلاع میں خواتین کی ترقی کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ قبائلی اضلاع سے ہی خواتین بھی صوبائی اسمبلی میں نمائندگی کرےں گی جو وہاں کی خواتین کی بہتری اور ان کے حقوق کا دفاع کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گی اس کے علاوہ صوبے میں موجود ویمن ایمپاورمنٹ کے پروگرام کے ذریعے بھی ان کو مضبوط کریں گے ، جو نظام ہمارے پاس موجود ہے وہی نظام نئے اضلاع میں لاگو ہوگا اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائیگا۔ قبائلی علاقہ جات کے انتخابات در حقیقت پورے پاکستان کے انتخابات ہیں کیونکہ اس کے مثبت اثرات پورے پاکستان پر مرتب ہوں گے۔ قبائلی اضلاع پاکستا ن کا حصہ ہےں ان کے صوبے میں انضمام سے پورے پاکستان میں اچھا اور مثبت تاثر جا رہا ہے ہم قبائلی عوام کی ترقی اور انضمام کی مخالف سرگرمیوں کا مقابلہ کریں گے۔

Scroll To Top