یہ بات عمران خان کی سمجھ میں کب آئے گی ؟ 10-06-2015

میں مایوسی کو گناہ کبیری ٰ سمجھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتوں سے مایوس ہونا میرے نزدیک کفر سے کم نہیں۔ مگر مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی باک نہیں کہ میں موجودہ نظام اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والی قبیح سچائیوں سے اس حد تک مایوس ہوگیا ہوں کہ اب میرے ہاتھ دُعا کے لئے بھی اٹھ نہیں پا رہے۔
گلگت بلتستان کے انتخابات کے بعدجس ڈھٹائی کے ساتھ نون لیگی لیڈروں نے ” فتح عظیم “ کا اعلان کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ عوام نے حق کو سربلند اور باطل کو سرنگوں کردیا ہے ’ اس کے بعد اس نظامِ فاسد کے ساتھ کوئی امید وابستہ کرنا ہوش وخرد کے تمام تقاضوں کا تمسخر اڑانا ہے۔
حضرت موسیٰ(علیہ السلام) تو نبی تھے۔ انہیں فرعون کا مصر چھوڑنا پڑا تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی ہجرت کے بعد تاریخ کی دوسری بڑی ہجرت ہوئی تھی۔ دوسری بڑی ہجرت کے بعد بنی نوع انسان کو تیسری ہجرت کے لئے مزید کئی صدیاں انتظار میں گزارنی پڑی تھیں۔
آخر فرعون کے نظام میں رہ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ” نفاذِ نظامِ خداوندی“ کیوںناممکن تھا۔؟
آخر کیا وجہ تھی کہ خدائے بزرگ و برتر کی حاکمیت کے لئے آپﷺ نے اپنا گھر چھوڑ کر ایک نئی سرزمین کواپنا وطن بنایا تھا؟
بدی کے نظام کی کوکھ ہمیشہ بدی کو جنم دیتی ہے۔
اور ہم بدی کے نظام سے فلاح کی فصل اگانا چاہتے ہیں۔
ہمارے لئے ہجرت ضروری نہیں۔
ہجرت ہم نے کرلی ہے۔
اب ضرورت اس نظام سے ٹکر لینے کی ہے جس کے تمام ستون، جس کی تمام فصیلیں اور جس کے تمام دروازے ” حاکمیتِ فرعون “ کا تحفظ کرتے ہیں۔ فرعون کسی فرد کا نام نہیں۔ ایک رویے کا نام ہے۔ اور اس رویے نے ہماری تقدیر کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
گلگت بلتستان کے انتخابات نے قوم پر واضح کردیا ہے کہ اس نظام کے اندر رہ کر ہم اِس نظام کو شکست نہیں دے سکتے۔ اس نظام پر یلغار باہر سے ہوگی تو اس کے دروازے ٹوٹیں گے، اس کی دیواریں گریں گی اور اس کے ستون زمین بوس ہوں گے۔
یہ بات عمران خان کی سمجھ میں کب آئے گی ؟

Scroll To Top