اگر ہم نے ان زبانوں کو نہ کاٹا تو تاریخ میں ہم بھی پاکستان کے مجرم شمار ہوں گے 30-12-2009

دنیا کی جدید سے جدید ` لبرل سے لبرل اور جمہوری سے جمہوری مملکت بھی اپنے غداروں کو معاف نہیں کرتی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب سرمایہ دارانہ نظام کے علمبردار امریکہ ` اور اشتراکیت کے مشعل بردار سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ شروع ہوئی تو امریکہ میں بائیں بازو کی سوچ رکھنے والے ہر شخص کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جانے لگا اور سنیٹر میکارتھی کی قیادت میں سرمایہ دارانہ نظام کی عظمت کے نقیبوں نے اس نظام کے تمام ناقدین کو ” غداری“ کے زمرے میں شامل کرنا شروع کردیا اور روزن برگ جیسے کئی لوگوں کو امریکہ دشمنی کے الزام میں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان کو کبھی یہ دعویٰ نہیں رہا کہ اسے لبرلزم اور جمہوریت وغیرہ کا گہوارہ بنانے کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ پاکستان کی اساس اسلام تھی۔ بالکل اسی طرح جس طرح امریکہ کی اساس سرمایہ دارانہ نظام ہے۔
اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ امریکہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے دوسرے پرچم بردار ممالک نے ” جمہوریت“ کو ایک خاص انداز میں اختیار ہی اس لئے کیاہے کہ ایک مخصوص سرمایہ دار اور حکمران طبقے کو ہمیشہ برسراقتدار رکھاجاسکے۔
اپنی تمام تر جمہوری اور لبرل پہچان کے باوجود امریکہ اپنے ایسے شہریوں کی حب الوطنی کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھتا ہے جو اس کے سرمایہ دارانہ تشخص کو چیلنج کرتے ہیں۔ میں پورے دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ کسی بھی امریکی کو امریکی مفادات کے خلاف آواز بلند کرنے یا امریکی تشخص کے بارے میں تحقیر آمیز رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
اب ہمارے لئے بھی سوچنے کا وقت ہے۔ ہمیں پاکستان کے بارے میں سوالات اٹھانے والوں ` پاکستانی تشخص کی توہین کرنے والوں اور پاکستان کی سا لمیت کو کسی بھی انداز میں چیلنج کرنے والوں کے ساتھ نمٹنے کے لئے بے لچک لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔
پہلے پنجاب کے راجہ ریاض نے پاکستان کو توڑ ڈالنے کی دھمکی دی۔ پھر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے فرما دیا کہاگر زرداری صاحب ” پاکستان کھپے“ نہ کہہ دیتے تو وہ پاکستان کو توڑ ڈالنے کے لئے میدان میں کود پڑتے۔ اور بلوچستان سے ہمیں اس قسم کی دھمکیاں اکثر سنائی دیا کرتی ہے۔
اگراس قسم کی بات ببانگ دہل کہنا غداری نہیں تو پھر غداری اور کیا ہوتی ہے ؟
اور غداروں کے ساتھ کیا سلوک کیا جانا چاہئے اس کا فیصلہ آنحضرت نے بنو قریظہ کے تاریخی مقدمے میں کردیا تھا۔
اگر ہم نے ایسی زبانیں کاٹ ڈالنے میں کوتاہی سے کام لینے کی روش جاری رکھی جو پاکستان کو توڑنے کی بات کرتے وقت کوئی خوف محسوس نہیں کرتیں تو ہم بھی تاریخ میں پاکستان کے مجرم شمار ہوں گے۔۔۔

Scroll To Top