اے قائد آپ خوش قسمت ہیں کہ آج آپ ہم میں موجود نہیں۔۔۔

(یہ کالم25دسمبر2009ئ کو چھپا تھا مگر یوں لگتا ہے کہ جیسے میں نے اسے آج ہی لکھا ہو ۔۔۔ملاحظہ فرمائیں)

آج اگر بابائے قوم بقید حیات ہوتے ` یا قدرت انہیں عالم بالا سے مملکت خداداد پاکستان کے حالیہ منظر نامے کا جائزہ ” چشم بصیرت“ سے لینے کا اختیار دے دیتی تو ایوان ہائے اقتدار کے مختلف مکینوں کو دیکھ کر ان کی حالت یا کیفیت کیا ہوتی ؟
سب سے پہلے تو ان کا سابقہ ” این آر او“ اور اس کے مضمرات سے پڑتا۔ پھر ان کی نظروں سے معاف کرائے گئے قرضوں کی فہرست گزرتی۔ سوئس بینکوں کے کیسز کا جائزہ تو وہ یقینی طور پر لیتے۔ اگر ان کے ساتھ دماغی صلاحیتوں کی پیمائش کرنے والا کوئی ماہر ہوتا تو وہ اس سے یقینا کہتے کہ ملک کے تمام لیڈروں کا ” آئی کیو “ لیول چیک کرو اور بتاﺅ کہ ان میں کون کون کس کس شعبے میں اپنی قابلیت کے جوہر منوانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وہ کس کس ” قائد“ ۔۔۔ کس کس ” صدر“ ۔۔۔ کس کس ” چیئرمین “ اور کس کس وزیر با تدبیر کودیکھ کر انگشت بدنداں ہوئے بغیر نہ رہتے!
کیا وہ اپنے آپ سے یہ نہ پوچھتے کہ یہ ملک کیسے چل رہا ہے ۔ یہاں تو ہر شخص کو خزانوں کی تلاش ہے۔ نظر آئیں تو اٹھا کر ہڑپ کرلیں۔!
اگر کسی کو بھی او لیول یا اے لیول کا امتحان دوبارہ دینا پڑے تو ممتحن حضرات انگشت بدنداں ہو کر رہ جائیں۔
سب ایک دوسرے سے پوچھیں۔ کیا کوئی گاڑی انجن کے بغیر چل سکتی ہے ؟ اگر نہیںتو پھر یہ پاکستان کیسے چل رہا ہے۔؟
اے قائد۔۔۔ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ ہمارے درمیان موجود نہیں۔ آپ کو وہ سب کچھ دیکھنے کا کرب محسوس نہیںکرنا پڑ رہا جس سے آپ کو یاد کرنے والی یہ قوم گزر رہی ہے۔۔۔

Scroll To Top