عوام کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی اب محض خواب نہیں رہا

  • آصف سعید کھوسہ کے بعقول فوجداری مقدمات میں جھوٹی گواہی اور التواءدوبڑے مسائل ہیں
  • 1861میں متعارف کروایا جانے والا پولیس نظام نو آبادیاتی نظام کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا
  • دراصل محکمہ پولیس صرف اور صرف انفرادی اور گروہی مفادات کے حصول کے لیے استمال کیا جاتا رہا
  • اہل سیاست پولیس کے زریعہ مخالفین کاجینا حرام کرتے ہیں تو ووٹروں کا جائز وناجائز بھی کیا جاتا ہے

چیف جسٹس آف پاکستان نے مقدمات کی تفتیش کو بہتر بنانے کے لیے پولیس کی خودمختاری کی ضرورت پر زور دیا ہے ، کراچی میں پولیس ہیڈ آفس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ فوجداری مقدمات میں جھوٹی گواہی اور التواءکے حربے دوبڑے مسائل ہیں،اگر کوئی ملزم بری ہوتا ہے یا اس کی ضمانت ہوتی ہے تو ان مقدمات پر تحقیق کی ضرورت ہے ۔ “
لارڈ میکالے نے ایک بار کہا تھا کہ ہمیں ہندوستان میں ایسی نسل تیار کرنے کی ضرورت ہے جو اپنے خون اور رنگت میں ہندوستانی ہو مگر اپنے مزاج کے اعتبار سے برطانوی بن چکی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ 1861میں متعارف کروایا جانے والا پولیس نظام نو آبادیاتی نظام کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا۔ عملا اس نظام کے تحت قائم پولیس اسٹیشن کا مقصد لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کی بجائے جاگیردانہ نظام کی حفاظت کرنا تھی۔ افسوسناک سچائی یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد بھی نوآبادیاتی تھانہ کلچر کو جاری وساری رکھا گیا۔ اس مجرمانہ کوتاہی کا غلطی کا نتیجہ یہ نکلا کہ پولیس پر جاگیردانہ اشرفیہ کی گرفت مذید مضبوط ہوئی جبکہ یہ امید بھی دم توڈ گی کہ آزادی کے بعد پولیس حاکم نہیںعوام کی خادم کا کردار نبھائے گی۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور پولیس آرڈر 2002 متعارف کروایا گیا جس کے نمایاں نکات یہ تھے کہ پولیس کی کارکردگی کی وفاقی اور صوبائی پبلک سیفٹی کے زریعہ عوامی نگرانی ، پولیس کے محکمہ سے سیاسی مداخلت کا خاتمہ بالخصوص تقریوں ، تعیناتیوں اور تبادلے کی شکل میں ، سیٹرن پولیس لائثرن کمیٹوں کے زریعے کمیونٹی پولیسنگ کے نظام کی ترویج ، پولیس کمپلینٹ اتھارٹی اور پبلک سیفٹی کمیشنوں کے زریعہ بیرونی احتساب کا نظام بنانا شامل تھے ۔
ریکارڈ پر ہے کہ مذکورہ پولیس آرڈ کی مخالفت سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ افسر شاہی نے بھی کی ۔ وجہ یہ کہ اہل سیاست کے ساتھ بیوروکریسی بھی نہیں چاہتی تھی کہ محکمہ پولیس ان کے اثر سے آزاد ہو۔ ملک کا طاقتور طبقہ سیاست دانوں کی شکل میں ہی نہیں افسر شاہی کی صورت میںبھی موجود ہے ۔ یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ بیورو کریسی میں زیادہ تر افسران طاقتور سیاسی خاندانوں سے ہیں جو ہرگز عوامی بھلائی کی کوئی بھی صورت پیدا نمایاں ہونے کے حق میں نہیں۔
وطن عزیز کا المیہ یہ ہے کہ محکمہ پولیس طاقتور افراد کے ہاتھوں میں ایسے ہتھیار کی شکل میں موجود ہے جسے صرف اور صرف انفرادی اور گروہی مفادات کے حصول کے لیے استمال کیا جاتا ہے ۔ سیاست ہی نہیں معاشرتی سطح پر وہی شخص ”قابل احترام “ ہے جو کسی ی پگڑی اچھالنے میں زرا دیر نہ لگائے۔ اس راز سے تو ہم سب واقف ہے کہ ہر ایم این اے اور اپم پی اے میں منتخب نمائندوں کی کامیابی کا معیار یہی ہے کہ وہ اپنے عالاقے میں کتنے ایس ایچ او کا تبادلہ یا تقرر کروانے کا اختیار رکھتا ہے ۔ سیاست دان پولیس کو ہاتھ میں لے کرجہاں اپنے مخالفین کاجینا حرام کرتے ہیں وہی ووٹروں کے جائز و ناجائز کام کرنے میں بھی زرا دیر نہیں لگائی جاتی۔
چیف جسٹس آف پاکستان کے خیالات کو اس درد دل مند پاکستانی کی آواز سمجھنا چاہے جو پاکستان میں سستے اور فوری انصاف کے حصول کے لیے کمربستہ ہے ۔یہ تسلیم کرنے میں حرج نہیں کہ ملکی نظام عدل کارگردگی کی عملا اس معراج کو نہیں پہنچا جس کی بجا طور پر ضرورت ہے ، حقیقت یہ ہے کہ آج محکمہ پولیس کی کارکردگی عدالتوں کے مسائل کم کرنے کی بجائے بڑھا رہی ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ وکلا مقدمات میںتاخیری حربہ استمال کرنے کی بجائے فوری اور سستے انصاف کی فراہمی میں کسی غفلت کا مظاہرہ نہ کریں۔
ایک سوال یہ ہے کہ کس حد تک امکان ہے کہ عدالت عظمی کی جانب سے پولیس میں بہتری لائی جاسکتی ہے ؟ یقینا یہ سب کچھ آسان نہیں۔ قومی ، صوبائی حتی کہ سینٹرز بھی سٹیٹس کو کا حصہ ہیں ،رائج نظام کو اپنے حق میں موڈنے کے لیے کئی دہائیوں سے ایسے اقدمات اٹھائے جاتے رہے جس نے خواص کے مفاد کو طاقتور جبک کمزور کو مذید کمزور کرڈالا۔ یقینا ستر سال سے جاری بدترین رججانات کو تبدیل کرنا آسان نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ پولیس میں اصلاحات کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیںرہا۔ پاکستان تحریک انصاف کے لیے سٹیٹس کو کو توڈنے کا وقت آن پہنچا۔ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو یہ کریڈٹ ضرور دیا جاسکتا ہے کہ وہ ان معاملات کی بہتر ی کا مقدمہ عوام کے سامنے پیش کررہے جنھیں ماضی میں نظرانداز کیا جاتا رہا چنانچہ اس رججان کو پیش نظر رکھ یہ امید کرنا خلاف حقیقت نہ ہوگا کہ عوام کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی اب محض خواب نہیں رہے۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ نطام عدل میں تاخیر کا زمہ دار چونکہ عدالتوں کو سمجھا جاتا ہے چنانچہ فوری طور پر عدل کی فراہمی یقینی بنانا ہوگا۔ چیف جسٹس آف پاکستان کا خطاب یہ بھی بتا رہا کہ ججز ہی نہیں ملک کا ہر باشعور شہری یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ کیوں اور کیسے ملک عدالتوں پر سے عوام کا اعتمار اٹھتا جارہا۔ دراصل آج (باقی صفحہ7 بقیہ52

حکام کے لیے موقعہ ہے کہ وہ آگے بڑھ کر ان خامیوں پر قابو پانے کی سنجیدہ کوشش کریں جو خبیر تا کراچی عام آدمی کو ستے اور فوری انصاف کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔

Scroll To Top