آئین مل کر اس قوم کی نیّاپارلگائیں ! 09-06-2015

میاں نوازشریف کے اندازِ حکمرانی پر اچنبھے میں نہ پڑنا ذرا مشکل کام ہے۔ بظاہر انہیں جنرل پرویز مشرف کے نام سے بھی الرجی ہے۔ لیکن جنرل صاحب کے کیسے کیسے منظورانِ نظر نے میاں صاحب کے دل میں اشتیاقِ قرب پیدا کیا ہے !اُردو کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں ” کی “ اور ” کے “ کا فرق زبان میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ انگریزی میں ” کی “ اور ” کے “ آپس میں مل جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اُردو میں ” ایان علی “ کسی ” کی “ منظور نظر ہو گی اور ” رحمان ملک “ کسی ” کے “ منظور نظر ہوں گے۔ انگریزی میں کہا جائے گا۔
Someone’s favourites
انگریزی میں کتنی آسانی ہے۔ جنس یا Gender کا فرق کھل کر سامنے نہیں آتا۔میں نے یہ لمبی تمہید محترمہ ماروی میمن اور محترم ہارون اختر کو سامنے رکھ کر باندھی ہے۔ ماروی صاحبہ کبھی جنرل پرویز مشرف کی منظورِ نظر تھیں اب میاں نوازشریف کی منظورِ نظرہیں۔ اس حد تک کہ انیں اگلے بجٹ میں 104ارب روپے کی خطیر رقم اپنے ” مبارک “ ہاتھوں سے تقسیم کرنے کا اختیار ہوگا۔
ہارون اختر پہلے جنرل پرویز مشرف کے منظورِ نظر تھے۔ اب وہ بجٹ کے بعد والی پریس کانفرنس کے دوران اسحق ڈار کے پہلو میں بیٹھے دیکھے گئے۔
یہ منظر مسلم لیگ(ن)کی صفوں میں کھلبلی مچا دینے کے لئے کافی تھا۔ نون لیگیوں میں ایسے یا ایسی صاحبان یا صاحبات کی کمی نہیں ہوگی جن کی نظریں کسی وزارت یا اعلیٰ عہدے پر ہوں گی۔ مگر وزیراعظم صاحب کی نظر ِعنایت جنرل پرویز مشرف کے سابق منظور انِ نظر پر ہمیشہ زیادہ تواتر کے ساتھ پڑتی ہے۔ زاہد حامد تو خیر سے ایمرجنسی پلس کے خالق تھے۔
مجھے اچنبھا نہیں ہوگا کہ کسی روز جنرل پرویز مشرف کو وزیراعظم صاحب کا فون موصول ہو۔۔۔
” کیسے ہیں جنرل صاحب ؟ آئیں غصہ تھوکیں اور گلے مل جائیں۔ زرداری صاحب اگر مجھ سے بغلگیر ہو سکتے ہیں تو آپ تو پھر بھی اپنے ہیں۔ آپ کو یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔۔۔ میں نے ہی آپ کو اپنا سپہ سالار بنایا تھا۔۔۔ آئیں مل کر اس قوم کی ”نیّا پار لگائیں۔۔۔“

Scroll To Top