بیرون ممالک سے سفارشیں آرہی ہیں :جو مرضی کرلیں احتساب نہیں رکے گا: وزیر اعظم کا اپوزیشن کو دو ٹوک جواب

  • اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر موقع ملا تو ملک کو لوٹنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا، جب تک احتساب نہیں ہوگا ملک آگے نہیںبڑھے گا، چین کی ترقی کی ایک وجہ کرپشن پر ساڑھے چارسو وزیروں کو جیل میں ڈالنا بھی ہے، عمران خان کا ہسپتال کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب
  • پیسہ چوری کرکے جو ناجائز جائیدادیں بنائی گئیں، وہ ضبط کریں گے چین کے ساتھ ریلوے کے ایم ایل ون کا ایم او یو سائن کیا ہے، ایم ایل ون سے کراچی سے لاہور کا سفر صرف 8 گھنٹے کا ہوجائے گا،میانوالی ایکسپریس کے افتتاح کے موقع پر خطاب

میانوالی(این این آئی+الاخبار نیوز)وزیراعظم عمران خان نے انکشاف کیا ہے کہ بیرون ملک سے سفارشیں آرہی ہیں ، جو مرضی کرلیں احتساب نہیں رکے گا ،اللہ سے وعدہ کیا تھا ایک موقع ملے تو ملک کو لوٹنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا، بڑا شور مچا ہے کہ فلاں پکڑا گیا اور فلاں کو پکڑا جارہاہے ، جب تک احتساب نہیں ہوگا ملک آگے نہیںبڑھے گا، ان لوگوں نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا اور کہتے ہیں جواب نہیں دیں گے، جواب ہم لیں گے اور قوم لے گی ،کرپشن اور منی لانڈرنگ ہوگی تو ڈالر اوپر جائے گا، ہم کرپشن ختم کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے اور کسی صورت احتساب کے عمل پر سمجھوتا نہیں کریں گے،اب حالات سنبھلتے جارہے ہیں، آپ دیکھیں گے پاکستان اوپر جائےگا۔ جمعہ کو یہاں ہسپتال کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میانوالی میں جدید ہسپتال سے یہاں کے عوام کو فائدہ ہوگا، میانوالی ہسپتال کو بھی اپ گریڈ کریں گے، میانوالی میں ماں بچہ ہسپتال بنائیں گے، دنیا اس شخص کو یاد رکھتی ہے جو انسانوں کے لیے کچھ کرجائے۔عمران خان نے کہا کہ انسانیت کی بھلائی کرکے انسان کو روحانی خوشی ملتی ہے، جب اس ہسپتال میں مریض آئیں گے وہ آپ کو دعائیں گے تو آپ کو سکون ملے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کبھی امیر آدمی کو یاد نہیں کرتی بلکہ انہیں یاد کرتی ہے جو انسانیت کےلئے کچھ کرجاتے ہیں ، مدر ٹریسا کو دنیا یاد کرتی ہے، گنگا رام ، گلاب دیوی کے نام سے ہسپتال ہیں انہوں نے انسانیت کے لیے کام کیا۔انہوں نے کہا کہ برصغیر میں جو اسلام پھیلا تو بڑے بڑے صوفی تھے، وہ انسانیت کی خدمت کرتے تھے آج بھی ان کے مزاروں پر عرس پر چلے جائیں لاکھوں لوگ نظر آئیں گے، کتنے بادشاہوں کے مزاروں پر لوگ نظر آتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ جو انسانوں کے لیے کچھ کرتا ہے اسے دنیا میں عزت ملتی ہے اور دنیا سے جانے کے بعد بھی عزت ملتی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ایک وقت تھا میانوالی میں مفرور بستے تھے یہ علاقہ ایسا تھا جہاں کوئی نہیں آتا تھا، ہم نے میانوالی میں ٹیکنیکل کالج بنانے کا سوچا تھا لیکن یہ خوبصورت جگہ دیکھ کر ہم نے یونیورسٹی بنانے کا سوچا تھا۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی بنانے کا مسئلہ تھا کہ دیہاتوں میں فیکلٹی نہیں آتی، پہلے نمل میں 11 پی ایچ ڈیز تھے آج یہاں 22 پی ایچ ڈیز آچکے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ نمل میں 97 فیصد طلبا کو اسکالر شپ ملی ہیں جن میں سے 80 فیصد اردو میڈیم ہیں، نمل سے گریجویٹ کرنے والے 92 فیصد طلبا کو فوراً نوکریاں مل جاتی تھیں۔وزیراعظم نے کہا کہ نمل کو توسیع دینے اور اس علاقے کو سہولیات دینے کے لیے ہسپتال قائم کیا جارہا ہے جس سے نالج سٹی کا وڑن آسانی سے پورا ہوسکے گا۔انہوں نے کہا کہ مغربی پنجاب کے علاقے بہت پیچھے رہ گئے، کوشش ہے میانوالی جیسے پیچھے رہ جانے والے علاقوں کو آگے لائیں۔انہوںنے کہاکہ یہ حکومت کا پیسہ نہیں انیل مسرت کا ہے، حکومت مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال میں پیسہ لگائےگی۔وزیراعظم نے انیل مسرت سے مکالمہ کیا اور چیئرمین پیپلزپارٹی پر ہلکی پھلکی تنقید کی انہوں نے کہا کہ انیل مسرت کہتے ہیں ان کی اردو اچھی نہیں تاہم ان کی اردو بلاول بھٹو زرداری سے بہتر ہے۔عمران خان نے کہاکہ بڑا شور مچا ہے کہ فلاں پکڑا گیا اور فلاں پکڑا جارہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ چین کی ترقی کی ایک وجہ کرپشن پر ساڑھے چارسو وزیروں کو جیل میں ڈالنا بھی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ملک کا قرضہ 60 سال میں 6 ہزار ارب ہوتا ہے اور 10 سال میں وہ 30 ہزار ارب پر چلا جاتا ہے ایسا کیا کیا ہے کہ 24 ہزار ارب قرضہ چڑھ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 3 میٹروز جو بنائی گئی ہیں وہ ہر سال 12 ارب کا نقصان کریں گی۔وزیر اعظم نے کہاکہ انیل مسرت سے پوچھیں پہلے کیوں پاکستان نہیں آتے تھے، سب کہیں گے کہ ہم کرپشن کی وجہ سے پہلے پاکستان نہیں آتے تھے، اورسیز پاکستانی سب سے زیادہ پاکستان کا درد رکھتے ہیں، ان سے پوچھیں کیوں پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کرتے تھے جواب ملتا ہے کہ وہاں کرپشن تھی۔انہوں نے کہاکہ ملک کے اندر ایسا کیا کام کیا گیا کہ 10 سال میں 24 ہزار ارب روپے قرض چڑھا، یہ پیسہ جن کی جیبوں میں گیا جب تک ان کا احتساب نہیں ہوگا ملک آگے نہیں بڑھے گا، یہ بڑی دھمکیاں دیتے ہیں، میں 22 سال سے اس ایک موقع پر انتظار کررہا تھا، اللہ سے وعدہ کیا تھا ایک موقع ملے، ملک کا پیسے کھانے والوں کو نہیں چھوڑوں گا، ان حالات کے ذمہ دار لوگوں کا جب تک احتساب نہیں ہوگا یہ چوری نہیں رکے گی۔عمران خان نے کہاکہ آج تک صرف چھوٹے پٹواری کو پکڑ کر احتساب کیا جاتا تھا، احتساب چھوٹے چوروں کو پکڑنے سے نہیں طاقتوروں کو پکڑنے سے ہوتا ہے، یہ جن کیسز میں پکڑے جارہے ہیں یہ ہم نے نہیں بنائے، ہم نے اداروں کو آزاد چھوڑا دیا ہے وہ جس کو چاہیں کرپشن میں پکڑیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ان لوگوں نے مجھے بیرون ملک سے بھی سفارشیں بھجوائی ہیں، یہ جو مرضی کرلیں، احتساب ہوکر رہے گا، احتساب کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، آج طاقتور کو قانون کے دائرے میں لارہے ہیں، یہ کہتے ہیں انتقامی کارروائی ہے، انتقامی کارروائی تو میرے خلاف ہوئی تھی، میں نے جب پانامہ کی بات کی تو 2 کیسز اور 32 ایف آئی آرز درج کی گئیں، میں نے ان کیسز کا عدالت میں سامنا کیا، عدالت میں دستاویزات دیں اور اس کے بعد عدالت نے مجھے صادق اور امین کہا۔وزیر اعظم نے شریف فیملی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے عدالت میں ایک بھی مصدقہ کاغذ پیش نہیں کیا اور شور مچارہے ہیں کہ انتقامی سیاست ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا اور کہتے ہیں جواب نہیں دیں گے، جواب ہم لیں گے اور قوم لے گی جواب، جتنا چاہیں شور مچائیں، لوگوں میں خوف تب آئےگا جب بڑے پکڑے جائیں گے، جب طاقتور کا احتساب کریں گے تو لوگ خوفزدہ ہوں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ جب لیڈر شپ کرپشن کرے گی تو پھر سب کریں گے، کرپشن اور منی لانڈرنگ ہوگی تو ڈالر اوپر جائے گا، ہم کرپشن ختم کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے اور کسی صورت احتساب کے عمل پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اب حالات سنبھلتے جارہے ہیں، اب آپ دیکھیں گے پاکستان اوپر جائے گا۔ دریں اثناءوزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرپٹ افراد کی بے نامی جائیداد ضبط کرکے غریبوں پرخرچ کریں گے.ان خیالات کا اظہار انھوں نے میانوالی ایکسپریس کے افتتاح کے موقع پر کیا. ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد یہی ہے کہ عام آدمی کے لئے آسانی پیدا کی جائے.وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت ملی، تو ملک مقروض تھا، مگر اب آسانیاں ہوگئی ہیں، ہمیں قرضوں کی قسطیں دینے کے لئے مزید قرضے لینے پڑے، قرضوں پر سود دینے کے لئے قرضے لینے پڑے، مشکل وقت تھا.انھوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ریلوے کے ایم ایل ون کا ایم او یو سائن کیا ہے، ایم ایل ون سےکراچی سے لاہور کا سفر صرف 8 گھنٹے کا ہوجائے گا، ایم ایل ون پاکستان میں انقلاب لائے گا.انھوں نے کہا کہ میانوالی نے مجھے تب جتایا، جب کہیں سے بھی ووٹ نہیں ملے، پیچھے رہ جانے والے علاقوں کو ہمیں اوپر اٹھانا ہے، اسپتال ٹھیک کرنے ہیں، پانی کا مسئلہ بھی حل کرنا ہے، حکومت کے 5 سال پورے ہونے پر آپ دیکھیں گے کہ میانوالی کیا تھا اور اب کیا بننے جا رہا ہے.میرا وعدہ تھا حکومت میں آکر بدعنوانی ختم کروں گا، پیسہ چوری کرکے ناجائز جائیدادیں بنائی گئیں، وہ ضبط کریں گے، ناجائز جائیدادوں کا پیسہ احساس پروگرام میں لگایاجائے گا.انھوں نے کہا کہ جتنی دھمکیاں دینی ہے دیں، احتساب پرسمجھوتا نہیں ہوگا، جو پیسہ منی لانڈرنگ پر بیرون ملک گیا وہ بھی واپس لائیں گے، کرپشن کےپیسوں سےبیرون ملک بنائی گئی جائیدادوں کا سراغ لگا لیا، جنھیں ضبط کیا جائے گا.

Scroll To Top